کامیابی میں رکاوٹ بننے والے چھ خوف - علی حسین

خوف ذہنی کیفیت کانام ہے۔ ہر شخص کسی نہ کسی خوف میں ضرور مبتلا ہوتا ہے تاہم زیادہ ترلوگوں نے حقیقی خوف کے بجائے فرضی خوف پالے ہوتے ہیں۔ جب بندہ حالتِ خوف میں ہوتا ہے تو اس وقت ذہن کے خلیوں کو پورا خون اور آکسیجن نہیں ملتا جس کی وجہ سے وہ بہتر طور پر کام نہیں کرتے۔ ایک ریسرچ کے مطابق ٪98 خدشات بےمعنی اور فرضی ہوتے ہیں جبکہ صرف ٪ 2 خدشات پورے ہوتے ہیں۔ ماہرین نفسیات کے مطابق خوف زدہ انسان کے نظریات اور پختہ عقائد ہوتے ہیں جو اس کو خوف سے باہر نہیں نکلنے دیتے، اگر ان کو بدل دیا جائے تو خوف دور ہو جاتا ہے۔

انسان کی کامیابی میں چھ طرح کے خوف رکاوٹ پیدا کرتے ہیں، وہ چھ خوف بالترتیب یہ ہیں۔

1۔ غربت کا خوف
جو بندہ اس خوف کا شکار ہوتا ہے، عام طور پر اس میں لگن کی کمی ہوتی ہے، وہ مفلسی کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے، ذہنی اور جسمانی سستی اس پر غالب ہوتی ہے۔ اس خوف کا شکار لوگوں میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی بلکہ ان کے فیصلے دوسرے لوگ کرتے ہیں، ایسے لوگ ہر وقت یہ سوچتے رہتے ہیں کہ کام کروں یا نہ کروں۔ ایسے لوگ اپنی ناکامیوں کے بہانے تلاش کرتے رہتے ہیں، اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالتے ہیں اور کامیاب لوگوں پر حسد کرتے ہیں۔ یہ دوسروں میں غلطیاں تلاش کرتے ہیں اور اپنی آمدنی سے زیادہ خرچ کرتے ہیں، ان میں آج کا کام کل پر ڈالنے کی عادت ہوتی ہے۔

2۔ تنقید کا خوف
عام طور پر اس خوف میں مبتلا لوگوں میں گھبراہٹ ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں میں دوسروں سے ملنے کا حوصلہ نہیں ہوتا۔ ان کی آواز کپکپاہٹ ہوتی ہے۔ دوسروں کی موجودگی سے گھبراتے ہیں۔ دوسروں کی رائے سے فورا متفق ہو جاتے ہیں۔ ان لوگوں میں احساس کمتری کو چھپانے کی عادت ہوتی ہے۔ دوسروں کے لباس، چال ڈھال اور گفتگو کی نقالی کرتے ہیں ۔ دوسروں کو دیکھ فضول خرچی کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو جب ترقی کے مواقع ملتے ہیں تو یہ ان سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہتے ہیں۔ ان میں ذہنی اور جسمانی کاہلی پائی جاتی ہے، فیصلہ کرنے میں سست ہوتے ہیں، آسانی سے دوسروں کے زیرِ اثرآ جاتے ہیں، ان میں شکست کو تسلیم کرنے کی عادت ہوتی ہے۔

3۔ خرابی صحت کا خوف
پریشانی، خدشہ اور کم ہمتی اس خوف کے بنیادی عوامل ہیں۔ عام طور پر لوگ اس خوف میں اس وقت مبتلا ہوتے ہیں جب بیماری طوالت اختیار کر جائے، اور اس پر اخراجات حد سے زیادہ بڑھنا شروع ہو جائیں۔ ایک تحقیق کے مطابق ڈاکٹروں کے پاس مشورے کے لیے جانے والے افراد میں سے ٪75 بلاوجہ اپنی صحت کے بارے میں پریشان ہوتے ہیں. انہوں نے فرض کر رکھا ہوتا ہے کہ وہ بیمار ہیں۔ ادویات ساز ادارے لوگوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بیماریوں کی بہت زیادہ تشہیر کرتے ہیں جس کے نتیجے میں لوگوں کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ وہ بیمار ہیں۔ اس خوف میں مبتلا شخص کے قریب اگرحادثات اور بیماریوں کے متعلق بات چیت کی جائے، تو وہ اس سے بھی خوف زدہ ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگ زیادہ تر گھر میں رہنا پسند کرتے ہیں، موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں، حساس طبیعت کےمالک ہوتے ہیں۔

4۔ محبت کھوجانے کا خوف
اس خوف میں مبتلا ہونے کی بنیادی وجوہات میں محبت میں ناکامی یا کسی پیارے کا کھو جانا ہوتا ہے۔ بنیادی چھ خوف میں سے یہ خوف سب سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے کیونکہ اس کا اثر روح اور دل، دونوں پر ہوتا ہے۔ مردوں کی نسبت عورتیں زیادہ اس خوف کا شکار ہوتی ہیں۔ اس خوف میں مبتلا لوگ بغیر کسی جواز کے دوسروں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے اور حسد کرتے ہیں۔ معمولی معمولی باتوں پر دوستوں، رشتہ داروں اور ساتھیوں کی برائیاں نکالتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں میں اضطراب کی کیفیت ہوتی ہے، استقامت نہیں ہوتی، حوصلہ نہیں ہوتا، بات بات پر طیش میں آ جاتے ہیں۔

5۔ بڑھاپے کا خوف
اس خوف کی دو وجوہات ہوتی ہیں، پہلی مفلسی اور دوسری خرابی صحت۔ بڑھاپے میں آزادی اور خودمختاری چھن جانے کا اندیشہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے لوگ اس خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں کیونکہ بڑھاپے میں بندہ جسمانی طور پر اتنا چست اور توانا نہیں رہتا، اور نہ ہی مالی طور پر خودمختار ہوتا ہے۔ چالیس سال کی عمر کے بعد انسان سست پڑنا شروع ہو جاتا ہے، اس کی یہ سوچ پختہ ہونا شروع ہو جاتی ہے کہ اب میری عمر ڈھلنا شروع ہو گئی ہے، اب مجھ میں پہلی جیسی چمک نہیں رہی حالانکہ ساٹھ برس کی عمر تک ذہنی اور جسمانی لحاظ سے فعال رہا جا سکتا ہے۔

6۔ موت کا خوف
بعض افراد کے نزدیک یہ وحشت ناک ترین خوف ہے۔ آگ ہولناک شے ہے، آگ کا ایندھن بننے کے تصور سے انسان نہ صرف موت سے خوف کھاتا ہے بلکہ وہ عقل و شعور کو بھی کھو دیتا ہے۔ موت ایک اٹل حقیقت ہے، ہر انسان نے اس کا ذائقہ چکھنا ہے، یہ اتنی بری نہیں ہے جتنی اس کی منظر کشی کی گئی ہے۔ اس خوف میں زیادہ تر وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی زندگی میں کوئی مقصد نہیں ہوتا یا جنھوں نے اپنی زندگی سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا ہوتا۔ مفلسی اور موت کے خوف کا قریبی تعلق ہے کیونکہ جن میں یہ خوف ہوتا ہے، وہ یہ سوچتے ہیں کہ میرے جانے کے بعد میرے پیارے غربت کا شکار ہو جائیں گے۔ موت کے خوف کی عام وجوہات میں خرابی صحت، غربت، نہ مناسب سلسلہ روزگار، محبت میں ناکامی اورمذہبی جنون ہوتا ہے۔

خوف سے بچنے کے لیے اپنا نقطہ نظر بدلیں، ذہن کو وسعت دیں، امید کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ اپنے خوف کے حوالے سے اپنے دوست سے بات چیت کریں، خوف کی وجوہات جاننے کی کوشش کریں ۔ جو اللہ سے ڈرتا ہے اسے کوئی نہیں ڈرا سکتا اور جس دل میں اللہ کا خو ف ہو، اس دل میں کوئی اور خوف نہیں آ سکتا۔

حوالہ جات: کامیابی کا پیغام، سوچیے اور امیر ہو جائیے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */