قرآن نے کس شاعری کی مذمت کی ہے؟ شاہد شفیع

وما علمنہ الشعر وما ينبغى لہ .القرآن
اور ہم نے ان (پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ) کو شعرگوئی نہیں سکھائی اور نہ وہ ان کو شایان ہے۔

مثنوی اسرار خودی کے آخری اشعار میں اقبال رح خود اس مثنوی کے مقصود اور اسلوب بیان کے متعلق اپنا نقطہ نظر یوں پیش کرتے ہیں۔
شاعری زیں مثنوی مقصود نیست
بت پرستی، بت گری مقصود نیست
قارئین اقبال کے لیے یہ معمہ اکثر حیرت انگیز بن جاتا ہے کہ اقبال ساری عمر شعر کہتے رہے، لیکن اس کے باوجود اپنے آپ کو شاعر کہنے سے اجتناب کرتے رہے۔

سوال یہ ھے کہ شعر کہنا اور شاعر کہلانے سے اس قدر اجتناب برتنا چہ معنی دارد؟
اور یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ قرآن نے بھی جو شعراء کی مذمت کی ہے (والشعراء یتبعھم الغاوون۔ سورۃ الشعراء) تو اس کا مفہوم کیا ہے؟

سب سے پہلے یہ دیکھیے کہ انسانی خیالات کے اظہار کے دو طریقے ہیں، ایک نثر اور دوسرا نظم۔ اب ظاہر ہے کہ اگر ایک بات نثر میں کہی جائے اور بعینہ وہی بات الفاظ میں ترتیب پیدا کر کے نظم میں کہی جائے، تو اس میں ایسی کون سی بات ہو جائے گی کہ اول الذکر اسلوب بیان کی تو تعریف کی جائے اور ثانی الذکر انداز بیان کو قابل مذمت قرار دیا جائے؟ لہذا قرآن نے جہاں شاعری کی مذمت کی ہے تو اس سے اسلوب بیان کی مذمت مقصود نہیں ہے بلکہ اس ذہنیت کی مذمت مقصود ہے جسے وہ ”شاعرانہ ذہنیت“ قرار دیتا ہے۔

آپ کے سامنے زندگی کا ایک متعین نصب العین ہے، آپ کا ہر قدم اسی نصب العین کی طرف اٹھتا ہے اور آپ اسی کی طرف ہر ایک کو دعوت دیتے ہیں، پھر آپ کی یہ دعوت علم و بصیرت، دلائل و براہین اور عقل و فکر پر مبنی ہوتی ہے جس میں آپ حقائق کا سامنا کرتے ہیں، اپنے جذبات کو ہمیشہ حقائق کے تابع رکھتے ہیں اور آپ کے قول وعمل میں ہم آہنگی ہوتی ہے۔ قرآن اسے پیغمبرانہ اسلوب اور جماعت مؤمنین کی خصوصیت قرار دیتا ہے۔ اس کے برعکس، دوسری روش زندگی یہ ہے کہ آپ کے سامنے زندگی کا متعین مقصد ہے نہ ہی واضح نصب العین۔ آپ کے جذبات آپ کو جدھر لے جانا چاہیں آپ ادھر چل دیتے ہیں، کبھی تصورات کی وادیوں میں اور کبھی تخیلات کے ان میدانوں میں جن کا کوئی سرا کوئی کنارہ نہیں۔ ہمیشہ حقائق سے جی چراتے ہیں اور لطائف سے دل بہلاتے ہیں، پھر جو کچھ آپ کہتے ہیں وہ محض جذبات پرستی اور مضامین آفرینی ہوتا ہے، جس کا آپ کی عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ قرآن اسے شاعرانہ ذہنیت قرار دیتا ھے اور اس طرح کی ذہنیت رکھنے والوں کو جذبات پرستی اور حصول شہرت کی جھوٹی پیاس انھیں مختلف وادیوں میں لیے پھرتی ہے، اور ان کی ساری عمر اس دست پیمائی اور صحرا نوردی میں گزر جاتی ہے، پھر ان کے قول وفعل کا یہ عالم ہوتا ہے کہ وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جنھیں وہ کر کے نہیں دکھاتے۔

یہ بھی پڑھیں:   قرآنی لفظ " قلب " سے کیا مراد ہے؟ ( قسط دوم ) حافظ محمد زبیر

یاد رکھیے شعر کی ایک تعریف یہ بھی ھے کہ ایسا کلام جو عموما تخیل پر مبنی ہو۔ قرآن نے واضح اعلان کیا کہ ہم نے اس پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو شاعری نہیں سکھائی گویا کہ جو کچھ سکھایا، وہ حقائق پر مبنی کلام ہے نہ کہ محض تخیلات، اور یہ ٹھوس حقیقت ہے کہ (قرآن، صاحب قرآن) واضح ضابطہ حیات لے کر آیا۔

یہ ہے فرق شاعرانہ ذہنیت و پیغمبرانہ روش حیات میں۔ اقبال رح چونکہ اپنے آپ کو پیامبر کہتا ہے، اس لیے وہ شاعر کہلانے سے سخت اجتناب کرتا ہے اور شاعری کو اپنے اوپر بہتان عظیم تصور کرتا ہے، اگرچہ وہ اپنے پیغام کو اسی اسلوب سے لوگوں تک پہنچاتا ہے، اگرچہ کہ اس اسلوب میں اثر پذیری کا مادہ زیادہ ہوتا ہے، مگر ساتھ ہی اس میں تیزی سے زائل ہونے کی تاثیر بھی ہوتی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اقبال رح اپنی عمر کے آخری حصہ میں مطالعہ قرآن اور فقہ اسلامی کے متعلق نثر ہی میں کتابیں لکھنے کا ارادہ رکھتے تھے۔