بانو قدسیہ کی رحلت - شہیر شجاع

ذہین اور مدبر لوگوں کی سوچ میں مشابہت ہونا امر ممکن ہے، اور ایسا ہوتا رہا ہے۔ بڑے بڑے محققین جو ایک دوسرے کو اُس وقت جانتے بھی نہ ہوں گے، ملتے جلتے نظریات پیش کرچکے ہیں، کیونکہ زندگی کے حقائق یکساں ہیں۔ ان تک تدبر کرنے والوں کی جب رسائی ہوتی ہے تو یکسانیت لازم ہے۔

بانو قدسیہ مرحومہ کے جانے کے بعد کچھ حقائق جو ہمارے ادب کے متعلقین میں موجود ہیں، کچھ زیادہ واضح ہوتے محسوس ہوئے ہیں، جیسے ایک دیوار حائل ہے۔ افکار کی دنیا میں بھی اجارہ داری سا رواج محسوس ہوتا ہے، جہاں صرف اسی سوچ کو پنپنے کی اجازت ہے جو رائج زمانہ ہے۔ خواہ رواج درست بھی ہے یا غلط۔ بانو آپا غیر روایتی اور اس فکر کی علمبردار ادیبہ تھیں جسے آج کا ادب برداشت نہیں کرسکتا، جبکہ وہی کچھ چیخوف کے قلم سے بپا ہو تو قابل قبول ہے بلکہ قابل ستائش بھی، لیکن راستہ ٹالسٹائی کا پسند ہے۔ بلاشبہ ٹالسٹائی اپنے عہد کا ذہین و مدبر شخص تھا جو علم کی ان گہرائیوں تک پہنچا جسے معرفت سے تعبیر کیا جاسکتا ہے، مگر صاحب ایمان غزالی رحمہ اللہ جب اس چوٹی تک پہنچتا ہے تو وہ امام غزالی ہوجاتا ہے، مگر ٹالسٹائی؟ یہی وہ دیوار ہے جو ہم نے کھڑی کر رکھی ہے۔ دیوار کے بائیں جانب ہونا قبولیت کی ضمانت، ورنہ اسے ادیب ماننا بھی دشوار۔ اس کے باوجود بانو قدسیہ جیسے ادیب دیوار کے دائیں جانب اپنا کام کرتے رہے۔ ان کے جانے کے بعد اب جیسے بہت بڑا خلا محسوس ہوتا ہے۔

نہیں سمجھے؟ میں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑی ادیبہ کی رخصتی، اور اس پر کہیں افسوس تو کہیں جلتے کڑھتے لوگ۔ کم و بیش چالیس سال پہلے لکھا گیا ان کا ناول ”راجہ گدھ“ کسی کو ”نقالی“ نظر آنے لگا تو کسی کو اس میں کچھ اور۔ ادبی فن پارہ حتمیت کا دعوی نہیں کرتا۔ قبولیت و نا مقبولیت کے ساتھ ساتھ نقد بھی اس فن پارے کا لازمی حصہ ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ فن پارہ ہی نہ ہو۔ آپ کے رائج اصطلاحات سے ہٹ کرفن کو فن ہی نہ ماننا نا انصافی ہے۔ جس سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ ادب لبرل نہیں بلکہ ”فرقہ لبرل“ اپنی منشاء کے مطابق ہی اسے قبول و نامقبول رکھنا چاہتا ہے۔ ایک واضح لکیر صاف محسوس ہوتی ہے جیسے کچھ دائیں جانب کھڑے ہوں کوئی بائیں جانب۔ افرادی قوت اجارہ داری چاہتی ہو جیسے، اور ایسی سوچ گھٹن پیدا کرتی ہے، اعتدال رفع ہونے لگتا ہے، اور حقائق غائب ہو جاتے ہیں۔ اسکرین پر جو دکھایا جائے اس کی حیثیت محض وقتی تفریح سی رہ جاتا ہے۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ بانو قدسیہ دیوار کے دائیں جانب کھڑی آخری پلر تھیں جنہوں نے سارا بوجھ اٹھا رکھا تھا۔ آج جیسے بس وہ دیوار گرنے والی ہو، میدان صاف ہو جائے، اور اجارہ داری قائم ہوجائے، کیونکہ فن بھی اب اپنی منشاء کے مطابق تولا جانے لگا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */