نفرتوں کے سوداگر - رضوان الرحمن رضی

آج کل ذرائع ابلاغ پر نفرت انگیزی پھیلانے کے الزام کا بہت دور دورہ ہے۔ عامر لیاقت حسین پر الزام لگ رہے ہیں اور وہ عدالت اور سکرین پر ان الزامات کا دفاع کرنے کے ساتھ ساتھ الزام لگانے والوں پرجوابی حملے بھی کر رہے ہیں۔ معاملات اب عدالت میں ہیں، اس لیے مناسب یہی ہے کہ عدالتی فیصلے کا انتظار کیا جائے اور عدالتی فیصلوں کی اپنی توضیح اور تشریخ کرنے سے احتراز کیا جائے۔

لیکن میڈیا میں باقی جگہوں پر کیا ہورہا ہے؟ ذرا اس پر نظر ڈال لیں تو معلوم ہوگا کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں، بس کچھ لوگوں کے پاس سرٹیفیکیٹ دینے کا حق آ گیا ہے۔

ایک معاصر ٹی وی پر ایک صاحب جو بات بات پر خود کو سکہ بند صحافی قرار دیتے پائے جا تے ہیں، وہ ایک برادر اسلامی ملک کے خلاف زہر اگلتے پائے جا رہے تھے۔ گزشتہ بدھ کے روز سعودیہ کے اخبار سعودی گزٹ میں چھپنے والی ایک خبر ان کے ہاتھ میں تھی جس کو وہ بار بار لہرا کر (بقول ان کے اپنے) سیاپا کرتے پائے جا رہے تھے کہ سعودی عرب سے گذشہ چار ماہ کے دوران 39 ہزار پاکستانیوں کو ملک بدر کر دیا ہے۔ موصوف نے اس خبر میں بیان کیے گئے تمام دیگرتمام حقائق کو نظرانداز کرتے ہوئے زور ان دو فقروں پر رکھا کہ ’’پاکستان سے روزگار کی تلاش میں آنے والے افراد کی مذہبی رحجانات کا پیشگی علم دونوں طرف کے حکام کو ہونا چاہیے‘‘۔

یہ کوئی نئی خبر نہیں ہے، کوئی ایک سال قبل سعودی عرب میں کام کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے یہ قانون متعارف کرایا گیا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک سے آنے والے افراد کو کہا جائے کہ وہ اُسی نوکری پر واپس جائیں جس کے لیے وہ اپنے ملک سے ویزہ حاصل کرکے سعودی عرب پہنچے تھے۔ اس سے سعودی عرب میں موجود ان لاکھوں افراد میں میں کھلبلی سی مچ گئی کیوں کہ اگر ان میں سے بہت سے لوگوں ان عہدوں یا جگہوں پر کام نہیں کر رہے تھے، جن کے لیے وہ ویزے لے کر پہنچے تھے۔

وہاں پر اگر کوئی ڈرائیور کے ویزے پر گیا تھا اور اس نے وہاں پر جا کر بیراگیری شروع کر دی تھی تو اس کے کے لیے یہ مشکل امر تھا۔ معاملہ اٹھا، حکومت پاکستان اس میں دخیل ہوئی، درخواست کی گئی اور سعودی حکومت نے یہ نرمی برتی کہ سعودیہ میں مقیم لوگ اپنا سٹیٹس، اپنے کفیل کی مدد سے تبدیل کرلیں۔ سعودیہ میں پاکستان کے سفارت خانے نے وہاں پر پاکستانی کمیونٹی کی مدد سے اپنے لوگوں کے لیے شہر شہر روزگار میلے منعقد کیے جہاں پر ایسے افراد کو، جن کو ان کی نوکریوں سے جواب ہوگیا تھا یا جواب ہونے کا خطرہ تھا، ان میں بیشتر کو یا تو نئی جگہوں پر تعینات کرایا گیا یا ان کا سٹیٹس تبدیل کروا دیا گیا۔

اس پورے عمل میں ایک طریق کار یہ بھی تھا کہ وہ پاکستانی نئی نوکری کے معاہدے پر دستخط کریں، پاکستان واپس جائیں، اور تین ماہ کے بعد نئے کفیل کے زیرانتظام واپس نئی نوکری پر واپس آ جائیں۔ یوں ہزاروں افراد جو کئی کئی سال سے سعودیہ میں مقیم تھے، ان کو واپس آنے اور اپنے اپنے خاندان کے ساتھ تین تین چار چار ماہ گزارنے کا موقع بھی مل گیا۔ ظاہر ہے کہ اگر ان واپس آ کر پھر جانے والے افراد کو شامل کرکے گنا جائے تو گنتی اتنی ہی بنتی ہے جتنی اس خبر میں بیان کی گئی ہے۔ ہمارے اپنے عزیزوں میں سے کچھ اس مرحلے سے ہنسی خوشی گذرے اس لئے ہم زیادہ اعتماد سے اس پر بات کر سکتے ہیں۔

سیاپا فروش کے پروگرام کے وقفے کے دوران ہی حکومت پاکستان کی طرف سے یہ وضاحت بھی آگئی کہ یہ تعداد (حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق) محض نو ہزار ہے، اور ان نو ہزار لوگوں کے بارے میں بھی سعودی حکومت کی طرف سے ہمدردانہ غور کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد پیشہ ور صحافت کا تقاضا تو یہ تھا کہ اس انتالیس ہزار والے ہندسے سے مراجعت اختیار کر لی جاتی یا پھر اس کا صحیح پس منظر بیان کیا جاتا لیکن موصوف نے اگلے دن بھی انھی 39 ہزار کا سیاپہ جاری رکھا۔ یہ صحافیانہ بد دیانتی جس نے ہمیں قلم اٹھانے پر مجبور کیا۔

صحافی موصوف ماضی قریب میں جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کی طرف سے سعودی عرب کی سربراہی میں قائم ہونے والے مجوزہ بیالیس ملکی فوجی اتحادکے بارے میں بھی اسی زبان میں گفتگو کرتے پائے جاتے رہے ہیں۔ اسی نوع کے لوگ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے بھارت کے ساتھ حالیہ دفاعی معاہدوں کے موقع پر بھی قوم کو طعن و تشنیع کرتے نظر آئے۔ حالانکہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ یہ دن ہمیں ان جیسے نیم صحافیانہ نیم ذمہ دارانہ لوگوں کے اعمال کے باعث ہی دیکھنا نصیب ہوا ہے۔

آج بھی لاہور کے قذافی سٹیڈیم کے سامنے سینکڑوں فٹ گڑھا، النہیان ٹاور کے نہ بن سکنے والی اس عمارت کا ماتم کر رہا ہے جو میاں محمد شہباز کی ذاتی انا اور جہالت کی بھینٹ چڑھ گئی۔ کئی سو ارب روپے کے اس سرمایہ کاری منصوبے کے تحت یہاں اماراتی سرمایہ کاری سے تین بلند و بالا عمارتیں بنائی جانا تھیں، جن میں سے سب سے سربلند عمارت کی اونچائی 72 منزل تھی۔ اس عمارت سے امرتسر کے گولڈن ٹیمپل کا نظارہ ان سکھوں کو کرایا جانا مقصود تھا جو بھارت نہیں جا سکتے تھے، یوں یہاں پر سالانہ نہ صرف ارب ہا ڈالر کا سیاحتی سرمایہ آتا بلکہ ان عمارتوں میں ستر ہزار سے زائد پاکستانیوں کو نوکریاں بھی ملتیں۔ لیکن اس منصوبے کو ختم کرتے ہوئے ان کو بھگا دیا گیا. اسی طرح جب ہم نے سعودی عرب سے مالیاتی امداد مانگی اور سعودیوں نے ہمیں اس امداد کے تحت دیڑھ ارب ڈالر بھجوایا تو ان جیسے لوگوں نے اس قدر اودھم مچایا کہ کان پڑی آواز بھی سنائی نہ دیتی تھی۔
اب اگر اس قدر چھترول کے بعد ہمارے روایتی عرب دوست بھارت کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں تو اس میں حیرانگی کی کیا بات ہے۔ لیکن یہ صاحب روزانہ چموٹہ نکال کر دوست ممالک کے بارے میں زبان درازی کرنے کیوں بیٹھ جاتے ہیں؟

ہمارے ہاں کچھ لوگوں نے وطیرہ بنا لیا ہے کہ کوئی بھی بات ہو تو سعودی حکومت پر ’’راشن پانی ‘‘ لے کر چڑھائی کر دی جائے، اور طوفانِ بدتمیزی برپا کرتے ہوئے جھوٹ اس قدر بولا جائے کہ لوگوں کو سچ لگنا شروع ہو جائے۔ ایران کے کالے دھن اور سمگلنگ کے بائیس ارب روپے اگر (خادم علی شاہ بخاری) کے ایس بی بینک سے برآمد ہوجائیں اور ان کی وجہ سے پاکستان پر مالیاتی پابندیاں بھی لگنے لگیں تو ان کی بولتی بند ہو جاتی ہے، اس پر کوئی سیاپا نہیں ہوتا۔اس پر ان کی صحافت تیل لینے چلی جاتی ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */