ڈالیں پیسے، آغاز کریں - حفصہ عبدالغفار

بعض لوگوں کے ”ہونا چاہیے“ والے جملے کا بہترین جواب یہ ہوتا ہے: ”جی بالکل ہونا چاہیے ، ڈالیں پیسے، آغاز کرتے ہیں.“
کچھ سمجھے؟ نہیں؟ ابھی سمجھاتی ہوں.
.
اللہ کی رحمت سے ایسے خاندان کی بیٹی ہوں کہ جس کا مساجد سے گہرا تعلق ہے. اس تعلق کی بنا پر مساجد، اور اسلامی اداروں میں آنا جانا لگا رہتا ہے. خواتین کی جانب انتظامات کے حوالے سے کبھی تجاویز ملتی ہیں، کبھی شکوے شکایات سننی پڑتی ہیں اور بعض اوقات فقط تنقید وصول ہوتی ہے. مسکراہٹ اور صبر کا دامن ہر حال میں پکڑے رکھنا ابھی سیکھ رہی ہوں، اس لیے بسا اوقات پلٹ کر ”جواب شکوہ“ بھی کر جایا کرتی ہوں. مساجد کہ جن میں آنے والے مسلمانوں کی اکثریت انتظام میں اپنا حصہ ڈالنا تو کیا اس بات سے بھی نابلد ہوتی ہے کہ چوبیس گھنٹے کھلا رہنے والا، ہمہ وقت صاف ستھرا گھر کہ جہاں ہر وقت بجلی جانے کی صورت میں متبادل انتظام، بجلی، گیس، پانی اور دیگر بلوں کی بروقت ادائیگی، صفوں، رحلوں اور مصحف کی مناسب تعداد میں دستیابی، اے سی، ائیر کولر، ہیٹر اور گیزر کا انتظام اور اس سے بھی پہلے جگہ خریدنا، باڈی/کمیٹی بنانا، رجسٹریشن کروانا، پھر تعمیر، پھر تزئین، پھر اس کو فعال بنانا. یہ سب کتنی محنت، کتنے خرچے، کتنے شوق اور بعض اوقات کتنے کٹھن مرحلوں میں پورا ہوتا ہے..

مگر جب آنٹیوں کی ایک بڑی تعداد ”اس کمرے میں 2 اے سی لگوانے چاہییں ان کو“ جیسے جملے بولتی ہیں تو باقی جملہ تو ہضم ہو جاتا ہے مگر لفظ ”ان کو“ نہیں نگلا جاتا مجھ سے۔ پھر میرا جواب کچھ یوں ہوتا ہے، ”جی آنٹی، بالکل، میں بھی سوچ رہی ہوں کہ اس کمرے میں آتے ہوئے ہمیں اتنا عرصہ ہو گیا ہے. ہم دس دس ہزار ڈال کے ایک اور اے سی نہ لگوا لیں؟“
”ہاں بیٹا مگر ان کا یہ اے.سی کام اچھا کرتا ہے.“ یہ ان کا اگلا جواب ہوتا ہے۔

اسی طرح ہماری اکثریت رونا روتی ہے کہ ہمارے علماء دنیا سے بالکل بےخبر ہیں۔ انسان کو دین و دنیا دونوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے، تعلیم یافتہ ہونا چاہیے، وغیرہ، تو جب میں ان سے کہتی ہوں کہ بالکل درست، آئیں ہم ایسے علماء بننے کی کوشش کرتے ہیں، یا اس مسجد/اسلامی مرکز میں یہ کورس متعارف کرواتے ہیں اور اس کا خرچہ اور دیگر ریکوائرمنٹس یہ ہیں، ہمیں اس کام کے لیے یہ کچھ کرنا ہوگا تو ان کی شکایت فورا رفع ہو جاتی ہے۔

آپ کی تجاویز سر آنکھوں پر، لیکن کبھی سوچا کیجیے کہ آپ کو پورے ملک میں کسی پبلک پلیس میں صاف بیت الخلا نہیں ملتا الا یہ کہ کسی جگہ آپ نے پیسہ لگایا ہو، تو یہاں آپ کو مفت میں کیا کیا ملتا ہے، حتی کہ بعض اوقات قیام و طعام بھی تو کبھی خود بھی کچھ کر دیا کیجیے۔ مالی معاونت نہیں تو فنی ہی کر دیں، متولیوں اور خادموں کے بوجھ میں سے کچھ حصہ اپنے ذمہ لےلیں. جمعہ و عید کی نماز کے بعد صفیں اٹھوا دیں، باتھ روم میں جائیں تو صاف چھوڑ آئیں، پنکھے اے سی وغیرہ وقت پر چلانے اور بند کرنے کی ذمہ داری لےلیں. مسجد میں ہونے والی قرآن و حدیث کی کلاسز کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے طلبہ کو مسلسل ہر کلاس میں بلانے کا کام کرلیں۔

اجن علماء کے تعلیم یافتہ ہونے کا مشورہ دیتے ہیں، کبھی یہ جانیے کہ وہ کیا کچھ سیکھ کر ادھر تک پہنچتے ہیں۔ ہم عصری تعلیم والے ان کے سامنے واللہ جاہل ہیں۔ اندازہ لگانا ہو تو فقط کبھی یو ٹیوب پہ سرچ کریں ”how to be a student of knowledge“، اور مزید اپنا دماغ ہلکا کرنا ہو تو دین کے ہر مضمون کی اے بی سی کا لیکچر سنیے گا، مثلا یوٹیوب پر ”practical introduction to science of hadith“، یا پھر استاد ابوتوبہ کی عربی کلاس کی پہلی ایک آدھ ویڈیو دیکھ لیں۔ کبھی یہ جانیے گا کہ ”عقلمندی اور حکمت“ کیا ہوتی ہے۔ اور پھر اس کا مطلب شیخ ابن قیم رحمہ اللہ سے سمجھنے کی کوشش کیجیے گا۔ تب آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ ”علماء“ کو تعلیم یافتہ ہونا چاہیے یا آپ کو۔
برائے مہربانی حقائق کو جانیے، کیونکہ میرے تجربے میں اعتراضات کرنے والوں کی اکثریت کبھی کبھار مساجد میں آنے والی یا بالکل ہی نہ آنے والی ہوتی ہے۔ اور اسی طرح علماء پر سوال اٹھانے والے لوگوں کی اکثریت نے کسی عالم کی کبھی صحبت ہی اختیار نہیں کی ہوتی کہ ہزاروں کام اور ہزاروں مسائل ہوتے ہیں۔ اس کا اندازہ ایک چھوٹی سی مثال سے کر لیں، جن دنوں ام القری مسجد اینڈ اسلامک سنٹر کی تعمیر ہو رہی تھی، ایک دن ابو جی کو فون آیا، غالبا کسی صاحب نے ادھار مانگا ہوگا تو ابو جی کا جواب کچھ یوں تھا ” بھائی صاحب! یقین کرو کتنے مہینے ہو گئے ہیں، تنخواہ کا چیک سیدھا مسجد کو جاتا ہے!“ اور آنے والے باسکٹ موجود نہ .ہونے پر بھی تنقید کر کے جاتے بنتے ہیں۔

بعض لوگوں کے گھر کی ٹونٹی خراب ہو جائے تو مہینوں ٹھیک نہیں ہوتی اور مساجد کے بارے میں یوں بات کرتے ہیں جیسے جنوں کی ایک جماعت ہاتھ باندھے حکم کی منتظر ہے۔

ٹیگز

Comments

حفصہ عبدالغفار

حفصہ عبدالغفار

حفصہ عبدالغفار ایم فل کیمسٹری کی طالبہ اور موٹیویشنل سپیکر ہیں۔ زاویہ ڈیبیٹنگ سوسائٹی کی صدر رہیں۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.