مولوی صاحب کی بیٹیاں (3) - نوفل ربانی

جب دنیا کے سب سے عظیم باپ حضور ﷺ تھے تو آئیں دیکھیں کہ اس عظیم باپ کی چار بیٹیاں تھیں، اور ان چاروں کی ماں پوری امت کی ماں سیدہ خدیجہ الکبری رضی اللہ عنھا تھیں، جو عرب کی متمول ترین خاتون تھیں، لیکن رسول خدا کے عقد میں آنے کے بعد انھوں نے سارا مال راہ خدا میں وقف کردیا، اب دیکھیے کہ اس عظیم ماں باپ کی بیٹیاں بھی تو کسمپرسی کی حالت میں رہتی تھیں.

آپ ہی نے تو ہمیں وہ واقعہ سنایا تھا کہ ایک دفعہ حضور ﷺ کے پاس کچھ کھانے کو کہیں سے آیا تھا تو آپ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے تھے کہ انہوں نے بھی کئی دن سے کچھ کھایا نہیں تھا، جب آپ اندر جانے لگے تو سیدہ بی بی کے لیے آپ نے اپنی چادر مبارک بھیجی کہ بیٹی پردہ کرلو، میرے ساتھ عمران بھی ہیں، اس وقت بی بی کے پاس پردہ کرنے کو اپنی چادر بھی نہیں تھی.

اسی طرح کے واقعات کو دیکھیں کہ ہر عظیم باپ کی بیٹی تنگ دست ہی رہی، عظیم لوگ بابا جان کام کرتے ہیں تو کام والے کمانے کو مقصد نہیں بنایا کرتے، وہ تو بقدر کفاف کی تگ و دو کرتے ہیں، باقی وہ کام کرتے ہیں، آپ بھی دین کا کام کر رہے ہیں. ہمیں آپ سے کوئی شکایت ہی نہیں، آپ ہماری آخرت کو بنا رہے ہیں، کیا ہوا جو دنیا کی چند دنوں کی زندگی میں یہ سامان تعیش نہ ملا.
بابا جان! جو سکون ہمیں میسر ہے نا، سر تکیے پر رکھتے ہیں، نیند کی گہری وادیوں میں اتر جاتی ہیں، یہ ان مالدار باپ کی بیٹیوں کو کہاں نصیب؟

ہمارے تن پر عمدہ کپڑے تو واقعی نہیں ہیں لیکن من کے کپڑے بہت قیمتی اور اجلے ہیں۔ ہمارے پاس سجنے سنورنے کے لیے میک اپ کٹ اور قسم ہا قسم کی کریمیں لوشن تو نہیں لیکن روح کی زیبائش کا پورا پورا سامان موجود ہے۔ ہاں بابا! آپ ہمارے کانوں میں ہیڈفون لگانے میں تو بے شک ناکام رہے لیکن ہمارے کانوں میں قرآن مقدس کی رس گھولتی آوازوں کا سنگم بنا گئے ہیں۔ آپ ہماری آنکھوں کو سکرین تو نہ دے سکے لیکن قرآن کے صفحات اور احادیث کے اوراق ہی ہمارے مرکز نگاہ بنا گئے ہیں۔ آپ ہماری زبانوں پر واہیات قسم کے گانوں کی دھن تو جاری نہ کروا سکے لیکن تلاوت کی کثرت سے ہمیں آشنا کرگئے ہیں۔

بابا جان! رہی بات کھانے پینے کی تو آپ ہی تو بتاتے تھے کہ رزق کے خزانے اللہ کے پاس ہیں، تو ہمارے مقدر میں جو ہے، وہ ہمیں مل کر رہےگا، آپ کا رزق بہترین ہے،
دیکھیں بابا! کچھ لوگوں کے سامنے اللہ نے لوہا رکھ دیا، وہ اس پر محنت کر رہے ہیں تو ان کو رزق مل رہا ہے، کسی کے سامنے لکڑی رکھ دی وہ اس پر محنت کر رہا ہے تو اسے روزی روٹی مل رہی ہے، کسی کے سامنے ٹیکنالوجی رکھ دی، وہ اس پر محنت کر رہا ہے اور کھا رہا ہے، کسی کے سامنے مٹی ریت گارا سیمنٹ بجری رکھ دی وہ اس کے ذریعے پیٹ پال رہا ہے، اسی طرح لوگوں کے سامنے دنیا رکھ دی وہ دنیا پر محنت کرکے گزربسر کر رہے ہیں۔ لیکن ہمارے باباجان وہ خوش قسمت اور عظیم انسان ہیں جن کے سامنے اللہ نے قرآن و سنت اور فقہ رکھ دی، ہمارے بابا صبح اٹھنے سے لے کر رات سونے تک قرآن و سنت پر محنت کر رہے ہیں، صبح درس قرآن اور اس کے لیے تہجد کے وقت مطالعہ، اس کے بعد ناظرہ پڑھاتے ہیں، سکول جانے والے بچوں کے جانے کے بعد دوسرے مدرسے میں کتابیں پڑھانے جاتے ہیں، باجماعت نماز کی ڈیوٹی، شام کو فضائل اعمال کی تعلیم، رات کو درس حدیث اور سارا دن لوگوں کو مفت دینی مشورے اور ان کے مسائل کا حل بتاتے ہیں، تو اس طرح ہمارے بابا اتنے عظیم ہوئے کہ دین پر محنت کر رہے ہیں اور اللہ رزق طیب سے نواز رہا ہے. الحمدللہ علی ذلک

لیکن ہاں باباجان! ایک بات کا دھڑکا ہر وقت لگا رہتا ہے، جب آپ باہر جاتے ہیں تو ہمیں آپ کے چھن جانے کا خوف بہت رہتا ہے، کیونکہ اب تو دستور ہوچلا کہ جو آدمی دین کا کام کرے، اندھی گولیاں اس کی تاک میں رہتی ہیں۔ سکہ رائج الوقت تو یہ ہوچلا کہ جس نے دین کا کام کرنا ہے اسے ماں سے دودھ بخشوا کر نکلنا پڑتا ہے۔ اب تو ہو یہ چلا ہے کہ مولویوں کے بچوں پر یتیمی کے بادل ہر وقت منڈلاتے رہتے ہیں اور ان کی بیویوں پر بیوگی کی چادر تنی رہتی ہے، اللہ ہی حفاظت کرتا ہے ورنہ باطل نے تو کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

پتہ ہے بابا! وہ جو آپ کے دوست تھے ایک مولانا صاحب، ان کو کس بےدردی سے ہتھکڑی لگا کر جھوٹے پولیس مقابلے میں مارا گیا، اور وہ جو ایک قاری صاحب تھے، ان کو کس طرح روزے کی حالت میں چھلنی کر دیا گیا، اور وہ جو حافظ صاحب تھے ان کو بھی اڑا دیاگیا، کتنے ہی مولانا انکل ہیں جن کو صرف اس جرم میں اٹھالیا گیا کہ حق کو بیان کرتے ہیں، کتنے ہی داڑھی والے نوجوانوں کو سٹیکر برآمد ہونے پر سالوں تک قید خانوں میں بند کیا جاتا ہے، کتنے ہی نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں.
بابا جان ایسا کیوں ہوتا ہے؟ کیا ان کے سینے میں دل نہیں دھڑکتا؟ کیا وہ انسانیت سے عاری ہوچکے؟
کیا انہوں نے مرنا نہیں ہے؟ کیا انہوں نے قدرت کو عاجز کردیا ہے؟
بابا یہ ایک لمحے کو بھی نہیں سوچتے کہ کل پل صراط پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھ لیا کہ میرے دین کے محافظوں کے ساتھ تم نے ایسا کیوں کیا، تو کیا جواب ہوگا ان کا؟ کیا یہ لوگ دین کو مٹا پائیں گے؟

کبھی کبھی جب آپ ہمیں تعزیت کے لیے لے جاتے ہیں تو بابا اس نوجوان بیوہ کی آنکھوں کی نمی بہت دل دکھاتی ہے اور ان کی چھوٹی چھوٹی بیٹیاں حسرت و یاس کی تصویریں بنی بہت رلاتی ہیں، ان کے بوڑھے والدین کی بہتی آنکھیں تڑپا ہی تو دیتی ہیں، ماں کا آنچل تو بابا مستقل آنسوؤں سے تر رہتا ہے، لاپتہ بھائیوں کی ماں کی حالت تو بہت ہی ناگفتہ بہ ہوتی ہے، بیچاری کے کان دروازے کی سمت لگے ہوتے ہیں، ذرا سی آہٹ پر اس کی امیدیں جاگتی ہیں کہ شاید میرا لخت جگر چھوٹ گیا ہو، لیکن دوڑ کر دروازہ کھولتی ہے تو سامنے دودھ والا یا کوئی اور ہوتا ہے، تو بابا اس لمحے اس کے چہرے کی مایوسی سے اٹھنے والا درد مار ہی تو دیتا ہے، وہ تو پل پل مرتی ہے، بہنوں کی نظریں دروازے پر ٹکٹکی بندھے رہتی ہیں کہ کب ان کا ویر آئے گا.
ہمیں ان تمام مناظر سے دھڑکا تو لگا رہتا ہے کہ کہیں آپ کے ساتھ بھی ایسا نہ ہو، لیکن پھر تسلی ہوتی ہے کہ یہ سب تو عظیم لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے. صحابہ کی زندگی اس کا پرتو ہے، کیسے کیسے ستم ان پر ڈھائے گئے، ہمارے اکابر کی جیل کی زندگیاں اس پر شاہد ہیں.
جب آپ باہر جاتے ہیں تو ہم کسی بھی ایسی خبر نہ سننے کی دعا ہی کرتے ہیں کہ خدا کرے ہمارے بابا سلامت رہیں، لیکن باباجان! رات کے آخری پہر جب آپ مصلے پر سر سجدے میں رکھ کر حضور کی وہ دعا دہراتے ہیں نا کہ یااللہ ہمیں سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت دے تو پتہ نہیں کیوں بابا! اس وقت آپ کی یہ بیٹی خودغرض ہوجاتی ہے، وہ اس دعا پر آمین کہنے میں بخل سے کام لیتی ہے کیونکہ بابا آخر میں ایک بیٹی ہوں اور باپ ہی بیٹی کا تو سب کچھ ہوتے ہیں۔

یہ کہتے ہوئے بڑی بیٹی نے مولوی صاحب کی جھولی میں سر رکھ دیا، چھوٹی نے روتے ہوئے بابا کی پپی کی اور بابا کی آنکھوں سے جاری پانی بڑی بیٹی کے بالوں میں گم ہوگیا، اور ہاتھ بیٹی کے سر پر شفقت سے پھرنے لگا. اس وقت مولوی صاحب نے سوچا کہ یار مجھے جینا ہے، ان بچیوں کے لیے جینا ہے، زندگی کی اہمیت کا شدید احساس ابھرنے لگا اور مولوی صاحب سوچنے لگے کہ مجھے بھی کچھ مداہنت سے کام لینا چاہیے، کچھ کمپرومائزنگ ہونا پڑے گا، حق کے بول کو کچھ ملمع سازی اور ڈینٹنگ ہینٹگ سے پیش کرنا ہوگا، تھوڑا زمانے کے تابع ہوکر چلنا چاہے.
ابھی مولوی صاحب اسی سوچ میں غرق تھے کہ جانے کب بیٹی نے مولوی صاحب کی جھولی سے سر اٹھایا اور کس وقت اس نے اپنے آنسو صاف کیے اور بڑے ہی ولولے سے بولی
بابا جان!
مجھے یہ خواہش تو ہوتی ہے کہ میرے باباسلامت رہیں لیکن جب دیکھتی اور سوچتی ہوں کہ بابا کی سلامتی اہم ہے یا دین کی، تو بابا یہ میرا جو کمزور دل ہے نا، اس وقت یہ شیرنی کا دل بن جاتا ہے اور میرا ضمیر اور میرا دل یہ کہتا ہے کہ نہیں بابا سلامت رہے یا نہیں رہے، فاطمہ کے بابا کا دین سلامت رہنا چاہیے
اور پتہ ہے بابا؟؟
(جاری ہے)