کیا عورت کا وجود اتنا بڑا فتنہ ہے؟ زینی سحر

کسی سلسلے میں ڈاکٹر کے پاس جانا ہوا، وہاں ایک ایسے مرد کو دیکھا جس نے اپنی بیوی کو حجاب بندھوایا ہوا تھا، میں تو اسے بندھوایا ہوا ہی کہوں گی کیونکہ اسے پہنا ہوا نہیں کہا جا سکتا تھا، اس کے ہاتھ پاؤں تو بندھے ہوئے تھے ہی، ساتھ چہرے پر جو حجاب تھا، اس کے اُوپر بھی اس کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ ہمارے ڈاکٹر کے کمرے میں داخل ہونے کو ان صاحب نے ناگواری سے دیکھا، اور ڈاکٹر کو شستہ انگریزی میں ناگواری سے کہا کہ انھیں پرائیویسی چاہیے۔ ڈاکٹر نے ہم سے کہا کہ آپ پہلے چیک اپ کروا لیں، ان صاحب سے کہا کہ ویٹ کر لیں، میں نے ڈاکٹر سے کہا کہ ہمیں بھی پرائیویسی چاہیے، ہمارا مسئلہ معمولی تھا، بس میں اس شخص کا ردعمل دیکھنا چاہتی تھی. حسب توقع وہ شخص ڈاکٹر کے یہ کہنے کے باوجود کہ آپ لوگ انتظار کر لیں، وہیں کھڑا رہا، گویا خود وہ کرتے نہیں جو دوسروں سے چاہتے ہیں.

گھر آتے ہوئے میں سارا راستہ یہ سوچتی رہی کہ
کیا عورت کا وجود اتنا بڑا فتنہ ہے کہ وہ کسی کو نظر آ سکتی ہے نہ کوئی منظر ديکھ سکتی ہے؟
کیا مردوں کے ایمان اتنے کمزور ہیں کہ عورت کی ایک نظر پر ڈھے جاتے ہیں‫‫‫؟
کیا اسلام مرد کی کوئی معاشرتی تربیت نہیں کرتا کہ وہ اپنے آپ کو مضبوط رکھ پائے؟
کیا مردوں کے ایمان بچانے کا واحد ذریعہ یہی ہے کہ عورتوں کو قید کر دیا جائے؟

قرآن میں اللہ پاک جہاں عورت کو پردے کا حکم دیتا ہے، وہیں اگلی آیت میں مردوں سے کہتا ہے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھو.
میں نے بیشمار عورتوں کو حجاب میں دیکھا ہے، اس کے باوجود میں نے مردوں کو ان کو نگاہوں سے جلاتے دیکھا ہے.
تو ثابت یہ ہوا کہ عورت فتنہ نہیں ہے، مرد کی سوچ اور اس کی نگاہیں جن پر وہ کنٹرول نہیں کر سکتا، اس کے کمزور ایمان کی علامت ہے، پس ثابت یہ ہوا کہ فتنہ تو مرد ہے، چونکہ خود پر تو کنٹرول ہے نہیں تو عورتوں کو کنٹرول میں کرو اور قید میں ڈالو.

یہ بھی پڑھیں:   الحاد کا فتنہ اور علماء کی کوششیں - محمد احمد

بلاشبہ حجاب یا پردہ عورت کی حفاظت کے لیے ہے اور وہ اس میں محفوظ رہتی بھی ہے، لیکن کمزور ایمان والے مرد اسے رہنے کہاں دیتے ہیں. میں خود ایسے بیسیوں واقعات بتا سکتی ہوں جو حجاب پہننے کے باوجود میرے ساتھ پیش آئے اور بعض اوقات تو دلبرداشتہ بھی ہوگئی کہ اب نہیں پہننا.
میں پوری ذمہ داری سے کہتی ہوں کہ آئے روز خواتین اس قسم کے واقعات سے گزرتی ہیں، جو ان کے لیے اذیت کا باعث ہوتے ہیں.

صديوں سے قرآن کی آیات کو بہانہ بنا کر عورت کو پابند سلاسل کرتے آئے ہیں، پھر بھی فتنہ ختم نہیں ہوا. مولوی حضرات سے گزارش ہے کہ کچھ عرصہ قرآن پاک کی دوسری آیت جس میں مرد کو نگاہ نیچی رکھنے کی تلقین کی گئی ہے، اس پر عمل کروا کر دیکھ لیں، شاید اس سے فتنے ختم ہو جائیں، اور آپ سب جنت میں جاسکیں.

ہمارے گھروں میں بھی شروع سے بچیوں کو تو پردے کی تلقین کی جاتی ہے، لیکن بچوں کو یہ نہیں بتایا جاتا کہ تمھیں رب کریم نے نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا ہے. ہمیشہ یہ کہا جاتا ہے کہ خواتین بن سنور کر مردوں کو دکھانے کے لیے نکلتی ہیں. اگر اس بات کو اس طرح لیا بھی جائے تو اس میں مردوں کا ہی فائدہ ہے.‫ نہ مرد دیکھیں گے نہ عورتیں بناؤ سنگھار کریں گی، اور جو میک اپ اور فیشن کی مد میں بے چارے مردوں کے لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں، وہ بھی نہیں ہوں گے.
کیا خیال ہے فتنے کو ایسے ناں دبايا جائے.

Comments

زینی سحر

زینی سحر

زینی سحر میرپور آزاد کشمیر سے ہیں۔ حساس دل کی مالک ہیں، شاعری سے شغف رکھتی ہیں۔ خواتین اور بچوں سے متعلقہ مسائل پر لکھتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.