مدارس کےلیے چندہ، اختلاف کیا ہے؟ عادل لطیف

موسم سرما کے شروع ہوتے ہی ہمارے محلہ دار وکیل اختر صاحب کی یاد بڑی شدت سے ہمارے دل میں انگڑائی لینا شروع کر دیتی ہے کیونکہ سردی کے موسم میں ہر سال ان کے یہاں گاجر کے حلوہ کی دعوت ہوتی ہے اور وہ دعوت اتنی شاندار ہوتی ہے کہ سارا سال اس دعوت کا انتظار رہتا ہے. امسال بھی حسب روایت وکیل اختر صاحب کے یہاں گاجر کے حلوہ کی دعوت کا اہتمام کیا گیا اور یہ بات تو حد یقین کو پہنچ چکی ہے کہ محلہ میں کوئی دعوت ہو اور ہم اور ہمارے دوست مسٹر ہونو لولو اس میں شریک نہ ہوں، یہ ممکن نہیں ہے. ہم تو محلہ داری نبھانے کی غرض سے شرکت کرتے ہیں اور ہمارے دوست مسٹر ہونو لولو کو ایسی محافل میں اپنی دانشوری دکھانے کا موقع مل جاتا ہے، وہ اس لیے ایسی دعوتوں کی خوشبو سونگھتے پھرتے ہیں اور مولویوں سے تو انھیں خدا واسطہ کا بیر ہے، ان کی ہر گفتگو کی تان مدارس اور اہل مدارس پر آ کر ٹوٹتی ہے. معاشرے کی ہر برائی کا ذمہ دار علماء کو ٹھہراتے ہیں حالانکہ علماء نے کبھی ان کی مدد سے ہاتھ نہیں کھینچا، جب وہ پیدا ہوئے تو مسجد کے مولوی صاحب نے ان کے کان میں اذان دی، بالغ ہوکر جب نکاح کا وقت آیا تو مولوی صاحب نے نکاح پڑھایا، اور انشاءاللہ العزیز جب ان کی روانگی کی گھنٹی بجے گی تب بھی تجہیز و تکفین کا سارا انتظام بھی کوئی مولوی ہی کرے گا.

ابھی کل ہی کی تو بات ہے کہ ہم نے وکیل اختر صاحب کی دعوت میں جانے کے لیے ان کے محلے کی مسجد میں عشاء کی نماز پڑھی. شومی قسمت مسٹر ہونو لولو پہلے سے وہاں موجود تھے. نماز کے بعد مدرسے کے ایک سفیر نے چندے کا اعلان کر دیا، مسٹر ہونو لولو نے ہمیں کہنی ماری، ہم سمجھ گئے کہ موصوف کی چاندی ہوگئی، تقریب میں بولنے کا موضوع جو ہاتھ آگیا تھا. بہرحال ہم وکیل اختر صاحب کے گھر پہنچے، انھوں نے بڑے عزت و احترام سے ہمیں بٹھایا، بیٹھتے ہی موصوف گویا ہوئے، یہ مولوی لوگوں کو چندے کے علاوہ کوئی کام ہی نہیں ہے، کوئی نماز ایسی نہیں ہے جس کے بعد کوئی چندہ والا اعلان نہ کر رہا ہو، ان مولویوں کو کتنا ہی کچھ دے دیں لیکن ان کا پیٹ ہی نہیں بھرتا. محترم جناب عزت مآب امام صاحب کی عنایت سے ایک مختصر سی اپیل کرنا چاہوں گا، بندہ ناچیز کا تعلق ایک دینی ادارے سے ہے جس میں کثیر تعداد میں طلبہ زیر تعلیم ہیں، مخیر حضرات سے اپیل ہے کہ دل کھول کر تعاون فرمائیں، یہ جملے یا اس سے ملتے جلتے دلخراش جملے (بچوں کے لیے راشن کی سخت ضرورت ہے، اس کڑکڑاتی سردی میں بچوں کے لیے گرم بستر کی ضرورت ہے)، ہم لوگ مساجد میں کسی نہ کسی نماز کے بعد ضرور سنتے ہیں. اپیل کرنے کے بعد وہ صاحب نمازیوں کی گردنوں کو پھلانگتے ہوئے باہر صحن میں آکر رومال بچھا کر بیٹھ جاتے ہیں اور نمازی لوگ اپنی سخاوت کا بھرم رکھنے کے لیے ریزگاری ڈالتے جاتے ہیں، اور وہ صاحب ماشاءاللہ، جزاك اللہ کی زوردار آواز کے ساتھ وصول کرتے جاتے ہیں. میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اقامت دین کی کوششوں میں ہمہ تن مصروف علمائے کرام سے کیا اس طرح اپنے آپ کو بالکل بےبس ظاہر کر کے مدرسہ کے لیے چندہ کرنا اخلاقا درست ہے؟ کیا آپ اس بات کے مکلف ہیں کہ آپ کی عزت کے بخیے ادھڑتے ہیں تو ادھڑ جائیں لیکن چندہ ضرور کرنا ہے؟ اگر آپ میں طاقت نہیں ہے تحفیظ کا مدرسہ چلانے کی، اگر آپ کے پاس وسائل نہیں ہیں درس نظامی کے انتظام کے تو کیوں اپنی عزت نیلام کرتے ہیں، کیا یہ علم دین کی تذلیل نہیں ہے؟ کیا یہ مدارس میں پڑھنے پڑھانے والے علماء اور طلبہ کی عزت کا جنازہ نہیں نکل رہا ہے؟ یا پھر یہ ساری تگ و دو مدرسہ اور طلبہ کے نام پر اپنے پیٹ کا جہنم بھرنے کے لیے ہے دینی علوم کی نشرواشاعت کا کام کرنا بہت مستحسن بات ہے، لیکن اس طرح اپنی کسمپرسی ظاہر کر کے اپنی عزت نفس کو پامال کرنا درست نہیں ہے، اور کسی طور پر بھی اس کی حمایت نہیں کی جاسکتی، اب تو کچھ بڑے ناموں نے چھوٹے ناموں کی تصدیق کرنے کو کاروبار بنا لیا ہے، ان کی بلا سے مدرسہ کا وجود ہو یا نہ ہو طلبہ پڑھتے ہوں یا نہیں، انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہے، بس ان کی مٹھی گرم کرو اور جیسی چاہو تصدیق کر والو. یہ بات بالکل درست ہے کہ چندہ کرنا سنت ہے لیکن چندہ ہی کرتے رہنا سنت نہیں ہے، اور اب تو کچھ مدارس میں اساتذہ کا تقرر ہی اس بنیاد پر ہوتا ہے کہ اس کے توسط سے ہمیں چندہ کتنا مل سکتا ہے، چندہ کرنے والا استاد بھلے نااہل ہو اس کو ترجیح دی جاتی ہے اس اہل استاد پر جو چندہ نہیں کر سکتا ہے.

یہ بھی پڑھیں:   مولانا سمیع الحق ہمارے دلوں میں زندہ ہیں - رانا اعجاز حسین چوہان

ہم نے جوابا عرض کیا، ایک بات تو بتائیں حضور، کہنے لگے پوچھیں، ہم نے کہا کہ یہ بات کس قدر حیرت انگیز ہے کہ جو لوگ مولوی کو چندہ خور کہتے ہیں، وہی لوگ ایدھی، چھیپا و عالمگیر ٹرسٹ والوں کے ہاتھ چومتے اور انھیں انسانیت کے محسن قرار دیتے ہیں. خدارا! کچھ تو انصاف ہونا چاہیے. آپ جیسے مولوی کو یہ طعنہ دینے والے دراصل اس علم کو علم ہی نہیں مانتے جس کے لیے مولوی چندہ مانگتا ہے، ہاں ایک خیراتی اسکول چلانے والوں کو انسانیت کا خدمت گار قرار دینے میں آپ خوب رطب اللسان رہتے ہیں. ہم اہل ایمان کے لیے نہایت عبرت کا مقام ہے کہ جن مسلمانوں کو علماء کا دست و بازو بننا تھا میڈیا کی سحر بیانی نے ان کا رخ ایسا پھیرا کہ وہ اب مدارس پر بہتان تراشی کر رہے ہیں، اور میڈیا کے ساتھ سر سے سر اور تال سے تال ملا کر خیر کے مراکز کو دہشت گردی کا اڈا ثابت کرنے میں ہمہ تن مصروف ہیں. وکیل اختر صاحب نے یہ گرما گرمی دیکھ کر بیچ میں مداخلت کرنا مناسب سمجھا اور کہنے لگے کہ دراصل بات یہ ہے کہ ہم لوگ چندے کے بارے میں دو انتہاؤں کے درمیان ہیں. ایک طرف وہ لوگ ہیں جو نہ تو مولوی کے چندہ کرنے کو درست سمجھتے ہیں بلکہ اس علم کو ہی نہیں مانتے جس کے لیے مولوی چندہ کرتا ہے جبکہ عوام کے چندوں پر چلنے والے دوسرے رفاہی اداروں کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں. آخر یہ دوہرا معیار کیوں؟ ماننا ہے تو سب مانیے، نہیں ماننا تو سب کی نفی کر دیجیے، آدھا تیتر آدھا بٹیر کی یہ روش اچھی نہیں ہے. دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو صرف چندہ کے لیے سینکڑوں میل کا سفر کرتے ہیں، انھوں نے چندہ ہی کو اپنا نصب العین بنا لیا ہے. ہر حال میں چندہ چندہ کرنا ہے. چاہے عزت کی دھجیاں کیوں نہ بکھر جائیں. کیا ہی اچھا ہو کہ عام لوگ جس طرح دوسرے رفاہی اداروں کی خدمات کو تسلیم کرتے ہیں مولوی کی خدمات کو بھی تسلیم کرنے لگ جائیں، اور کیا ہی اچھا ہو کہ اہل مدارس بھی اپنی اداؤں پر خود ہی غور کر لیں، دوسروں کے کہنے سے شکایت ہو جائے گی. مولوی حضرات چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے لگ جائیں، کیا ضرورت ہے اتنے طلبہ رکھنے کی جن کا انتظام آپ کر نہیں سکتے، جتنے طلبہ کا انتظام آپ آسانی سے کر سکتے ہیں اتنے رکھ لیں، باقی کو احسن انداز میں جواب دے دیں، اسی میں علم اور اہل علم کی عزت ہے. قینچی کی طرح زبان چلانے والے وکیل اختر اتنی آسانی سے خاموش ہونے والے کہاں تھے. یہ تو اللہ بھلا کرے ان کے پوتے کا جس نے بروقت آکر اطلاع دی کہ دادا جان سب مہمان آگئے ہیں، کھانا شروع کرنا چاہیے بس پھر کیا تھا، تھوڑی ہی دیر میں حشر کا منظر آنکھوں کے سامنے تھا