حیات اچکزئی، باکسنگ کا مستقبل روشن - ناصر تیموری

محمد علی کی مشہور شخصیت نے باکسنگ کے کھیل کو بام عروج پر پہنچادیا۔ اس کے بعد دیگر اسپورٹس جیسے فٹ بال زیادہ نمایاں ہوگئے۔ پاکستان میں پہلے ہاکی اور اسکواش اسپورٹس کا رجحان تھا تاہم اب قوم کی دلچسپی کرکٹ میں بہت زیادہ ہے۔ اگلا نمبر اب باکسنگ کا معلوم ہوتا ہے۔

ایک تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ہر بچے کو اپنی زندگی میں کم از کم ایک کھیل ضرور سنجیدگی سے کھیلنا چاہیئے۔ تاہم اس کا رجحان یہاں پاکستان میں نہیں ہے ۔ یہاں بہت ہی کم لوگوں نے یہ لائف اسٹائل اختیار کررکھا ہے۔ انہی میں ایک کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے باکسر حیات اچکزئی ہیں۔ جنہوں نے 1994ء میں محض 11 سال کی عمر میں کیرئیر کا آغاز کیا ۔

حیات اچکزئی نے سال 2004ء میں نیشنل گیمز میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔ 2005ء میں انہوں نے انڈونیشیا میں پریذیڈنٹ کپ میں حصہ لیا، اس ٹورنامنٹ میں 44 ممالک نے حصہ لیا جس میں حیات اچکزئی نے چاندی کا تمغہ حاصل کیا جبکہ کامن ویلتھ گیمز میں بھی وہ کانسی کا تمغہ حاصل کرچکے ہیں۔ ان سالوں کے دوران ان کی ٹریننگ، لگن اور محنت نے صلہ دیا اور وہ صرف واپڈا ٹیم کا حصہ ہی نہیں رہے بلکہ انہوں نے مختلف بین الاقوامی مقابلوں میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی۔ انہوں نے آخری بار 2011ء میں نیشنل چیمپیئن شپ میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔

ہمیں ایسے ہیروز کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے جس سے پاکستان کا مثبت امیج دنیا میں روشن ہے۔ حیات اچکزئی اس وقت 33 سال کے ہیں اور چار بچوں کے والد ہیں اور اپنا چھوٹا سا کاروبار چلا رہے ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود وہ اپنے پسندیدہ کھیل کو آگے بڑھا رہے ہیں اور واپڈا کی ٹیم کی کوچنگ کررہے ہیں جہاں سے وہ پہلے کھیل بھی چکے ہیں ۔
ان کا ارادہ ہے کہ وہ اپنا لائف اسٹائل اپنے بچوں میں منتقل کریں اور ان کے بچے کم از کم کسی ایک کھیل کو جذبے کے ساتھ کھیلیں ۔ ان کے خیال میں جسمانی سرگرمی اتنی ہی اہم ہے جتنی اسکول کے کلاس روم کی پڑھائی ضروری ہوتی ہے۔

ان کی کامیابیاں سہولیات نہ ہونے اور کوچز کی محدود رسائی کے باوجود بھرپور ٹریننگ سیشنز کی مرہون منت ہیں لیکن وہ اپنے جذبے کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اپنی موجودہ فٹنس کے باعث حیات اچکزئی بدستور اپنے کو کافی فٹ سمجھتے ہیں اور ان کا ارادہ ہے کہ وہ ایران میں منعقد ہونے والے الفجر کپ میں شریک ہوں یا پھر پیشہ ورانہ حیثیت سے آسٹریلیا جائیں۔ ہمیں ایسے ہیروز کو سامنے لانے کی ضرورت ہے کیونکہ ایسے ہیروز ہی معاشرے کو امید دیتے ہیں۔