بانو آپا کے راجہ گدھ سے اتنی نفرت کیوں؟ فارینہ الماس

کہتے ہیں کہ آپ اگر کسی شے کو چھوٹا سمجھنا چاہتے ہیں تو پھر یا تو اسے دور سے دیکھیں یا غرور سے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے ہر بڑی شے کو چھوٹا ثابت کرنے کے لیے اسے پرکھنے کے یہ دونوں انداز اپنا رکھے ہیں۔ اور پھر اس پر بھی اکتفا نہیں، بلکہ انتہائی ڈھٹائی اور دھونس سے یہ اصول دوسروں پر بھی مسلط کرنے کے درپے رہتے ہیں تاکہ اپنے ہمنوا اکٹھے کیے جا سکیں۔

کچھ ایسا ہی منظر نامور ادیبہ ”بانو قدسیہ“ صاحبہ کے انتقال کے بعد سامنے آیا۔ ایک مخصوص طبقے کی طرف سے ان کے تمام تر ادبی سفر کو محض ”راجہ گدھ “ میں سمو کر ان کی تعریف سے کہیں زیادہ تنقید کی گئی۔ کمال حیرت کا باعث یہ رہا کہ ”راجہ گدھ “ پر تنقیدی مقالہ انہوں نے بھی لکھا جنہوں نے بقول ان کے کبھی راجہ گدھ کو پڑھا تک نہیں، لیکن اس کے اسباق و اسلوب سے کچھ ایسی غیبی واقفیت ضرور رکھتے ہیں جو انھیں بھی میسر نہیں جنہوں نے اسے پڑھ رکھا ہے۔ کچھ ایسے بھی تھے جو ایسے تنقیدی مقالے بہت پہلے تحریر کر چکے تھے لیکن اب بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لینے کے چکر میں ان مقالوں کو ایک بار پھر منظر عام پر لے آئے۔گویا اگر بانو آپا اس جہان فانی سے کوچ نہ کرتیں تو ہم اتنی مقدس اور پرمغز تحریروں سے محروم رہ جاتے۔ تو اب کیونکہ راجہ گدھ پر انتہائی سطحی اور جہالت پر مبنی اور انتہائی غیر سائنسی قدامت پرست رحجانات و نظریات کا پرچار کرنے کا الزام لگ چکا ہے، ان کے فلسفے کو زبیدہ آپا کے ٹوٹکوں سے تشبیہ دی جا چکی ہے۔ سو ان کی دیگر تحاریر، موم کی گلیاں، دوسرا دروازہ، بازگشت، امربیل، راہ رواں، وغیرہ کچھ نذر آتش کر دینا چاہیے، کیونکہ وہ سب کتابیں بھی مخصوص طبقے کے بقول عصری تقاضوں خصوصاً تصورات جدیدیت کو پورا نہیں کرتیں۔ وہ انسان کو جن اقدار کی طرف لے جاتی ہیں، وہ انتہائی فرسودہ اور دقیانوس ہیں۔ وہ سادہ لوح انسان کی سادہ لوح تھیوری پر مبنی ہیں۔ انہیں صرف ہماری دادیاں، نانیاں یا مائیں ہی پسند کر سکتی تھیں جو بہت زیادہ تعلیم یافتہ نہ ہونے کی بنا پر سائنس اور منطق کی دلیلوں سے بہت پرے تھیں۔ آج ہر شے، ہر نظریہ اپنے وجود کی توجیہ مانگتا ہے، اور اگر آپ اسے سائنس کے نقطہ نظر سے ثابت نہ کر سکیں تو وہ فاسد ہے، فرسودہ ہے۔

سو ایک مخصوص طبقے کے نزدیک بانو آپا اردو ادب کا ایک ایسا ناگوار بوجھ تھا، جو اب اتر چکا ہے، اب انہیں یاد بھی نہ کیا جائے، کیونکہ وہ روح کی بات کرتی تھیں، وہ اقدار کی بات کرتی تھیں، وہ قدیم روایات کی بات کرتی تھیں، وہ زندگی کے سفر میں افہام و تفہیم کو اہمیت دیتی تھیں، وہ عورت کو بغاوت پر اکساتی نہیں تھیں، عورت کو گھر کے اندر رہ کر اپنے روحانی سفر کی اجازت دیتی تھیں، اپنے ہنر اور کرامات کو تشفی دینے کی تلقین کرتی تھیں، عورت کو اپنے شوہر کے لیے قربانیاں دینے کا درس دیتی تھیں۔ وہ فیمنسٹ نہیں تھیں۔ اب تو ہم بہت ترقی کر چکے ہیں، فیمنزم تحریک کے ثمرات پا لیے ہیں، اب تو غیرت کے قتل پر موت کی تعزیر بھی لگا دی ہے، لیکن یہ کیا عورت تو پھر بھی عزت نہ پا سکی، عورت تو قانون بننے کے بعد بھی غیرت کی بھینٹ چڑھ رہی ہے۔ بانو آپا! کاش آپ فیمنزم کی بات بھی کر جاتیں، انتہائی اکھڑ اور باغی انداز سے، تو آج بہت سے لوگ آپ کے نظریات کے علمبردار ہوتے، لیکن آپا تو کہتی ہیں
”کچھ مانگنا ہے تو اصل حق مانگو، اصل حق ہے محبت میں۔ جب محبت ملے گی تو سب حق خوشی سے ادا ہوں گے۔ محبت کے بغیر ہر حق ایسے ملے گا جیسے مرنے کے بعد کفن ملتا ہے.“(راجہ گدھ)
مطلب کہ جو حق پیار سے دیا جائے وہ پائیدار ہوتا ہے، اس حق کا سحر تمام عمر ہماری روح کا طواف کرتا ہے، ہمیں عزت دیتا ہے، مقام مرتبہ دیتا ہے۔ جو لوگ چھینا چھپٹی سے حق دلانا چاہتے ہیں، افسوس کہ وہ اب تک یہ حق دلا نہ سکے، اور عورت آج بھی ظلم کے ہاتھوں مجروح ہے۔ ان بڑے بڑے فلسفیوں اور فیمنزم کے علمبرداروں کے تو اپنے گھروں کا حال یہ ہے کہ یہ سارا سارا دن فلسفہ ہانکنے اور پھانکنے میں گزار دیا کرتے ہیں، اور ان کے گھر کی عورت دن بھر ان کے جھوٹے برتن مانجھنے اور خود ان کے حصے کے کام کاج نپٹانے سے بھی فرصت نہیں پاتی، اس کے شانے گھر کا ہر بوجھ اور ذمہ داری اٹھا اٹھا کر چھلنی ہو چکے ہیں۔

بانو آپا کی تحریروں کا ایک اہم فلسفہ ہے روح اور وجدان کا سفر، جو انسان کو جسم سے نکل کر روح کے سائباں تلے لے آتا ہے، جو انسان کی روح کو اٹھا کر اتنی بلند مقامی عطا کرتا ہے کہ وہ برداشت اور حوصلے کے اس علم تلے آجاتا ہے جس کی آج ہمیں بہت ضرورت ہے۔ ہم بدلہ لینے میں تو ایک ساعت کی دیری نہیں کرتے لیکن سہنا اور جھیلنا ہم نے سیکھا ہی نہیں۔ اگر ایسی برداشت انسان کی جبلت میں آجاتی تو کشت و خوں کے دریا نہ بہتے۔ انسان محض اپنی انا اور خودساختہ شخصیت پرستی و قوم پرستی کی آڑ میں جنگ و جدل کے میدان نہ سجاتا۔
”سنو سوچ دو طرح کی ہوتی ہے، ایک سوچ علم سے نکلتی ہے اور ریگستانوں میں جا کر سوکھتی ہے، دوسری سوچ وجدان سے جنم لیتی اور باغ کے دھانے پر لے جاتی ہے۔ ان ہی دو قسم کے خیالات سے دو طرح کا رہن سہن جنم لیتا ہے کس بل، حق حقوق ،چھینا چھپٹی، کرودھ کام ہنکار ہوتا ہے، دوسرا رہن سہن ایک اور قسم کی سوچ سے نکلتا ہے، اس میں وجدان، شانتی، امن، پریم کی وجہ سے ہمیشہ ہجرت کا سماں رہتا ہے.“ (راجہ گدھ)
یہ دنیا جو آگ اور خون کا تماشا لگائے ہوئے ہے، یہ سب چھینا چھپٹی ہی کی دین ہے۔ اور یہ جو ہمارا معاشرہ جرم اور ظلم کی نئی نئی ترکیبیں نکال رہا ہے، اس کے پیچھے بھی کرود اہنکار اور چھینا چھپٹی ہی کا رچایا کھیل ہے۔

اب بات کرتے ہیں حلال اور حرام کی جو راجہ گدھ کے سر دھرا گیا، ایک انتہائی بودا الزام ہے۔ حرام کی راجہ گدھ میں مثال یہ ہے ، بوڑھی گدھ نے کہا، ”لیکن کبھی کبھی ہماری حرص کا یہ عالم ہوتا ہے کہ معدے میں مزید کھانے کی ہمت باقی نہیں رہتی تو ہم پہلو کے بل لیٹ لیٹ کر کھاتے ہیں۔ بادشاہوں کی طرح پہلا کھایا قے کر دیتے ہیں اور پھر کھانے لگتے ہیں۔ بتا اگر جنگل والے ہمیں دیوانہ سمجھتے ہیں تو کیا برا کرتے ہیں.“ حرص، لوبھ، طمع کا حرام کے لقمے سے کیا تعلق ہے؟ وہی جو گدھ کے ساتھ مردار کا تعلق۔گدھ کو پتا ہے کہ اس کی خوراک مردار ہے، اور اسے یہ بھی پتہ ہے کہ اس کی بھوک بےکنار ہے لیکن وہ ازل سے اسی حرص میں مبتلا ہے۔ ایک مثال جو پوری دنیا کے سامنے ہے، وہ ہمارے سیاستدانوں کا وہ لوبھ ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں۔ یہ سچ ہے کہ جب حرام کا لقمہ حلق میں اتر جائے تو اس کی عادت ایسے ہی جسم و روح میں گھل جاتی ہے کہ پھر بھوک کے سوا جسم کو کچھ سوجھتا ہی نہیں۔ کیا ہمارے حکمرانوں کا حال مردار کھاتے گدھوں جیسا نہیں؟ یہاں تک کہ مردار اب محض حکمرانو ں ہی نہیں بلکہ عوام الناس کے حلق میں بھی اتر چکا ہے۔ یہ مردار سزا و جزا کا باعث ہے یا نہیں، نہیں معلوم، لیکن کسی کے حق کی، ناحق تلفی ہو جاتی ہے۔ اور پھر بات کی جاتی ہے مارکسی خیالات کی۔ فیاللعجب

بانو آپا بات کرتی تھیں اقدار کی۔ اور وہ جو ترقی پسند ہیں، جو عجلت کے سفر میں ہیں، وہ ہر شے مسخر کر لینے کی جستجو میں ہیں، زمان و مکاں کے سر بستہ راز، کہکشاؤں کے جہان، وسیع و عریض خلاؤں کی دسترس، خارجی کائنات کی سائنسی وجوہات۔ لیکن اس عجلت پرست انسان کو خود اپنے اندر جھانکنے کی فرصت کہاں۔ انہیں فرسودہ اقداری نظام سے کیا لینا دینا۔ یہ تو رجائیت پسندوں کے ذہن کا بخار ہے۔ وہ جو قدامت پرستی کے کیڑے ہیں، جو اپنی چھوٹی اور فرسودہ سوچ کے ہاتھوں سے انتہاپسند سپولوں کو دودھ پلا کر پال رہے ہیں۔ کیسی گھٹن اور جہالت بانٹ رہے ہیں، انسان کے پیدائشی حق آزادی پر قدغنیں لگا کر۔ کیسی سسکتی، بدمزہ، بدفعال اور نااہل زندگی گزارنے پر مجبور کر دیتے ہیں مذہب اور اقدار کے ڈراوے دے کر۔ جبکہ سائنس تو بتاتی ہے کہ موت کے بعد جب انسانی وجود گل سڑ کر ختم ہو جاتا ہے تو اس کے ساتھ ہی اس کی حقیقت بھی مر جاتی ہے۔ اور جب وجود ہی ختم، تو پھر کیا سزا اور کیا جزا، اور جب سزا جزا ہی نہیں تو کہاں کی اقدار اور کیسی اقدار، کیا حرام اور کیا حلال؟ اس لیے آپ کے نظام میں سب چلتا ہے، حرام حرام نہیں رہتا۔ تو پھر تو آپ کے لیے ”راجہ گدھ“ ایک بکواس ہی ہوئی۔ اور جسمانی تعلق کا حلال یا حرام ہونا بھی بےمعنی۔ اگر آپ محض جسم بن کر ہی جینا چاہتے ہیں تو درست، لیکن کسی گہری رات کے آخری پہر کے گھپ اندھیروں میں ذرا کسی دن محض ایک لمحے کے لیے صرف جسم بن کر سوچیں کہ کیسا اذیت ناک ہے محض جسم بن کر رہنا، تو اسی سمے ساری منطق اور دلیلیں دھواں ہو جائیں گی، اور جسم کے ابھرتے رونگٹے اور تھرتھری صبح تلک آپ سے دور نہ ہو پائے گی۔

ببانگ دہل کہا جا رہا ہے کہ بانو آپا نے جھوٹے اور بےکار نظریات کے ساتھ نسلوں کی گمراہی کا سامان کیا۔ یہ بھی کہا گیا کہ بانو آپا ضیاءالحق کے زیرسایہ ایسا ادب تخلیق کرتی رہیں جو مارشل لا کے جلادی اصولوں کو جلا بخش سکے۔ وہ چادر اور چار دیواری کا درس دے کر عورت کے حقوق کی تلفی چاہتی تھیں۔ وہ جنسی تعلقات کو پاکیزہ بنانے کے چکر میں انہیں محدود کرنا چاہتی تھیں۔ اس رائے کو مان بھی لیا جائے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر عورت مرد کے تعلق کو مادر پدر آزادی دینا ہی اس سماج کو بہتری کی طرف لا سکتا ہے تو پھر مغرب کی ٹھکرائی ہوئی عورتیں وفا شعار مرد کیوں چاہتی ہیں؟ وہ شادی جیسے بندھن سے سکون کیوں مانگتی ہیں؟ اور ایک عرصہ تک حرام رشتوں میں بندھی شوبز کی عورت کیوں ترستی ہے کہ اس کا بھی ایک گھر ہو، شوہر ہو، بچے ہوں۔ اگر حرام رشتوں سے ہی سکون مل سکتا ہے تو گرو رجنیش کا آشرم مقبول کیوں نہ ہوا، اسے تو خود مغربی ملکوں نے بھی لات مار کے اپنے ملک سے نکال باہر کیا، کیونکہ جدیدیت کے اس سفر میں بھی ان کی کچھ نہ کچھ اقدار ابھی تلک زندہ ہیں۔

یہ کہا درست کہ ”بانو قدسیہ کی راجہ گدھ ہر ایک کو کم عمری میں ہی اچھی لگتی ہے، جیسے جیسے وقت گزرتا ہے ہمارے شعور اور علم میں اضافہ ہوتا ہے، ہمیں یہ خیالات انتہائی بچگانہ سے لگنے لگتے ہیں۔“ لیکن اس بات کو تھوڑے سے الفاظ کا ہیر پھیر دے لیں تو بات صحیح معنوں میں سمجھ آنے لگتی ہے۔ ”جب ہمارے شعور کی آنکھ تازہ تازہ کھلتی ہے تو بانو آپا کی راجہ گدھ ہماری روح میں اترنے لگتی ہے کیونکہ اس وقت تک ہمیں جو سبق ہمارے بزرگوں سے ملتا ہے، وہ حرام اور حلال میں فرق کی واضح لکیر کھینچتا ہے۔ہمارا ادراک، ہمارا فہم ہمیں حرام سے ڈراتے ہیں تاکہ یہ ہمارے جسم اور روح کو پراگندہ نہ کر سکے۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا ہے ڈھیروں خواہشوں اور تمناؤں کی چیخم چنگھاڑ ہمارے حریص اور لوبھ پرست جسم میں اپنی جگہ بنانے لگتی ہے۔ ہم حرام کے لقمے بھی توڑنے لگتے ہیں اور اپنے جسم کی خاطر حرام تعلق بھی بناتے ہیں تو ہمیں راجہ گدھ کے گدھ جاتیوں سے نفرت ہونے لگتی ہے کیونکہ ہمیں ان میں اپنا عکس دکھائی دیتا ہے.“ یہی ایک کڑوا سچ ہے۔

یہ درست ہے کہ حرام تعلق ابنارمل بچے پیدا نہیں کرتا لیکن اس تعلق سے پیدا ہونے والے بچوں کی نفسیاتی الجھنیں انہیں نارمل رہنے ہی کہاں دیتی ہیں۔حرام تعلق اور حرام لقمہ دونوں ہی انسان کی روح کو پراگندہ کرتے ہیں۔ کہیں نہ کہیں ضمیر کی چبھن انسان کو اندر سے نوچتی ضرور ہے.

ہمارے بچپن میں ہمارے دادا، دادی، نانا، نانی، ہمارے بوڑھے والدین، ہمیں رہنے سہنے کا سلیقہ سکھانے کے لیے اس طور ڈرایا کرتے تھے
”بیٹا! زمین پر آہستگی سے چلو ورنہ زمین آخرت میں حساب مانگے گی“،
”بیٹا! چیخ کر نہ بولو ورنہ چیونٹیاں اور پرندے اپنے گھر کا راستہ بھول جائیں گے“،
”بیٹا جمائی منہ کھول کر نہ لیا کرو ورنہ شیطان تمہارے حلق میں گھس جائے گا.“
ہم ڈرے سہمے ان باتوں پر عمل کرنے لگتے، پھر جب بڑے ہوئے، سائنس اور منطق کا علم حاصل کیا، تو ان پرانی باتوں کو یاد کر کے مسکرانے لگتے، لیکن اپنے بڑوں سے منہ پھاڑ کر یہ نہ کہتے کہ ”آپ لوگ یہ کیا جہالت کا علم ہمیں دیتے رہے، ایسا کبھی ہوتا ہے کیا؟“، بلکہ ہمیں اپنے بزرگوں پر اور بھی زیادہ پیار آنے لگتا کہ وہ یہ سب ہمیں سنوارنے کے لیے تو کہتے تھے۔ پھر وقت جب اور بھی گزر جاتا ہے، جب وقت رخصت قریب آتا ہے، جب سائنس اور منطق کے پھپھولے ہمارے جسم اور روح کو زخم دینے لگتے ہیں، جب الجھنوں، کدورتوں، تلخیوں اور وحشتوں کے ڈیرے ہمارے آس پاس پڑاؤ ڈالنے لگتے ہیں تو ہماری اپنے گزرے ہوئے بزرگوں سے عقیدت اور بھی بڑھ جاتی ہے، اور ان کی ایسی ہی ڈھیروں باتوں کی چھاؤں میں بیٹھ کر من ہی من میں مسکرا کے دل کا بوجھ ہلکا کرنے لگتے ہیں۔ اشفاق احمد ہی نے بجا فرمایا ”جب آدمی کے وجود پر بہت سے سال کی بڑی دھول جم جاتی ہے تو پھر وہ اپنے اردگرد، اپنے ماحول میں سے ایسی چیزیں تلاش کرنے لگ جاتا ہے جو بڑی گرد آلود ہو چکی ہوتی ہیں، اور اس کی آرزو یہ ہوتی ہے کہ یہ چیزیں صاف ستھری ہو کے پھر سے ترتیب سے رکھی جائیں۔۔۔۔“ جوانی خواہ سب کی جدا جدا گزرے لیکن بڑھاپا زیادہ تر ایک ہی ترکیب سے آتا ہے۔ اس میں پچھتاووں کی سیاہی زیادہ گہری ہو جاتی ہے۔اس میں فلسفے اور منطقیں کچھ کمزور پڑنے لگتی ہیں، سارے تجریدی فلسفے بھولنے لگتے ہیں کیونکہ یادداشت رفتہ رفتہ ساتھ چھوڑنے لگتی ہے۔ اس سمے انسان روح کے زیادہ قریب ہو جاتا ہے کیونکہ جسم کمزور پڑجاتا ہے۔ اسی لیے اکثر پرانے محلوں سے ٹھاٹیں مارتے سمندر جیسی جوانیاں اور تعلیم و مقام مرتبے کا زعم سر پر اٹھائے اڑ جانے والے بے چین پکھیرو اکثر اپنے آخری وقت میں انھی غلیظ اور سرانڈ جیسی باس بکھیرتی گلیوں کے گرد آلود ادھ ٹوٹے تھڑوں پر بیٹھ کر گزرے وقت کی یاد میں کھوئے رہتے ہیں۔

بانو آپا اور اشفاق بابا ہمارے لیے ایسے بزرگ تھے جن کی باتیں ہم بچپن میں بھی سر دھنتے ہوئے سنتے، آج اگرچہ جوانی کی تلاطم خیز لہروں میں یا رزق کی تلاش کے سفر میں ہم کہیں دور نکل چکے ہیں، تو اگر ہمیں بڑھاپے کا وقت میسر آیا تو اس ادھ موئے بڑھاپے میں ہمیں اشفاق بابا اور بانو آپا کا روحانی اور اقداری فلسفہ ٹھنڈی چھاؤں جیسا محسوس ہوگا، جسے یاد کر کے اور دوبارہ پڑھ کے ہم اپنی بیتی یادوں کو اک بار پھر پھرولتے پھریں گے۔

Comments

فارینہ الماس

فارینہ الماس

فارینہ الماس کو لکھنے پڑھنے کا شوق بچپن سے ہی روح میں گھلا ہوا ہے۔ ساتویں جماعت میں خواتین پر ہونے والے ظلم کے خلاف افسانہ لکھا جو نوائے وقت میں شائع ہوا۔ پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم۔اے کیا، دوران تعلیم افسانوں کا مجموعہ اور ایک ناول کتابی شکل میں منظر عام پر آئے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */