بانو قدسیہ، اور دائیں بائیں کے لوگ - عنبرین صلاح الدین

ایسا لگتا ہے کہ زندگی کے سرمئی رنگ کو نظر انداز کرتے ہوئے، سیاہ اور سفید کے بیچ ایک انمٹ اور مستقل لکیر کھینچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ رنگ بھی ایسے ہیں جن کی اپنے اندر یا intrinsically کوئی مستقل حیثیت نہیں، بلکہ جب بائیں طرف سے دیکھا جائے تو دائیں طرف سب سیاہی ہو، اور یہی حال دائیں طرف سے دیکھے جانے کا بھی ہو۔ دور تک سیاہی! اب ایسا نہیں ہو سکے گا کہ کوئی شخص ایک ہی سانس میں لکیر کے پار موجود دوسرے شخص کی اچھائی بھی گنوا دے اور برائی بھی۔ اگرکوئی لکیر کی دوسری طرف ہے تو اسے خراب ہی ہونا ہوگا، سیاہ ہی ہونا ہوگا۔

اگر آپ بانو قدسیہ کو لکھاری کے طور پر پسند کرتے ہیں، تو یقینا آپ کو ان کےعورت کے پتی ورتا قسم کےنظریات سے بھی مکمل اتفاق ہوگا، آپ قدامت پسند ہوں گے، بابوں کے ماننے والے ہوں گے، مفتی کے ناول بھی پسند کرتے ہوں گے، شہاب نامہ آپ کی میز پر پڑا رہتا ہوگا، ضیاء الحق کو پسند کرتے ہوں گے، اگر ایسا ہے تو پھر تو آپ امریکہ کے ساتھی بھی ہوئے، اور اس طرح طالبانی بھی! وغیرہ وغیرہ!

بانو قدسیہ ایک بڑی لکھاری تھیں۔ ان کے افسانوں کی تخلیقی نثر جیسا ایک پیرا بھی ان کی وفات پر اچھلنے والے لوگ نہیں لکھ سکتے۔ راجہ گدھ اور اس کی مایوسی کی فضا مجھے پسند نہیں۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں ان کو لکھاری نہیں مانوں۔ مجھے ان کے عورت کے انتہائی submissive ہونے کے نظریے سے بھی اختلاف ہے، مگر اس بات کا ان کے ایک اعلی پائے کی افسانہ نگار ہونے سے کوئی تعلق نہیں۔ مجھے ممتاز مفتی اور شہاب نے متاثر نہیں کیا اور نہ مجھے ان کا تصوف بھاتا ہے، تو کیا ضروری ہے کہ ان باتوں کو پسند کرنے والوں میں مجھے شمار کیا جائے، کیونکہ میں بانو قدسیہ کے افسانے پسند کرتی ہوں اور انہیں ایک نہایت عمدہ افسانہ نگارسمجھتی ہوں۔ اس ہجوم اور شور میں وہ الگ اور ممتاز نظر آتی ہیں کیونکہ وہ الگ اور ممتاز ہیں۔ ان کی تحریر میں تاثیر بھی ہےاور زبان و بیان پر گرفت بھی، کہانی کو افسانہ بنانے کا ہنر بھی ہےاور مضبوط کرداروں کی تشکیل بھی جانتی ہیں، اپنا اسلوب بھی ہے اور نظریہ بھی۔

میں تو ایسی لکیر نہیں چاہتی، جہاں مجھے ایک ایسے فریم میں فِٹ کیا جائے جو مجھے مکمل طور پر ڈِفائن نہیں کرتا۔ آخر میری اپنی انفرادی حیثیت بھی تو ہے۔ اگر آپ کو ایسی لکیر بھاتی ہے، تو پوچھنا پڑے گا، آخر آپ کا معاملہ کیا ہے؟ آپ کے ہاں موجود تضادات کو کیا کہا جائے؟

آپ اپنے آدرشوں اور نظریات کو ماننے اور ان کے احترام کا تقاضا کرتے ہیں، مگر دوسرے کے آدرشوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ آپ کی بات سے کوئی اختلاف نہیں کر سکتا کیوں کہ وہ آزادی اظہار کا تقاضا ہے، مگر کوئی دوسرا اپنے آدرش لکھے تو اسے آپ کے دوستوں کے دائرے میں نہیں ہونا چاہیے۔ آپ دوستوں کودیوالی، کرسمس اور نئے سال کی مبارکباد تو دیتے ہیں، مگر رمضان یا عید کی مبارکباد کا وقت آتے ہی آپ کو خراب ملکی حالات یاد آ جاتے ہیں، سطحی اور عامیانہ تحریروں کی تعریف کرتے ہیں، چاہے شاعری کو شعریت سے عاری، افسانے کو تاثیر سے جدا رکھا ہو، مگر ایک بڑی لکھاری کی وفات پر، زندگی میں کھلے عام نہیں، آپ کا ”سسٹر ہُڈ“ کا نظریہ بھی کہیں گم ہوگیا۔

افسوس تو اس بات کا بھی ہے کہ میں نے ”عورت عورت“ کا سب سے زیادہ شور مچانے والی عورتوں کو، عورتوں کے ساتھ عجیب سلوک کرتے دیکھا ہے، جس کی بنیاد صرف قدامت پسندی کا لیبل ہے۔ ایک لبرل استاد، ایک طالبہ کی بات سننے سے اس لیے انکاری تھیں کہ وہ طالبہ چہرے پر نقاب کیے ہوئے تھی، اور آفس بوائے کی موجودگی میں نقاب نہیں اتارنا چاہتی تھی۔ حقوقِ نسواں کی ایک چیمپئن نہایت تکلیف میں مبتلا یہ شکوہ فرما رہی تھیں کہ اسلام آباد میں اتنی بڑی بڑی پوسٹس پر یہ عورتیں آ بیٹھی ہیں جو حجاب کرتی ہیں۔

آزادی اظہار، عورت کی آزادی، عورت کو لکھنے کی آزادی، سب کو اپنے نظریات بیان کرنے کی آزادی، آپ آخر اپنی بنائی گئی لکیر کے دوسری طرف موجود لوگوں کو یہ حق کیوں نہیں دیتے۔

آپ یہ سب کرنے پر کچھ مجبور بھی ہیں، کیونکہ آپ ایسا نہیں کریں گے تو کوئی آپ کو قدامت پسند کہہ دے گا، فنڈامینٹلسٹ کہہ دے گا، اور مسلمان کہہ دے گا۔!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com