محبت مقصد حیات نہیں - الماس چیمہ

میں ایک کالج میں لیکچرار تھی، ان دنوں کمر میں شدید درد تھا تو آرام کی غرض سے چند چھٹیاں لے رکھی تھیں، بچوں کو سکول چھوڑنے کے بعد میں گھر واپس آ کر بنا کوئی کام نمٹائے اپنے کمرے میں آرام کی غرض سے چلی آئی تھی. آنکھیں بند کیے سونے کی کوشش کرنے لگی تھی لیکن ایک عجیب سی بےقراری تھی. سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ پریشانی بھی کوئی نہیں، پھر دل کو یہ بے چینی کیوں لگی ہوئی ہے؟ میں اٹھ کر بیٹھ گئی تھی، پاؤں بیڈ سے نیچے اتار دیے تھے، ماربل کی ٹھنڈک پاؤں میں سرایت کر رہی تھی، تکیہ گود میں رکھ کر اس میں منہ چھپا لیا تھا، اچانک اتنا جی گھبرانے لگا تھا کہ میں نے تکیہ پھینک دیا تھا، ماتھے پر ہاتھ رکھا تو پیشانی جل رہی تھی، لیکن سخت سردی میں بھی پسینے کے قطرے..

یہ میرے دل میں کیا آگ دہک رہی ہے، لمبے لمبے سانس لے کر خود کو نارمل کرنے لگی، ایسا لگ رہا تھا کہ دل میں دفن کچھ ماضی کی تلخ یادوں سے خون رسنے لگا ہے، کچھ کھونے کا احساس آج بھی باقی ہے، کچھ ادھوری چاہتیں وجود کو اندر ہی اندر کھائے جا رہی ہیں، اچانک ایک جھٹکے سے بیڈ پر گری تھی، ہاتھ ریموٹ کے بٹن پر جا لگا تھا جو بریکنگ نیوز ٹی وی آن ہونے سے مجھے سنائی دی تھی، اس سے وحشت مزید بڑھنے لگی تھی. میں اپنے گالوں کو مسلنے لگی تھی، کان سائیں سائیں کر رہے تھے، وجود تو جیسے پتھر کا ہی ہوگیا تھا، جان ہی باقی نہیں رہی تھی،
’’دسویں جماعت کی طالبہ نے محبت کی ناکامی پر خود کشی کر لی.‘‘

میں بھی تو ایک دفعہ یہی غلطی کرنے والی تھی، پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی، آنسوؤں کی لڑیاں رخساروں کو تر کر کے دامن کو بھگو چکی تھیں، مسلسل رونے سے آواز رندھ گئی تھی، کربناک ماضی کے ٹوٹے ہوئے سپنے کے کانچ جن سے میری آنکھیں برسوں پہلے زخمی ہوئی تھی، ان زخموں سے لہو آج پھر رس رہا تھا.
میں تلخ سوچوں کے گڑے مردے اکھاڑنا نہیں چاہتی تھی، جنھیں زیست میں مسکرانے کے لیے میں دل کے کسی کونے میں دفن کر چکی تھی، لیکن ذہن مسلسل ماضی میں دھکیل رہا تھا، سارے دھندلے منظر صاف ہونے لگے تھے، میں نے خوف سے آنکھیں بھینچ لی تھی.
********
لیکچر کے بعد ساری کلاس میں ہلکی پھلکی گپ شپ جاری تھی.
میم!
خواب، خواہش اور زندگی میں کیا فرق ہے، کلاس کی سب سے ذہین بچی زیبا نے پوچھا تھا.
میم نے مسکراتے ہوئے اس کا معصوم چہرہ دیکھا تھا، اک سکون سا میم کی نگاہوں میں سما گیا.
میم نورین کو دلی طور پر اس بچی سے خصوصی وابستگی تھی، ایک تو وہ پڑھنے میں بہت اچھی تھی، دوسرا جب بھی وہ اس کا بےداغ چہرہ دیکھتیں، اس پر قوس و قزح کے رنگ بکھرے ہوتے، آنکھوں سے ذہانت ٹپکتی تھی، جس سے میم کا دل باغ باغ ہو جاتا.
زندگی خدا کی دی ہوئی نعمت ہے، اس کی امانت ہے، ایک دن سانسوں کی مالا ٹوٹ جائے گی، زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں، کب ساتھ چھوڑ دے اور خواہش کہتے ہیں کہ کسی چیز، مقام یا رتبے کو پانا جو انسان کے پاس نہ ہو.
خواب وہ ہوتے ہیں جو ہم اپنی خواہشات کے پورا ہونے سے پہلے ہی خیالی طور پر پورا ہوتے دیکھ کر خوشی حاصل کرتے ہیں، خواب حوصلہ دیتے امید جگاتے ہیں، تحریک پیدا کرتے ہیں، زیادہ ول پاور دیتے ہیں لیکن اگر بس خواب دیکھتے جائیں اور کوئی عملی اقدامات نہ کریں تو بہت جلد یہ خواب ٹوٹ کر انسان کو توڑ دیتے ہیں، جیسے آپ میں سے اگر کوئی فرسٹ آنے کا خواب دیکھتا ہے لیکن اگر وہ بس خیالی پلاؤ ہی پکاتا رہےگا، محنت نہ کرے گا تو اس کا یہ خواب پورا نہیں ہوگا.
خواب اور محنت لازم و ملزوم ہیں.
سب بچے میم کی باتیں غور سے سن رہے تھے.

آپ کا خواب کیا ہے زیبا بیٹے؟
میم نورین نے پوچھا تھا.
میرا خواب ٹیچر بننا ہے، ہزاروں بچوں کے دلوں کو علم کی روشنی سے منور کرنا ہے، میرا خواب ہے کہ میں تدریس میں ایسی ذمہ داریاں سر انجام دوں کہ جب اس دنیا سے جاؤں تو ہزاروں سٹوڈنٹ میرا نام لینے والے ہوں.
ماشاللہ آپ کی تو بہت اچھی سوچ ہے، خدا آپ کو اپنے مقصد میں کامیاب کرے، میم نے اس کی سوچ کو سراہا تھا.
لیکن میم بہت دنوں سے مجھے ایک خواب بہت تنگ کر رہا ہے.
میں خود کو پڑھاتے ہوئے دیکھتی ہوں لیکن جب لکھتی ہوں تو لفظ خود بخود ہی مٹتے جاتے ہیں.
خدا خیر کرے گا، پریشان نہیں ہوتے، اس کی تعبیر کسی مولوی صاحب سے پوچھ لینا ضرور.
اور اآیت الکرسی پڑھ کر سویا کرو، کچھ خواب شیطان کی طرف سے بھی ہوتے ہیں.
بیل ہو چکی تھی کلاس کو ختم ہوئے پانچ منٹ اوپر ہو چکے تھے، میم نے ٹائم دیکھتے ہوئے بچوں کو خدا حافظ کہا اور اگلا لیکچر لینے کے لیے کلاس سے نکل گئی تھی.
***********
بارش والے دن بھی چھٹی نہ کرنے والی زیبا ایک ہفتے سے غائب تھی، ساری کلاس اس کے لیے فکر مند تھی، اطلاع ملی تھی کہ وہ سخت بخار میں مبتلا ہے. ٹیچرز بھی ہونہار بچی کے لیے دعاگو تھے، تھوڑے دنوں بعد فائنل اگزامز ہونے والے تھے.
ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد وہ گھر آ گئی تھی، آتے ہی پھر بخار نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا، سب گھر والے بہت پریشان تھے، ان کی پھول سی بچی دنوں میں لپیٹی گئی تھی.
ڈاکٹر بھی پریشان تھے کہ دوائیاں اثر کیوں نہیں کر رہیں، ان کو اندازہ ہوگیا تھا کہ کوئی پریشانی ضرور ہے جس کا اتنا گہرا اثر جسم پر ہوگیا ہے.
امی جی پوچھ پوچھ کر تھک گئی تھیں لیکن وہ چپ کا روزہ رکھے ہوئی تھی، نفی میں سر ہلا دیتی کہ اسے کوئی ٹینشن نہیں ہے.
وہ تو بیماری میں بھی سب کو ہنسانے والی بچی تھی، بخار کا زور ٹوٹ گیا تھا لیکن وہ سارا دن اپنے کمرے میں ہی بند رہتی تھی، کسی سے بھی کوئی بات نہیں کرتی تھی، اس نے اپنے سارے ڈاکومنٹس پھینک دیے تھے، وہ پڑھنا نہیں چاہتی تھی. امی جان کو وہم تھا کہ کسی نے جادو کروا دیا ہے، وہ تعویذ لائی تھیں جسے دیکھ کر زیبا بھڑک اٹھی تھی.
’’کچھ نہیں ہوا مجھے مر نہیں گئی ہوں میں‘‘
کوئی جادو نہیں ہوا مجھ پر، آپ کیوں میرے پیچھے پڑی ہوئی ہیں، میرا ویسے ہی دل نہیں کرتا پڑھنے کو، اس لیے نہیں دینے میں نے پیپر.
امی جان پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھیں، اس بچی نے تو کبھی آنکھ اٹھا کر بت نہیں کی تھی، یہ اس کو کیا ہو گیا ہے، ان کا شک یقین میں بدلنے لگا تھا کہ واقعی کسی حاسد نے کچھ کروا دیا ہے.
وہ پاؤں پٹختے ہوئے اوپر اپنے کمرے میں جا چکی تھیں، جاتے ہی وہ نیچے کارپیٹ پر بیٹھ کر رونے لگی تھی، اپنا فیورٹ گانا لگا دیا تھا.
محبت دے دل چوں پلیکھے نی جاندے
محبت دے مجبور ویکھے نی جاندے
محبت نے مجنو نوں رقاصہ بنایا
محبت نے رانجھے نوں جوگی بنایا
محبت دے لٹے نے ہو جان دیوانے
ایہہ جس تن نوں لگدی ایہ اوہ تن جانے
اچانک اس نے موبائل دیوار پر دے مارا تھا، گانے کی آواز بند ہوگئی تھی، اپنے بال نوچنے کے بعد وہ بےحس و حرکت ہو گئی تھی، چھت پر کسی غیر مرئی نقطے کو گھورنے لگی تھی. کتنی ہی دیر ایسے بیٹھی رہی تھی، پاؤں سن ہو رہے تھے، مگر وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر یونہی بیٹھی ہوئی تھی، اور گالوں پر گرم پانی پھسلتا جا رہا تھا.
***********
محبت نے ایک بار پھر معصوم کلی کو کھلنے سے پہلے ہی نوچ ڈالا تھا، ہنستا مسکراتا چہرہ رلا دیا تھا، گلابی رنگت کو گُلا دیا تھا، آنکھوں کی چمک چھین لی تھی، مستقبل کے سپنوں کو دھندلا دیا تھا، زندگی کے عزائم جن پر وہ بڑے فخر سے سوچا کرتی تھی، اسے یقین تھا کہ وہ سب پا لے گی، پھر وہ ایک دن محبت کی آندھی کی زد میں آگئی تھی، اور چور چور ہو گئی تھی، روح تک گھائل ہو گئی تھی.
مجھے نہیں جینا اس کے بغیر، وہ میرا مقصد حیات تھا، میرا جینے کا مقصد تھا، میرے ہر سپنے کا تانا بانا اس سے ہی ملتا تھا، میری آنکھوں کا نور کیسے چھین سکتا ہے وہ، مجھے سفر میں بے یار و مددگار نہیں چھوڑ سکتا، دور تک لا کر منزل پر جانے تک میرا ساتھ نبھانے کا وعدہ کر کے وہ مجھے رستے میں کیسے چھوڑ سکتا ہے؟ وہ اپنی آنکھوں کو مسل رہی تھی، اس کے دماغ کی رگیں پھٹ رہی تھیں، ہائے اللہ جی میری آنکھیں .. یہ کیا ہوگیا ہے مجھے؟
یہ محبت کھا گئی ہے مجھے، مجھے کھا گئی ہے یہ محبت، مجھے موت آ جائے، پھر ہی شاید یہ اذیت کچھ کم ہو، یا اللہ میری سانس روک دے، مجھے موت دے دے.
اگر میں نے بھی اس جیسی محبت کی ہوتی تو آج خوش و خرم ہوتی، مگر میں نے اس جیسی محبت نہیں کی ہے، ورنہ اس کی طرح میرے لیے بھی رستہ مڑنا آسان ہوتا، اپنے وعدوں سے مکرنا آسان ہوتا.
میں نے زندگی میں اک اک پل محسوس کیا اسے، اپنے روبرو دیکھا اسے، اس کی ہر پسند کو اپنی پسند بنایا، اپنی رگوں میں خون کی مانند شامل کیا اسے، آج وہ کہتا ہے کہ اسے مجھ سے محبت نہیں ہے.
میں بتاؤں گی تمھیں محبت کیا ہوتی ہے، جب میری موت کی خبر تم تک پہنچے گی، پھر احساس ہوگا تمھیں محبت میں حد سے گزرنا کسے کہتے ہیں، محبت ہارنے کا دکھ کیا ہوتا ہے؟
وہ وحشی ہو چکی تھی، پنکھے کو پھندا لگانے کا احساس شدت پکڑ رہا تھا، وہ عملی اقدامات کرنے ہی والی تھی کہ کوئی دروازہ کھول کر اندر آیا تھا، وہ پتھرائی نگاہوں سے میم نورین کو دیکھتی جا رہی تھی، شومی قسمت کہ دروازہ لاک نہیں تھا، ورنہ اس نے زندگی محبت کے نام پر ہار دینی تھی.
***********
اس کی مسلسل خاموشی سے میم نے خود ہی آگے بڑھ کر اسے بازو سے تھام کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا تو وہ دھڑام سے نیچے گر گئی تھی، ہوش میں آنے کے بعد وہ میم نورین کے گلے لگ کر روئی جا رہی تھی.
میم میرا جینے کو جی نہیں کرتا، زندگی خوبصورت ہے، یہ غلط فہمی دور ہوگئی ہے.
وہ پہلی بار کسی کو اپنا راز داں بنانے لگی تھی.
نہیں بچے! ایسا نہیں کہتے، مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے؟
کیا پرابلم ہے؟ شاباش مجھے بتاؤ.
میم نورین نے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے اسے اپنے اعتماد میں لے لیا تھا.
وہ لب کھولنے لگی تھی، اپنی حالت زار کی وجہ بتانے لگی تھی.
میم آپ کو پتہ ہے نا کہ مقصد ہار جانا زندگی ہار جانا ہوتا ہے، محبت ہار جانے سے میں بھی زندگی ہارنے والی ہوں.
کیونکہ محبت ہی میرا مقصد حیات تھا.
مگر بیٹا! محبت کبھی مقصد حیات نہیں ہوتا، نہ بنانا چاہیے.
میں نے بنا لیا ہے میم.. میں نے محبت کو ہی مقصد حیات بنایا ہے.
مقصد بدل بھی سکتا ہے، میم نورین نے جواب دیا تھا.
وہ اگلی بات بتانے لگی تھی.
میم! میرا کزن کہتا ہے کہ اسے مجھ سے محبت نہیں ہے. میں نے کہا کہ پھر وہ والہانہ پن، میری ہر وقت تعریفیں، وہ اظہار محبت کیا تھا؟ ساری ساری رات مجھ سے باتیں، وہ بےقراری، وہ میرے بغیر جی نہ سکنا، جیسی دل کو چھو لینے والی باتیں، وہ سب کیا تھا؟ ایسی ہی باتیں کرتا تھا وہ میم..
مجھ سے کہتا تھا کہ اس پوری دنیا میں مجھ جیسا کوئی حسین نہیں، میرے ہونٹ یاقوتی ہیں، اور میں سارا وقت ان باتوں کے حصار میں ہی اک خوشبو سی محسوس کرتی رہتی.
اگر وہ ویسے چھوڑ دیتا تو شاید میری اتنی بری حالت نہ ہوتی، اس کی باتوں نے توڑا ہے مجھے..
کہتا بڑی ذہین بنتی ہو، میں تو بس چیک کر رہا تھا کہ تم بھی دوسری لڑکیوں کی طرح پاگل ہو یا سمجھدار، بہت مایوس کیا ہے تم نے مجھے، تم تو بڑی آسانی سے محبت کے جال میں پھنس گئیں، عورت کے جذبات کے ساتھ کھیل کر اسے بہلانا بہت آسان ہے..
میری زندگی اور موت کا سوال بن چکا، اس کے لیے سب جذبات کا کھیل تھا.
***********
میں نے اپنی زندگی میں جسے سب سے زیادہ اہمیت دی، آج وہ مجھے بہل جانے کا طعنہ دیتا ہے، وہ مجھے ویسے چھوڑ دیتا، اپنے آپ کو بچانے کے لیے اپنی ذات پر کوئی عذر نہ لانے کے لیے، میری محبت کو گالی نہ دیتا، اپنے اظہار محبت کو جھوٹا نہ کہتا، ویسے ہی کسی اور کا ہو جاتا.
جس کو ہلکا سا بخار ہو، اور میں اس کے لیے ساری رات نفل پڑھوں، رو رو کر اس کی صحت یابی کے لیے دعائیں مانگوں، اسے ایک کانٹا تک نہ چھبنے دیتی، اس نے میرا سارا وجود ہی آگ میں جھونک دیا، میری چاہتوں کا یہ صلہ دیا ہے اس نے مجھے، میرے پاس اس کے لیے چاہتوں کا سمندر تھا اور اس کے پاس ایک سچا اقرار بھی نہیں تھا.
دیکھو بیٹا!!
پہلے تو پوری کوشش کرنی چاہیے کہ کسی کے ساتھ ایسا جذباتی تعلق بننے نہ پائے جو ٹوٹنے کی صورت میں خون کے آنسو رلائے اور نہ ہی کسی ایسے بندھن میں بندھنا چاہیے جس کا کوئی خوشگوار انجام نہ ہو، محبت کر کے ناکامی کی صورت میں خود کو مار دینے، دنیا چھوڑ دینے، خالی چھتوں کو گھورتے رہنے سے بہتر ہے کہ انسان اپنے دل و جذبات کو قابو میں رکھے. لیکن اگر وہ ایسا نہ کر سکے، ایسا کوئی روگ پال لے تو پھر یاد رکھنا اذیتیں ہی اس کا مقدر ہیں، محبت اور اذیت کو دو مترادف لفظ ہی سمجھیں.
محبت چار لفظوں کا مجموعہ ہے م سے موت، ح سے ہلاکت، ب سے بربادی، ت سے تباہی.
کوئی بھی ان سے بچ نہیں سکتا، کبھی محبوب کی نظریں بدل جاتی ہیں، کبھی ذات پات کا ایشو آ جاتا ہے، کبھی دھوکا ہو جاتا ہے، غرض محبت ہر انسان کے ساتھ اس کے حالات کے مطابق سلوک کرتی ہے. صرف یہ ہوتا ہے کہ دکھ سانجا ہوتا ہے، جو بھی حالات ہوں، محبت نے آپ کو جس موڑ پر مرضی ہی کیوں نہ لا کر کھڑا کر دیا ہو، آپ نے جان کی بازی نہیں لگانی..
زندگی خدا کی دی ہوئی امانت ہے، اسے قربان کرنے کا جنون اس کی راہ میں ہی جچتا ہے جسے شہادت کہتے ہیں، انسانوں کے لیے اسے قربان کرنا بہت بڑی بیوقوفی ہے.
ہاں انسانوں سے محبت میں آپ اس حد تک ضرور جا سکتے ہیں کہ اپنی انا اور خوشی کو ان کے لیے قربان کیا جا سکے، محبوب آپ سے محبت نہیں کرتا، آپ کو دیکھنا بھی نہیں چاہتا تو آپ اسے نظر نہ آئیں، یہ محبت کا تقاضا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ خود سے جینے کا حق ہی چھین لیں.
اپنی زندگی اور اپنے سے جڑی زندگیوں کو برباد کرنے کا حق آپ کے پاس ہرگز نہیں ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ اگر آپ محبت میں زندگی نہ بھی ہاریں تو ہر وقت رو کر مایوس ہو کر سوگ میں ڈوب کر اسے جیتے جی مرنے جیسا نہ بنائیں، وقتی رونا آ رہا ہو تو رو لیں لیکن یہ مستقل نہیں ہونا چاہیے.
محبت کے نہ ملنے کا دکھ تو بہت ہوتا ہے لیکن یہ دکھ منزل کے رستے کی رکاوٹ نہیں بننا چاہیے. محبت کو کبھی زندگی کا مقصد نہ بننے دو ورنہ امید ٹوٹ جائے گی اور امید کا ٹوٹنا انسان کو توڑ دیتا ہے. ہمارے خواب بہت اونچے ہونے چاہییں، ان کی جستجو تمام عمر جاری رہنی چاہیے، یہ نہ ہو کہ محبت کی ناکامی پر تمام مقاصد دم توڑ جائیں، زندگی چلتے رہنے کا نام ہے، ہم کیوں رکیں، محبت کو رکنا ہے تو رک جائے، یہ اس کی کمزوری ہے، لیکن ہم مسلسل چل کر مظبوط ہونے کا ثبوت دیں گے..
میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کو محبت نہیں ملی تو بھی آپ کے پاس پرامید رہنے کی وجہ ہے، وہ ہے آپ کا مقصد..
محبت کو مقصد بنا لینے کی صورت میں اگر ہم ناکام ہو جائیں تو ہم مقصد ہی کھو دیں گے، مقصد کا کھونا انسان کو توڑ دیتا ہے، محبت کا کھونا انسان کو نہیں توڑتا، انسان تب ٹوٹتا ہے جب امید ٹوٹ جائے، امید کو کبھی نہ ٹوٹنے دو.
جب محبت لاحاصل ہوگئی تب بھی میں نے خود کو مایوس نہیں پایا، اس کا دکھ تو بہت ہوا، مگر یہ دکھ میری زندگی کے مقاصد کا رستہ نہیں روک پایا، کیونکہ حاصل کرنے کی جستجو ابھی بھی جوش میں ہے، محبت نہ سہی اور بہت کچھ سہی، لیکن یہ محبت سیکھنے کو بہت کچھ دے کر جاتی ہے.
اگر محبت میرا نصب العین بن جائے تو میں امید چھوڑ دوں گی لیکن میں ہمیشہ پرامید رہنا چاہتی ہوں، اس لیے محبت میری زندگی کا مقصد نہیں.
پرامید رہنے سے مراد خیالوں میں دنیا بسانا نہیں ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ محبت تو چلی گئی لیکن ابھی بھی زندگی میں بہت کچھ ایسا ہونے والا ہے جو شاید محبت سے کہیں زیادہ اہم ہو، یہ ہی احساس امید دیتا ہے..
***********
زیبا خاموشی سے میم کی باتیں سن رہی تھی، چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر بولی، میم وہ اقرار نہ کرتا تو محبت یک طرفہ ہی رہنی تھی، لیکن جب کوئی آپ سے اقرار کر کے حسین دنیا کا تصور آپ کی آنکھوں اور ان دیکھی منزل کی سرشاری آپ کی روح میں اتار کر اپنا ہاتھ چھڑاتا ہے تو بہت دکھ ہوتا ہے، وہ بری طرح رو دی تھی.
میری جان! بات یہ ہے کہ جب محبت بےحس انسان سے ہو جائے، جس کے نزدیک ہماری کوئی قدر و قیمت نہ ہو، ایسے انسان ہماری محبتوں کے قابل ہی نہیں ہوتے، جتنی جلدی ہو ان سے خود کو الگ کر لینا چاہیے، اور افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ایسے لوگ اپنے اوپر کوئی آنچ بھی نہیں آنے دیتے، وہ آرام سے اپنا آپ بچا جاتے ہیں. آپ کو تو خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے جس نے آپ کو زیادہ بھٹکنے سے بچا لیا. ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا، واپسی کا رستہ باقی ہے.
***********
لوٹ آؤ اپنے مقصدحیات کی طرف
آپ نے جو خواب دیکھا تھا کہ لفظ لکھتی ہوں تو خود بخود ہی مٹتے جاتے ہیں، یہ ہے اس کی تعبیر، محبت آپ کے مقاصد کی دشمن بن گئی ہے، آپ کے خوابوں کو برباد کرنے پر تلی ہوئی ہے، جو محبت میں مرنا قبول کرتا ہے، وہ بزدل ہوتا ہے، محبت میں ناکامی کے بعد اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جینا ہی بہادری ہے.
آپ نے جس انسان کی سب سے زیادہ چاہت کی اس نے آپ کی جھولی میں بےوفائی اور لاتعلقی کے پتھر ڈالے، اب آپ کے پاس چوائس ہے کہ آپ ان پتھروں سے یا تو اپنا سر پھوڑتی رہو یا ان کو پھینک کر ایک نئی زندگی شروع کرو، اس زندگی میں آپ پہلے سے زیادہ عقل مند ثابت ہو سکتی ہو، آپ کو ایسی بصیرت عطا ہو سکتی ہے کہ آپ قبل از وقت ہی آنے والے خطرات پہچان لیا کروگی، اور ایسی بصیرت ٹھوکریں لگنے کے بعد ہی عطا ہوتی ہے. آپ تو جانتی ہو کہ آپ کے خواب کیا ہیں؟ لوٹ آؤ ان کی طرف، وہ بے یار و مددگار آپ کی واپسی کی راہیں تک رہے ہیں، اس محبت کو ختم کر دو، ختم نہ کر سکو تو دل کے کسی کونے میں دفن کر دو، اپنے چہرے کی ہنسی واپس لے آؤ، کوئی اور چاہے آپ کے ساتھ مخلص نہ ہو، آپ خود تو اپنے ساتھ کم از کم مخلص بنو. اور مخلص اپنے ساتھ ایسے بنتے ہیں کہ کچھ بھی ہو خود کو نقصان نہیں پہنچاتے.

اس کے آنسو رک چکے تھے، وہ میم کو حیرت سے دیکھ رہی تھی، شعور کی نئی منزلیں طے کرنے لگی تھی.
میم نے اپنی بات جاری رکھی، وہ جانتی تھیں کہ یہی وقت ہے اس پر زندگی کی حقیقت آشکار کرنے کا، اس کے لیے حقیقت جاننا بہت ضروری تھی، اور یہ جاننے کا صحیح وقت تھا. انسان جتنی دیر مرضی سرابوں کے پیچھے بھاگتا رہے، ایک دن اس نے حقیقت کا سامنا کرنا ہی ہوتا ہے. آپ کو اگر کچھ نہیں ملا، محرومی ہی ملی ہے، کسی نے کچھ نہیں دیا، آپ کے خواب ادھورے ہیں تو آپ کسی کو کامل کر دو، ایک شخص کی سزا اپنے سگے رشتوں کو اذیت میں مبتلا رکھ کر نہیں دی جا سکتی، آج آپ کے وہ اپنے ہی ہیں جو آپ سے بہت محبت کرتے ہیں، آپ کی حالت پر رو رہے ہیں، دعائیں مانگ رہے ہیں، ان کے لیے ہی اپنی زندگی کی طرف لوٹ آؤ، تم ان کو مایوس نہیں کر سکتی، کیونکہ جو محبت وہ تم سے کرتے ہیں، اس کا رنگ کبھی پھیکا نہیں ہوگا، ان کی فکر اور چاہت کھوٹی نہیں ہے، ان کے لیے ہی زندگی کی قدر کرو.
زیبا نے نگاہیں اوپر اٹھائی تھیں، میم کو اس کی آنکھوں میں ایک نئی چمک نظر آئی تھی، جو نئی زندگی شروع کرنے کے لیے کافی تھی.
جس حوصلے کی اسے ضرورت تھی، وہ اسے مل گیا تھا، وہ اک سکون سا اپنی روح میں اترتا ہوا محسوس کر رہی تھی، سوچ کے زاویے بدل گئے تھے، وہ اندر سے جڑنے لگی تھی، اور جب انسان حقیقت تسلیم کر لے وہ اندر سے بہت مظبوط ہو جاتا ہے.

اس نے اپنے جذبات کے ساتھ کھیلنے والے کو معاف تو نہیں کیا تھا لیکن اب اسے اس سے کوئی گلہ بھی نہیں رہا تھا، شکوہ تو اسے اپنے آپ سے تھا جو وہ اپنے پھول جیسے جیون کو اس بےقدرے انسان کے پیچھے رول رہی تھی، اپنے مقصد حیات کو جھوٹی محبت کے نام پر برباد کرنے لگی تھی.
دھند اب جھٹ چکی تھی، مناظر صاف تھے، سچائی اس کی آنکھوں میں اتر آئی تھی، بےقراری ختم ہوگئی تھی، اس نے جینے کا راز پا لیا تھا، وہ اپنی زندگی کے مقصد کی طرف لوٹ آئی تھی. وہ ان چند خوش نصیب انسانوں میں سے تھی جو برباد ہونے کے بعد بھی زمین میں نہیں دھنستے، وہ دوبارہ اٹھتے ہیں اور آسمان کی وسعتوں کو چھو لیتے ہیں، پھر وہ زندگی کے سفر میں ان کانٹوں سے اپنا دامن بچا کر چلتے ہیں جنہوں نے پہلی بار ان کی روح کو گھائل کیا ہوتا ہے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */