مظفرنگر، ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تازہ رپورٹ - ریحان خان

2013 کے مظفر نگر میں ہوئے بھیانک اور مسلم کش فسادات درجنوں مسلمانوں کا قتل ہوا تھا۔ جاٹ برادری کے حیوانوں نے سیکڑوں مسلم خواتین کو بے آبرو کیا تھا۔ تین سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی وہ مسلم خواتین ہنوز انصاف سے محروم ہیں۔ صرف خواتین ہی نہیں بلکہ اس میں مارے گائے افراد کے اہلِ خانہ اور دیگر رفیوجی کی طرح ریلیف کیمپوں میں زندگی بسر کررہے لوگ بھی انصاف سے محروم ہیں۔ اور الیکٹرانک میڈیا معاشی وجوہات پر ہندو خاندانوں کی کیرانہ سے نقل مکانی کو موضوع بحث بنا رہا ہے۔ یہ دونوں معاملات ریاستی و مرکزی سرکاروں کی ناکامی کا مظہر ہیں۔ جہاں اکھلیش مظفر نگر کے مسلمانوں کو انصاف دلانے سے محروم رہے وہیں نریندری مودی کیرانہ کے ہندوؤں کو روزگار فراہم کرنے میں ہنوز ناکام ہیں جس کے بلند و بانگ دعوؤں پر انہیں نے گزشتہ پارلیمانی الیکشن میں کامیابی حاصل کی تھی۔ بلکہ مظفر نگر فسادات کی تو عدالتی شنوئی بھی اب تک شروع نہیں ہوئی ہے۔ ملزمین بھی ضمانت پر آزاد گھوم رہے ہیں۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مظفرنگر فسادات کے ضمن میں جاری کی گئی ایک رپورٹ میں خونچکاں انکشافات پیش کیے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یہ رپورٹ مظفرنگر فسادات کے کچھ متاثرین سے مل کر ان سے ہوئی گفتگو کی بنیاد پر ترتیب دی ہے۔ ایسی ہی غزالہ نامی ایک متاثرہ نے کہا کہ 8 ستمبر 2013ء کی شام وہ اپنے چھوٹے بیٹے کے ساتھ شاملی کے لک علاقے میں کھیت میں کام کررہی تھی جب تین جاٹ افراد نے اس کی آبرو ریزی کی۔ جس کے بارے میں غزالہ نے پولیس میں شکایت درج کرائی لیکن یوپی پولیس کا کہنا ہے کہ غزالہ نے کبھی شکایت درج ہی نہیں کرائی۔ بالآخر چار ماہ بعد 18 فروری کو یوپی پولیس نے ایف آئی آر اس وقت درج کی جب متاثرہ کے وکیل نے معاملہ سپریم کورٹ میں اٹھایا۔ پولیس میں درج ایف آئی آر میں غزالہ نے بتایا کہ ان تین افراد نے اسے اور اس کے بیٹے کو جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی۔ اس واقعہ کو تین سال کا عرصہ گزر گیا لیکن ان تین افراد پر اب تک کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔ اور وہ ضمانت پر آزاد گھوم رہے ہیں۔ یہ آزاد مجرمین غزالہ کے لئے مستقل خطرہ ہیں کیونکہ غزالہ نے ان کی دھمکیوں کے باوجود ان کے خلاف ایف آئی درج کرانے کی جرات کی ہے۔ غزالہ ان سات مسلم خواتین میں سے ایک ہیں جنہوں نے فسادات کی بعد انصاف کی طلبی کے لئے عدالتوں سے رجوع کیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں بتایا ہے کہ کسطرح پولیس، عدالت اور ریاستی حکومت مظفر نگر فسادات میں عصمت دری کا شکار خواتین کو انصاف دلانے میں ناکام رہے ہیں ان کے مجرمین آزاد گھوم رہے ہیں۔ بلکہ متاثرہ خواتین کو کیس واپس لینے کے لئے کھلے عام قتل کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔

ایمنسٹی کی رپورٹ میں دلناز نامی ایک مسلم خاتون نے کہا کہ ہمیں اب بھی اپنی جان کا خطرہ لاحق ہے۔ دلناز کے بیان بدلنے کے بعد ان کی عصمت دری کے مجرموں کو عدالت نے بری کر دیا ہے۔ بیان تبدیل کرنے کی وجہ بھی دلناز قتل کی دھمکیاں بتاتی ہیں۔ ایسی ہی کہانی فاطمہ نامی خاتون کی بھی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کئی متاثرین کے واقعات درج کرنے کے بعد اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ان دھمکیوں کی پولیس میں شکایت درج کرانے کے باوجود بھی مجرموں پر کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔ عالمی تنظیم نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ریاستی پولیس اور حکومت ان معاملات پر تساہلی کا شکار ہے۔ اس تساہلی اور لاپرواہی کہ وجہ سے عصمت دری کا شکار خواتین کو تین سال بعد بھی اپنی زندگی ازسرِ نو شروع کرنے مسائل درپیش ہیں۔ ظاہر سی بات ہے ان سارے معاملات کی ریاستی حکومت اور وزیر اعلی اکھلیش یادو کی علم میں بھی ہوگی لیکن ان کی خاموشی سوال کھڑے کرتی ہے کہ کیا وہ بھی اپنے والد ملائم سنگھ یادو کی طرح مسلمانوں کو محض ووٹ بینک سمجھتے ہیں؟

Comments

ریحان خان

ریحان خان

ریحان خان بھارت کے نوجوان قلمار ہیں- اردو ادب اور شعر و شاعری سے شغف رکھتے ہیں، تجارت پیشہ ہیں-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */