فتح کا فتنہ - ریحان خان

قارئین کے لیے یہ بات حیرت انگیز ہوگی لیکن یہ سچ ہے کہ زی نیوز پر اسلامی تعلیمات، شریعت، عقائد اور خلفائے راشدین کی توہین کرنے والے آزاد فکر کے حامل شخص طارق فتح کی فتنہ سامانیوں کے خلاف سنجیدہ فکر کے علماء نے اب تک محاذ نہیں سنبھالا ہے۔ ہاں کچھ علماء شبیہ افراد نے الیکٹرانک میڈیا پر طارق فتح کا سامنا کیا ہے، مگر وہ عالم دین نہیں تھے۔ اگر وہ عالم دین ہوتے تو فتح کے فتوی کا یہ فتنہ پنپ ہی نہیں پاتا۔ جوش و جذبات سے بھرے یہ افراد دفاع اسلام کے جذبے سے سرشار طارق فتح سے بحث کرنے پہنچتے ہیں۔ اور خود اس کی تشہیر کا سبب بن جاتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ اس سارے معاملے میں زی نیوز برابر کا شریک ہے وہ ’’فتح کے فتوی‘‘ کے لیے ایسے کسی عالم دین کو کبھی مدعو نہیں کرے گا جس سے فتح کو زک اٹھانی پڑے۔ اسے صرف ایسے علماء درکار ہیں جو اسلامی تعلیمات کا مذاق بنانے کے لیے استعمال کیے جاسکیں۔ چنانچہ ’’علماء‘‘ استعمال ہورہے ہیں اور ستم بالائے ستم اس پر اجر کی امید بھی رکھتے ہیں۔

طارق فتح کیا ہے؟ یہ کوئی مفتی یا عالم دین نہیں ہے۔ یہ ایک شرابی ہے جس کی حال ہی میں ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں وہ شراب پی کر رقص کر رہا ہے اور مغلظات اس کے منہ سے نکل رہے ہیں۔ طارق فتح کی بیٹی نتاشا نے ایک عیسائی سے شادی کی ہے اور خود فتح کی بیوی ایک بوہری خاتون ہے۔ ہم یہ ثابت نہیں کرنا چاہتے کہ طارق فتح مسلمان نہیں، یہ کام تو ان علماء کا ہے جو قہاری و جباری و قدوسی و جبروت کی مجسم مثال بن کر مجدّد الف ثانی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے طارق فتح سے دوبدو ہونے پہنچتے ہیں۔ طارق فتح کا نام ہی مسلمانوں جیسا ہے، خیالات سے وہ ہر چیز کا انکاری ہی نہیں بلکہ مریضانہ نفرت کا شکار ہے، اس کی قبیل کے افراد کو عرف عام میں لبرل کہا جاتا ہے، جو سارا دین و مذہب بادہ رنگیں میں گھول کر پینے کی جرات رندانہ کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔ اس قبیل کے افراد صرف اور صرف شہرت اور منفعت کے متلاشی ہوتے ہیں۔ پاکستان، سعودی عرب اور کینیڈا سے نکالا گیا یہ شخص اب انڈیا میں پناہ گزین ہے اور اگر مسلمانان ہند نے بھی ’’ایمانی غیرت‘‘ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے ہند سے نکلنے پر بھی مجبور کردیا تو اسے وہ شہرت حاصل ہوجائے گی جو آج طارق فتح کا ہدف ہے اور کل تسلیمہ نسرین و سلمان رشدی کا ہدف تھی۔ زی ٹی وی سے اس کا رشتہ یہ واضح کرنے کے لیے کافی ہے کہ یرقانی میڈیا اسے اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کررہا ہے۔ اسی دوران ہمارے وہ سادہ لوح مولوی بھی استعمال ہو رہے ہیں جو زی نیوز پر اس سے بات کرنے پہنچ رہے ہیں۔ وہ علماء گفتگو کا پہلا سبق ہی نظرانداز کردیتے ہیں جو خدا نے وادی سینا میں موسٰی کو فرعون کی جانب بھیجتے ہوئے ’’قولاً لیّنا‘‘ کی شکل میں دیا تھا کہ فرعون کے پاس جارہے ہو تو اس سے نرم لہجے میں بات کرنا۔ گزشتہ دنوں فتح کے فتوی پر آئے ہوئے علماء کو دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ انہیں ’قولاً لیّنا‘ کا سبق بھی یاد ہے۔

آغاز میں ہم نے سنجیدہ علماء کی خموشی کا ذکر کیا تھا، جو فی الوقت اس فتنے کے لیے بہترین طرز عمل ہے۔ طارق فتح کو اہمیت دی گئی تو وہ خطے میں دوسرا سلمان رشدی بن کر ابھرے گا اور اگر نظرانداز کیا گیا تو اس جیسے بہت سے گند تاریخ کے صفحات میں دفن ہو کر قصّہ پارینہ بن چکے ہیں۔ یہ مضحکہ خیز امر ہے کہ ایک شرابی اپنے مغلظات کسی ٹی وی چینل سے بکھیرے اور ہم اسے فتوی سمجھ کر اس پر چڑھ دوڑیں۔ جب تک ’’فتح کا فتوی‘‘ کو ٹی آر پی ملتی رہے گی، اس کا فتنہ پنپتا رہے گا اور جہاں ٹی آر پی ختم ہوئی، فتح خود اپنے سنگھی ہمنواؤں کے لیے عضو معطل بن جائے گا۔ الغرض کرنے کا کام یہی ہے کہ طارق فتح کے پروگرام کو ٹی آر پی نہ دی جائے۔ اور علماء یہ روش اختیار کریں کہ زی نیوز کی جانب سے فتح کے پروگرام میں شرکت کا دعوت نامہ اس کے منہ پر دے ماریں۔
وہ جن کے دل مہریں ثبت ہوں کیا ان کو سمجھانا
انہیں ہم آپ کیا، ان کو پیمبر چھوڑ دیتے ہیں

Comments

ریحان خان

ریحان خان

ریحان خان بھارت کے نوجوان قلمار ہیں- اردو ادب اور شعر و شاعری سے شغف رکھتے ہیں، تجارت پیشہ ہیں-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */