عمران خان کا جامعہ فاروقیہ کا تعزیتی دورہ - مولانا محمد جہان یعقوب

پاکستان تحریک انصاف اس وقت ملک کی ایک بڑی سیاسی قوت ہے۔ عمران خان نے سیاست کی خاردار وادی میں جب قدم رکھا تھا تو تبدیلی کا نعرہ دیا تھا۔ یہ نعرہ اہل وطن بالخصوص نئی نسل کو بہت اچھا لگا اور نوجوانوں نے تو تحریک انصاف کے یوں گن گانا شروع کر دیے کہ مستقبل کے مسیحا عمران خان ہی معلوم ہوتے تھے۔ عمران خان اس کوچے میں نئے تھے، سو ہچکولے کھاتے اور ڈوبتے ابھرتے رہے، جن پر تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے کے مصداق ان کے مشیران بےتدبیر نے ان کی سیاسی میدان میں پیش رفت کے ابھرتے سورج کو گہنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، کچھ مسترد شدہ عناصر اور میدان سیاست کے ہارے ہوئے جواری اس غرض سے بھی تحریک انصاف کی کشتی میں آبیٹھے کہ نیّا پار لگ گئی تو ان کے بھی وارے نیارے ہو جائیں گے، ورنہ نیا ڈبونے میں تو ان کا ویسے ہی کوئی ثانی نہیں۔ ایسے عناصر کے ہاتھوں عمران خان نے کئی زخم کھائے اور اب بھی وہ ایسے متعدد عناصر کے نرغے میں معلوم ہوتے ہیں۔ کراچی میں یہ فضا تاحال برقرار ہے جس کی وجہ سے تحریک انصاف کے سینئر ترین راہ نما، جن میں محمد اشرف قریشی، سید نیاز شاہ اور دیگر شامل ہیں، جنھوں نے خان کو کراچی میں اس وقت متعارف کرایا جب یہاں کسی جماعت کے لیے جلسہ تو دور کی بات، کارنر میٹنگ کرنا بھی جرم بنا دیا گیا تھا، عملاً غیر فعال ہوچکے ہیں۔

انھی عناصر کی مہربانیاں تھیں کہ کبھی تو عمران خان کو طالبان خان کے القاب سے نوازا گیا اور کبھی ایسی بھی نوبت آئی کہ کچھ عاشقان رسول ۖ انھیں گستاخ رسول ۖ کہہ کر بھی ان کے پیچھے ڈنڈے سوٹے لے کر نکل کھڑے ہوئے۔ وہ تو ان کی سیاسی مقبولیت آڑے آگئی، ورنہ کسی ائیرپورٹ پر ان کے ہاتھوں خان صاحب کی بھی وہ گت بن سکتی تھی جو مرحوم جنید جمشید کی بنائی گئی تھی۔ خان کو متعدد مرتبہ باقاعدہ اس بات کے بھی اعلانات کرنے پڑے کہ وہ مسلمان ہیں اور ختم نبوت و شان رسالت ۖ پر ان کا بھی ویسا ہی ایمان ہے جیسا کسی بھی عاشق رسول ۖ اور پکے مسلمان کا ہو سکتا ہے۔ اب یہ عناصر شہید ممتاز قادری کی برسی کی تیاریوں میں مصروف ہیں، تو خان کی کچھ جان چھوٹی ہے، ورنہ ممتازقادری کی زندگی میں انھیں قانون کا باغی قرار دینے والے پیر افضل قادری اور ممتاز قادری سے اعلان لاتعلقی کرنے والے مفتی حنیف قریشی، جو شہادت کے بعد سب سے پہلے ممتاز قادری کا جنازہ پڑھانے بھی پہنچ گئے تھے، انھیں یوں آسانی سے شاید معاف نہ کرتے!

تحریک انصاف کوممّی ڈیڈی لوگوں کی جماعت سمجھا جاتا رہا، جس کی ٹھوس وجوہات بھی ہیں، اب یہ فضا بھی تبدیل ہو رہی ہے۔ خیبر پختونخوا میں آیات جہاد کو داخل نصاب کرنے، سرکاری ملازمتوں میں فضلائے مدارس کے لیے گنجائش پیدا کرنے، ناظرہ وترجمہ قرآن مجید کی تعلیم لازمی قرار دینے اور علماء کو پارٹی میں نمائندگی دینے کے مثبت اثرات سامنے آئے ہیں۔ خان کے ان دور اندیشانہ اقدامات سے خیبرپختونخوا کی سیاست پر سالہا سال سے قابض جماعتوں کا سحر بھی دم توڑتا جار ہا ہے، اور اب تو جمعیت علمائے اسلام کے تحریک انصاف کے قریب آنے کی خوش کن خبریں بھی زیرگردش ہیں، اللہ کرے! یہ بیل منڈھے چڑھے۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو نہ صرف نون لیگ کا بوریا بستر گول ہو جائے گا، بلکہ سرخ انقلاب کے داعیوں کی کمیونسٹ سیاست بھی اپنی موت آپ مرجائے گی۔ عوامی نیشنل پارٹی ہو یا آفتاب شیرپاؤ کی عوامی پارٹی، انھیں اس بات کا ادارک ہو چکا ہے اور وہ اپنے سیاسی مستقبل کے سلسلے میں کافی تشویش کا شکار ہیں۔

آج کل عمران خان کی گرفت پاناما لیکس پر دن بدن مضبوط ہوتی جارہی ہے اور آنے والے انتخابات میں میاں صاحب کی سیاست کو گہن لگنے کے چانس ہیں۔ ایسے میں تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ اپنا ووٹ بینک بڑھائے، مخصوص کلچر کے حصار سے باہر نکل کر عوامی امنگوں کی ترجمانی کرے۔ ملک کے تمام طبقات کو باور کرائے کہ آپ کے مسائل کو ہم اپنا مسئلہ سمجھتے اور اس کے حل کے لیے ایک واضح ایجنڈا رکھتے ہیں۔ تبدیلی کا نعرہ لے کر اٹھنے والوں کو اس حوالے سے ابھی مزید تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ بہرحال اس جانب توجہ بھی بساغنیمت اور نظر آنے والا ہر قدم اطمینان بخش ہے۔

یہ اسی سوچ کا نتیجہ تھا کہ عمران خان نے جامعہ فاروقیہ کا تعزیتی دورہ کیا، ورنہ شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان جیسی عبقری شخصیت کے انتقال کے بعد صدر، وزیراعظم سمیت اہم شخصیات کراچی آئیں، لیکن کسی کو توفیق نہ ہوئی کہ جامعہ فاروقیہ جا کر سوگواروں کو پرسہ دے، یوں غالباً عمران خان کسی سیاسی جماعت کے واحد اور پہلے لیڈر ہیں جو جامعہ فاروقیہ شیخ الحدیث مولاناسلیم اللہ خان رحمہ اللہ کی تعزیت کے لیے آئے۔ اس وفد میں ہم بھی شامل تھے۔ خان کے قافلے میں پی ٹی آئی سندھ اور کراچی کے صدور سمیت کراچی کی پوری کیبنٹ شامل تھی، حضرت شیخ کے صاحبزادے اور الفاروق کے مدیر حضرت مولانا عبیداللہ خالد اور دیگر انتظامیہ نے وفد کا استقبال کیا۔ عمران خان نے جامعہ فاروقیہ اور حضرت شیخ سے اپنی قلبی وابستگی کا تذکرہ کیا، ان کے انتقال کو بہت بڑا نقصان اور پس ماندگان کے دکھ کواپنا دکھ قرار دیا۔

عجیب المیہ ہے کہ ہمارا سیکولر و لبرل طبقہ دینی طبقے کو شدت پسندی اور محدود ذہنیت کا طعنہ دیتا ہے، لیکن دینی شخصیات کی رحلت پر ان کا رویہ اس بات کی غمازی کر رہا ہوتا ہے کہ اصل شدت پسندی اور محدود ذہنیت کہاں پائی جاتی ہے۔ وہ تعزیت کے دو بول تک بولنا گوار انہیں کرتے۔ یہی مولانا سلیم اللہ خان تھے جنھوں نے علالت کے باوجود سابق گورنر سندھ کے انتقال پر تعزیت کی، اپنی ٹیم کو سوگواروں کے پاس بھیجا، لیکن ہمارے وزیراعظم صاحب نے کراچی کے دورے کے باوجود شاید جامعہ فاروقیہ کے دورے کی اس لیے ہمت نہ کی کہ کہیں سیکولر لابی ان سے ناراض نہ ہوجائے۔ اکثر سیاسی جماعتوں نے اپنی صوبائی قیادت کو بھیج کر سمجھ لیا کہ فرض کفایہ ادا ہوگیا، حالانکہ مولانا سلیم اللہ خان قومی حیثیت کی حامل شخصیت تھے، جن کے اہل وطن پر گوناگوں احسانات ہیں، جن کا قرض نہیں چکایا جاسکتا۔

Comments

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب فاضل درس نظامی ہیں، گزشتہ بارہ سال سے جامعہ بنوریہ عالمیہ سے شائع ہونے والے اخبارکے ادارتی صفحے کی نگرانی کے ساتھ ساتھ تفسیر روح القرآن کے تالیفی بورڈ کے رکن رکین اور تخصص فی التفسیر کے انچارج ہیں، مختلف اداروں کے تحت صحافت کا کورس بھی کراتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */