جمعہ کا دن اور سہانی یادیں - محمد فیصل شہزاد

یاد ہے کہ صبح یاد تھا، مگر ابھی کام میں منہمک گویا بھولے ہوئے ہی تھے کہ اچانک … ہوا کے رتھ پر سوار کچھ دل خوش کن آوازیں کان میں ایسی آ پڑیں کہ من میں اک انوکھی، بے نام سی مگر بے پناہ خوشی امڈتی محسوس ہوئی … ایک انجانا سا تناؤ جو اب عام طور پر اعصاب پر چھایا ہی رہتا ہے … ختم ہوتا محسوس ہوا اور فرحت نے دل پر دستک دی!
پہلے پہل جو آواز کان میں پڑی … وہ دور کسی مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے فضا میں رس گھولتی کسی بچے کی سادہ سے انداز میں سورۃ التکاثر پڑھنے کی تھی… اس کے بعد کسی اور مینارے سے پھوٹتی ایک مدھر آواز نعت شریف کے خوبصورت بولوں سے مزین کانوں کے راستے پورے وجود کو سرشار کر گئی…
چمکیلے دن میں یہ مخصوص آوازیں کان میں پڑنے کا ایک ہی سادہ سا مطلب ہوتا ہے… کہ آج جمعہ ہے… اللہ کی ایک بڑی نعمت…

اس دن کے مشہور فضائل جوصحیح احادیث میں بیان ہوئے، فی الوقت بیان کرنے کا قصد نہیں … ابھی تو صرف دو باتیں دوستوں سے شیئر کرنے کودل چاہا…
ایک جمعے کے دن کی خاص روحانی کیفیت کی بابت… جو اتنی واضح ہے کہ نہ صرف آپ سب احباب کو بلکہ ہر مسلمان کو محسوس ہوتی ہوگی… خصوصاً تین اوقات میں… ایک شب جمعہ، دوسرا زوال سے جمعے کی نماز تک کا وقت تو گویا روح کی سرشاری کا وقت ہوتا ہے اور تیسرا عصر تا مغرب…

بے شک اس دن روح کو ہمارے کسی خاص نیک عمل کے بغیر ہی شاید محض فضا میں پھیلی روحانیت سے ہی اپنی غذا مل رہی ہوتی ہے کہ وہ بہت شاداں و فرحاں ہوتی ہے… شاید دل کے کان فرشتوں کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ بھی سن رہے ہوتے ہیں جو اپنے رب کی طرف سے رحمتوں اور برکتوں کےفیصلے لے کر اترتے ہوں… بہرحال ہم سے گناہ گار جو مادیت کے بوجھ تلے عموما کچلے رہتے ہیں، اس دن اپنے من کو ہلکا پھلکا محسوس کر کے حیران ہو رہے ہوتے ہیں…
سو بے شک یہ دن اللہ رب العزت کا مسلمانوں پر بڑا انعام ہے … ایک بڑی نعمت، جس کی شاید ہم صحیح قدر نہیں کرتے…
خیر دوسری بات کا تعلق ناسٹلجیا سے ہے… اور وہ وہی ہے جس کا ذکر پہلی سطر میں آیا…

یہ بھی پڑھیں:   جمعہ کلچر کا خاتمہ - کاشف حفیظ صدیقی

یعنی جمعے کے دن صبح بارہ بجے مساجد میں لاؤڈاسپیکر سے بچوں سے قرات قرآن اور نعت پڑھائے جانے کا رواج… آج بھی مساجد کے میناروں سے نشر ہوتی یہ آوازیں کم ازکم مجھے تو لمحوں میں بچپن میں لے جاتی ہیں… اور بہت سے حسین مناظر گویا نگاہوں کے سامنے آ جاتے ہیں… وہ جمعے کے دن بچوں کو اہتمام سے نہلایا جانا… نہلانے سے پہلے امی کا سب کے سر میں ڈھیر سارا تیل لگا کر مالش کرنا اور باریک کنگھی پھیرنا…گرمیوں میں زمین سے نکلے ٹھنڈے ٹھار پانی سے اور سردیوں میں گرم پانی سے نہانا او ر لائف بوائے کی مخصوص خوشبو… پھر سردیوں کے موسم میں صحن میں ایک طرف آتی دھوپ میں امی جان کا کھڑا کرنا… ان سارے جمعے کے دن کے مخصوص معمولات کے ساتھ ساتھ فضا مسلسل اس وقت کی مشہور نعتوں کے بولوں سےچہکتی رہتی…چہار اطراف سے ہلکی ہلکی بھنبھناتی آوازیں ہمیں لاشعوری طور پر یہ احساس دلاتی رہتیں کہ آج ایک خاص دن ہے … پھر ہم جلدی سے صاف ستھرے کپڑے پہن کر مسجد کی طرف بھیج دیے جاتے…جہاں خطبے سے قبل کا بیان شروع ہوتا… (ابھی یاد آیا کہ بڑے بھائی خرم شہزاد کو اس وقت نعت خوانی کا شوق تھا جو ہر جمعے کو وہ ہم سب سے بہت پہلے مسجد پہنچ جایا کرتے اور پھریہ سب تمہارا کرم ہے آقا،کہ بات اب تک بنی ہوئی ہےپڑھا کرتے)…

خیر ابھی تجزیہ کرتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ ہم بچوں کو جمعے کے دن کے ساتھ ایک مخصوص انسیت اور محبت شاید اس لیے بھی ہوا کرتی تھی کہ ان دنوں جمعے کے دن اسکولوں کی چھٹی ہوا کرتی تھی اور جمعرات کو آدھی چھٹی… سو خوشی منانے کا وقت گویا بدھ کی رات سے ہی شروع ہو جاتا۔

آج یہ محمود رواج گرچہ کچھ کم ہو گیا ہے…خصوصا بڑے شہروں میں، مگر پھر بھی کوئی ایک آدھ پکار ہر جمعے کو ہمیں تو ماضی کی سیر کروا ہی دیا کرتی ہے… جمعہ مبارک دوستو!

Comments

محمد فیصل شہزاد

محمد فیصل شہزاد

محمد فیصل شہزاد کو شوق 10 سال قبل کوچہ صحافت میں لے گیا۔ روزنامہ اسلام اور روزنامہ ایکسپریس میں کالم لکھتے رہے، طبی میگزین جہان صحت، ہفت روزہ خواتین کا اسلام، ہفت روزہ بچوں کا اسلام اور پیام حق کے مدیر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں