کابل میں امن اور پاکستان سے مطالبات - رضوان الرحمن رضی

وائس آف امریکہ کے دوستوں کی مہربانی ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً ہمیں اپنے مختلف پروگراموں میں ٹیلی فون کے ذریعے شرکت کے لیے مدعو کرتے رہتے ہیں، بدھ کی رات کا موضوع تھا کہ کیا فروری کے آخر میں روس میں افغانستان کے مسئلے پر بلائی گئی کانفرنس سے خطے میں امن کی راہ نکل پائے گی؟ اس پروگرام کی میزبان ایک افغان نژاد خاتون شہناز تھیں جبکہ افغانستان سے بھی ایک نیوز ایجنسی کے صحافی اور امریکہ سے محمد تقی صاحب کو نمائندگی کا موقع دیا گیا تھا۔

پروگرام کی میزبان اور افغان صحافی کا وہی گھسا پٹا بیانیہ تھا کہ افغانستان میں امن کی کنجی پاکستان کے پاس ہے، اس لیے اسلام آباد افغان طالبان کی سپرستی بند کرے اور انہیں گھیر کر مذاکرات کی میز پر ’فراہم‘ کرے۔ وہی بیانیہ جو امریکی اور بھارتی میڈیا میں بیک وقت چبایا اور دہرایا جاتا رہا ہے۔ پاکستان افغان طالبان کی پشتی بانی بند کرے۔ افغان طالبان کے بیشتر قیادت پاکستان میں دندناتی پھرتی ہے۔ پاکستان کی سرزمین پر پیدا ہونے والے افغان مہاجرین کو واپس دھکیلنے کی بجائے ان کو پاکستانی شہریت دی جائے۔ ان کا خیال تھا کی شرپسندوں سے مذاکرات نہیں ہوسکتے اس لئے جس طرح پاکستان نے ٹی ٹی پی سے مذاکرات نہیں کئے تو ہم افغان طالبان سے کیوں مذاکرات کریں؟ پاکستان کے وفاقی بجٹ میں افغان طالبان کی مدد کے لےے باقاعدہ بجٹ رکھا جاتا ہے اور یہ چاروں صوبوں کو بھی فراہم کیا جاتا ہے تاکہ وہ افغان طالبان کی تربیت کر کے ان کو تخریب کاری کے لیے واپس دھکیل سکیں۔

خاکسار کو بولنے کا بہت کم موقع ملا لیکن ہم نے وقتاً فوقتاً گفتگو کچھ یوں سمیٹی کہ افغانستان کا امن افغان سرزمین سے ابھرے گا، کہیں باہر سے لایا گیا کوئی بھی حل افغانستان میں نہیں چل سکے گا، اور یہ بات دنیا کے اڑتالیس ممالک کی افواج اور سب سے سپر فورس یعنی امریکی فوج کی افغانستان میں ناکامی سے بھی ثابت ہو چکی ہے کہ افغانستان کا امن مقامی ہی ہوگا، جس میں افغان معاشرے کے تمام فریقین کو اپنا حصہ ڈالنا پڑے گا۔

اگر ذرا تاریخ پر نظر ڈال لی جائے تو پاکستان پر افغان طالبان کی سرپرستی کا الزام لگانے والے تاریخ سے نابلد دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ ڈیورنڈ لائن کے دونوں اطراف کم از کم ایک کروڑ پختون ایسے ہیں جن کے بزرگوں کو قیامِ پاکستان کے وقت یہ یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ وہ افغانستان اور پاکستان دونوں ممالک کی دہری شہریت رکھ چکے ہیں۔ اس لیے پاکستانی طرف کے پختون اگر اپنے بھائیوں کی مدد کے لیے سرحد پار جاتے ہیں تو یہ صدیوں پرانے پختون ولی (پختون بھائی چارہ) کا تقاضا ہے، نہ کہ پاکستان اور اس کے اداروں کی طرف سے کوئی پڑھائی لکھائی گئی بات۔ کابل کے اندر اس وقت دنیا بھر میں کئی کئی دہائیاں پہلے ملک چھوڑ کر آباد ہوجانے والے افراد کے واپس لا کر ایک بھان متی کے کنبے کو مسلط کرنے اور رکھنے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیوں کہ ان کو زمینی حقائق کا ادراک ہی نہیں۔ اگر افغان طالبان اس قدر برے ہیں تو یہ بات افغان پارلیمنٹ کو کیوں معلوم نہیں جو ان سے مذاکرات کرنے کی وکالت کرتی رہتی ہے؟ اگر افغانستان کو پاکستان کی طرف سے ان کے بقول شرپسندوں کا شکوہ ہے تو ہمیں بھی ننگرہار میں چھپے تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی قیادت کے افغان صوبے ننگرہار میں چھپے ہونے کے بارے میں تحفظات ہیں۔ پاکستان میں طالبان قیادت ہی نہیں تیس لاکھ افغان مہاجر بھی ہیں۔ اگر افغانستان چاہتا ہے کہ ہم ان کو افغانستان والی طرف جانے سے روکیں تو ڈیورنڈ لائن کو بند کرنے کی ہر بات پر کابل حکومت دُم پر کیوں کھڑی ہو جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں طورخم پر محض چند سو گز کے رقبے پر تار لگانے کی کوشش پر پاکستانی فوج کے ایک میجر کے علاوہ دو نوجوان افغان فوج کی بلا اشتعال کارروائی سے شہید ہو چکے ہیں۔ یہی حال چمن بارڈر پر بھی ہوا ہے۔ اگر ہم نے ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات نہیں کیے بلکہ ان کے خلاف آپریشن کیا ہے تو افغان حکومت کے پاس اگر اتنی اوقات ہے تو اسی طرح وہ بھی افغان طالبان کے خلاف کارروائی کر لے، اسے کس نے روکا ہے؟ ان لوگوں نے بدگمانی اس حد تک بڑھادی ہے کہ پاکستانی اپنا پیٹ کاٹ کر افغان مہاجرین کے لیے اپنے سالانہ بجٹ میں جو رقم فراہم کرتے ہیں، وہ اسے بھی طالبان کی سرپرستی اور فنڈنگ کے کھاتے میں ڈال رہے ہیں۔ کیا افغانستان میں صرف افغان طالبان ہی سرگرم عمل ہیں تو پھر یہ گلم جم اور جوزجانی ملیشیا، جنرل رشید اللہ دوستم اور نوع کی دیگر مخلوقات کیا پکنک منا رہے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   کچھ کرنے کی ضرورت نہیں؟ حبیب الرحمن

پروگرام کے آخر میں ہم نے عرض کیا کہ اگر میرے فاضل افغان دوستوں کا یہ خیال ہے کہ پاکستان افغان طالبان اور ان کی قیادت کو پکڑ کراور ان کے ہاتھ پاوں باندھ کر لے جاکر کابل میں فراہم کرے تاکہ وہ اس سے ’بزکشی‘ کھیل سکیں تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔ نہ تو پاکستان کے پاس اس کی صلاحیت ہے نہ ارادہ۔ افغان بھائی جو مطالبہ کر رہے ہیں وہ ہم کر نہیں سکتے اور اگر کسی طور ہم یہ کر بھی دیں تو ہمارے پاس کچھ نہیں بچتا۔ اور اسی بات پر پروگرام کا اختتام ہوگیا۔

دیگر باتوں کے علاوہ بھارت کے پشپندر کمار نے یہ خبر بھی پھوڑی کہ اترپردیش کے (موجودہ) انتخابات کے بعد بھارت کی ریاستی تبدیلی میں ایک جوہری تبدیلی ہونے جا رہی ہے جس پر بھارت کی تمام چھوٹی بڑی پارٹیوں کا اتفاق بھی ہو چکا ہے، اس لیے انتخابات کے فوراً بعد بھارتی حکومت کی طرف سے پاکستان کے ساتھ جامع مذاکرات کا آغاز ہوگا، اور اس کے لیے نئی دہلی میں باقاعدہ تیاری شروع ہو چکی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بھارت ریاستی سطح پر بلوچستان (اور کراچی) میں دخل در معقولات سے بھی مراجعت اختیار کر چکا ہے، بلکہ اس حوالے سے نئی دہلی (کلبھوشن یادیو کے رنگے ہاتھوں کے پکڑے جانے کے بعد) پاکستان کو اعتماد میں بھی لے گا۔ پشپندر نے بھی یہی کہا کہ افغانوں کو اپنے ملک کے مسائل کا حل اپنے ملک کے اندر ہی ڈھونڈنا ہوگا کیونکہ باہر سے جو بھی قوت آئے گی اس کے اپنے مفادات ہوں گے جو کہ ضروری نہیں کہ افغانوں کے مفادات کے ہم آہنگ ہوں۔

پروگرام میں شریک صحافی پشپندر کمار نے جو بات کی، اس کے حوالے سے بھارت کے مقامی ذرائع ابلاغ میں پہلے ہی بحث جاری ہے۔ پاکستانی میڈیا پر بھارت سے بولنے والے جن صحافیوں کو ہمیں پاکستانی میڈیا دکھاتا ہے، وہ اپنے دفترَ خارجہ کی طرف سے دی گئی پالیسی کی چیونگم چباتے اور آگ اگلتے نظر آتے ہیں۔ لیکن یہ بات غور طلب ہے کہ بھارت میں اس مجوزہ تبدیلی کی وجوہات کیا ہیں؟