ایران کے ایٹمی میزائل تجربات پر دنیا کی تشویش - غلام نبی مدنی

 ایران یعنی فارس دنیا کا ایسا ملک ہے جس نے ہزاروں سال تک دنیا میں اپنی بالادستی کے لیے طویل ترین جنگیں لڑیں۔ روم اور فارس کے نام سے تاریخ میں یاد رکھی جانے والی دو سپر طاقتوں میں سے فارس کا مرکزی خطہ ایران ہی تھا۔ یہی دو طاقتیں تھیں جو دنیا میں ہزاروں سال تک زیرِبحث رہیں۔ یہ دوطاقتیں اسلام کی آمد کے بعد بظاہر شکست و ریخت ہوگئیں، لیکن ان میں سے فارس یعنی ایران نے قبولیت اسلام کے بعد دنیا میں نہ صرف اپنا وجود برقرار رکھا، بلکہ تاریخ میں کسی نہ کسی صورت خود کو زندہ رکھنے کے لیے طرح طرح کی کوششیں بھی جاری رکھیں۔ آج ایران ہی دنیا کا واحد ایسا ملک ہے جو ہر وقت کسی نہ کسی صورت دنیا میں زیرِ بحث رہتا ہے۔ حال ہی میں ایران نے بیلسٹک اور جدید ٹیکنالوجی کے حامل میزائلوں کےتجربات کیے ہیں، جس کے بعد دنیا میں ایک مرتبہ پھر ہر جگہ ایران موضوعِ سخن بنا ہوا ہے۔ ان میزائل تجربات کے بعد دنیا بھر میں ایران کے زیربحث آنے کی اصل وجہ ایران کا متنازع ایٹمی پروگرام ہے۔

ایران کے اس متنازع ایٹمی پروگرام کی تاریخ 1957ء سے شروع ہوتی ہے، جب پہلی مرتبہ ایران نے امریکہ کے تعاون سے پرامن مقاصد کے لیے ایٹمی پروگرام کا آغاز کیا۔ 1967ء میں ایران نے تہران نیوکلئیر سنٹر کی بنیاد رکھی۔ 1968ء میں ایران نے ایٹمی ہتھیاروں کی دیکھ بھال اور دنیا میں پرامن ایٹمی توانائی کوفروغ دینے والی NPT نامی تنظیم کے ساتھ معاہدہ کیا۔ اس سے پہلے ایران نے عالمی ادارہ برائے نیوکلئیر توانائی (IAEA) کے ساتھ بھی معاہدہ کیا۔امریکہ، فرانس، روس، جرمنی اور سوئٹزرلینڈ سمیت بین الاقوامی طاقتوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کی اُس وقت نہ صرف کھل کر حمایت کی، بلکہ بلین ڈالرز کی انویسمنٹ بھی کی۔ 1979ء کے ایرانی انقلاب تک ایران کا ایٹمی پروگرام بڑی تیزی سے چلتا رہا۔ چنانچہ سی آئی اے نے اس وقت اپنی رپورٹ میں کہا اگر 1980ء تک ایرانی بادشاہ محمد رضا شاہ پہلوی زندہ رہا اور بھارت کی طرح دیگر ملک اسلحہ سازی میں آگے بڑھتے رہے تو کوئی شک نہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں میں ان پر سبقت لے جائے۔ لیکن ایرانی انقلاب کے بعد ایران کا ایٹمی پروگرام اچانک رُک گیا۔ بین الاقوامی کمپنیوں نے ایران کے جوہری پلانٹوں پر کام کرنا بند کردیا۔ 1990ء میں ایران کے ساتھ مل کر کام کرنے والی روس کی ایک ایٹمی تنظیم نے ایک مرتبہ پھر ایران کے ساتھ ایٹمی پروگرام میں تعاون کرنے کا معاہدہ کیا۔ چنانچہ ایران نے روسی ایٹمی سائنسدانوں سے بھرپور استفادہ کیا۔ روس کی پانچ ایٹمی تنظیمیں بشمول روس کی وفاقی حکومت کے ماتحت کام کرنے والی Roscosmos نامی سپیس سائنس کی تنظیم نے ایران کو میزائل اور دیگر ایٹمی ٹیکنالوجی میں بھرپور تعاون فراہم کیا۔ اس دوران روس کی طرح فرانس، ارجنٹائن اور چین بھی ایران کو جوہری توانائی کے لیے مدد دیتے رہے۔ لیکن پھر ارجنٹائن اور چین پر امریکہ نے دباؤ ڈالا جس پر ارجنٹائن نے ایران سے 18 ملین ڈالر کا معاہد ختم کر دیا۔ 1992ء میں ایران نے پہلی مرتبہ دنیا میں ایٹمی توانائی کی دیکھ بھال کرنے والی بین الاقومی تنظیم (IAEA) کو اپنے ایٹمی پروگرام کا وزٹ کروایا۔ اس تنظیم نے اپنی رپورٹ میں ایران کے ایٹمی پروگرام کو پرامن قرار دیا لیکن پھر 2003ء میں پہلی مرتبہ اس تنظیم نے ایران کے ایٹمی پروگرام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے مکمل طورپر اپنے ایٹمی پروگرام کو ظاہر نہیں کیا۔ایران پرامن ایٹمی پروگرام کی آڑ میں خطرناک ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے۔ ایران نے اس کی تردید کی۔ بعد ازاں اقوام متحدہ نے ایران کو ہر قسم کا ایٹمی پروگرام معطل کرنے کا حکم دے دیا۔ یاد رہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام پر اقوام متحدہ اب تک آٹھ کے قریب بڑی قراردادیں پاس کر چکا ہے جن میں ایران کو ایٹمی پروگرام معطل کرنے سمیت دیگر ملکوں کو ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کے میزائل یا ایٹمی ٹیکنالوجی وغیرہ میں تعاون سے روکا گیا، تجارتی پابندیاں اس کے علاوہ لگائی گئیں۔ 2015ء میں ایران کے ساتھ امریکہ کی جوہری ڈیل میں بھی ایران پر پابندی لگائی گئی کہ وہ ایٹمی ہتھیار کے حامل میزائل تجربات نہیں کرے گا۔

 دیکھا جائے تو2003ء سے2015ء تک کا عرصہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے انتہائی اہم اور متنازع رہاہے جس میں ایک طرف ایران پر مختلف پابندیاں لگائی جاتی رہیں، دوسری طرف ایران عالمی ادارہ برائے نیوکلئیر توانائی(IAEA) سمیت بین الاقوامی طاقتوں کو پرامن ایٹمی پروگرام کے لیے قائل کرتا رہا۔ اس دوران درجنوں مذاکرتی ملاقاتوں میں ایران نے دنیا کو باور کروایا کہ وہ پرامن ایٹمی پروگرام پر کام کر رہا ہے۔ لیکن ماہرین کے مطابق اس کے باوجود ایران ایٹمی ہتھیار لے جانے والے بیلسٹک میزائلوں پر کام کرتا رہا۔جس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ جولائی 2015ء میں اقوام متحدہ کی ایران کے ساتھ جوہری ڈیل ہونے کے بعد ایران نے پےدرپے میزائل تجربات کیے، جن میں1700 سے 2000 کلومیٹر تک مارکرنے والے میزائل بھی ہیں اور ایٹمی ہتھیار لے جانے والے بلیسٹک میزائل بھی۔ ان میزائلوں میں 3500 کلومیڑ تک مارکرنے والا شہاب5 نامی میزائل بھی شامل ہے، بین الاقوامی سائنسدانوں کے مطابق اس پر ایران کام مکمل کر چکا ہے۔ یاد رہے کہ 3500 کلومیٹر کی رینج کا مطلب ہے کہ چین، روس، مصر سمیت یورپ اور افریقہ کا بیشتر حصہ ایران کے ایٹمی حملے کی زد میں ہے۔ دوسری طرف حیرت انگیز طور پر ایران ماضی کی طرح آج بھی یہ دعوی کر رہا ہے کہ بلیسٹک میزائل سمیت ایران کے دیگر میزائل ایٹمی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت کے حامل نہیں ہیں، بلکہ یہ صرف اپنے دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے محض ٹیکنالوجی کا حصول ہے۔ اس پر ایک امریکی سائنسدان نے غالبا 2006ء میں ایران پر پھبتی کستے ہوئے کہا تھا کہ اگر بلیسٹک میزائل ایٹمی ہتھیار کے حامل نہیں تو کیا پھر بندروں کے حامل ہیں۔ بہرحال حقیقت یہ ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام تقریبا مکمل ہو چکا ہے اور ایران چھوٹے بڑے پیمانے پر ایٹمی ہتھیار لے جانے والے سکڈ میزائلوں سمیت بلیسٹک میزائل ٹیکنالوجی پر بھی مکمل عبور حاصل کر چکا ہے۔

سوال یہ ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کا مقصد پرامن ہے یا نہیں؟ حتمی طور پر اس بارے کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن سائنسدانوں کی آراء اور دنیا بھر بالخصوص مشرق وسطیٰ میں ایران کی دیگر ملکوں کے ساتھ چپقلش کو سامنے رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام اور بلیسٹک میزائلوں کے تجربات سے مشرق وسطیٰ سمیت دنیا کا امن انتہائی خطرے سے دوچار ہوگیا ہے۔ ایک طرف ایران ہے اور دوسری طرف امریکہ، اور خلیجی ممالک۔ خلیجی ممالک ایران کے ساتھ دفاعی طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے اسلحے کے بیوپاریوں سے بڑے پیمانے پر اسلحہ خریدنے میں مصروف ہیں۔ اسلحہ کی اس خوفناک دوڑ سے انسانیت واقعی تباہی کے دہانے پر جا پہنچی ہے۔ پھر ایران کے امریکہ کے ساتھ بنتے بگڑتے تعلقات نے مشرق وسطیٰ کے امن کو مزید متزلزل کر دیا ہے۔ دیکھا جائے توایران اور امریکہ کے تعلقات میں تناؤ کی اصل وجہ ایران کا ایٹمی پروگرام نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے باہمی مفادات کا مختلف ہونا ہے، کیوں کہ ایک طرف ایران مشرق وسطیٰ میں بالادستی چاہتا ہے تو دوسری طرف امریکہ مشرق وسطیٰ کے وسائل پر چودھراہٹ کا دعویدار ہے، جبکہ دنیا جانتی ہے کہ یہ امریکہ ہی تھا جس نے نہ صرف ایران کے ایٹمی پروگرام کو شروع کروا کر اس میں بھرپور مدد کی، بلکہ امریکہ عراق جنگ میں امریکہ نے ہی ایران کو عراق میں کھلے عام مداخلت کا موقع بھی دیا۔ بہرحال ایران نے ٹرمپ کے آنے کے بعد بلیسٹک میزائل (ballistic missile) کے تجربات سے اس تناؤ کو مزید گہر ا کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے ان میزائل تجربات کے بعد ایران پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ دوسری طرف سعودی عرب اور دبئی کے بادشاہوں سے ٹرمپ نے ایک گھنٹے تک طویل ٹیلیفونک گفتگو کی جس میں باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے کے علاوہ ایران کو مشرق وسطیٰ میں باز رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ ادھر گوادر پورٹ کے مقابلے میں بھارت اور افغانستان کے ساتھ ایران کی چاہ بہار پورٹ کے قیام اور بھارت کے ساتھ دفاعی معاہدوں سے پاکستان کے ساتھ ایران کے تعلقات کو بھی شبہ کی نظر سے دیکھا جانے لگا ہے، جبکہ شام اور عراق میں ایران کی بالادستی پر بھی ٹرمپ نے کھل کر بولنا شروع کر دیا ہے۔

یہ وہ حقائق ہیں جن سے باآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایران کے ایٹمی میزائل تجربات سے دنیا کس قدر تشویش ناک صورت حال میں مبتلا ہو گئی ہے۔ دنیا کے امن کو برقرار رکھنے کے لیے نہ صرف ایٹمی طاقتوں بلکہ ایران اور شمالی کوریا سمیت دنیا کے دیگر ملکوں کو بھی اسلحے کی قاتلانہ دوڑ میں شامل ہونے سے باز رہنا ہوگا اور اقوام متحدہ سمیت عالمی طاقتوں کو مفادات سے ہٹ کر جان لیوا ہتھیاروں کی روک تھام کو روکنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔

Comments

غلام نبی مدنی

غلام نبی مدنی

غلام نبی مدنی مدینہ منورہ میں مقیم ہیں، ایم اے اسلامیات اور ماس کمیونیکیشن میں گریجوایٹ ہیں۔ 2011 سے قومی اخبارات میں معاشرتی، قومی اور بین الاقوامی ایشوز پر کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کے لیے خصوصی بلاگ اور رپورٹ بھی لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.