دین اور دنیا کی تقسیم - عادل لطیف

دین اور دنیا کی تقسیم نے مسلمانوں کو دنیاوی لحاظ سے تو بہت پیچھے چھوڑ ہی دیا، اس کے ساتھ ساتھ دینی لحاظ سے بھی مسلم امہ کے کردار اور اعمال کا بیڑا غرق کر دیا. اسلام نے مذہب اور دنیا کو الگ نہیں کیا. اسلام نے تو ہمیں بتایا تھا کہ اگر دنیا میں امامت کرنی ہے، اور آخرت میں کامیاب ہونا ہے تو دینی اور دنیاوی دونوں علوم و فنون کو ساتھ ساتھ لیکر چلنا ہوگا. دینی علوم سے راہنمائی حاصل کرو اور دنیاوی اسباب کو پوری طرح استعمال کرو، دنیا تمہارے زیر نگیں ہوگی. اسلام کا نقطہ نظر اس معاملے میں دنیا کے تمام مذہبی اور فلسفیانہ نظاموں سے مختلف ہے. یہاں معاشرت، تمدن، عدالت، سیاست، معیشت، تعلیم غرض دنیوی زندگی کے سارے شعبوں کے ساتھ ساتھ روحانیت کا نور بھی حاصل کیا جا سکتا ہے. یہاں روحانی ترقی کے لیے جنگلوں، پہاڑوں اور عزلت کے گوشوں کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ یہاں روحانی قدروں کو معاشرے میں رہ کر بھی حاصل کیا جا سکتا ہے. یہاں تو رشتہ ازدواج سے منسلک ہو کر بھی روحانی بلندیاں حاصل کی جا سکتی ہیں. ہمارے اذہان میں عام تاثر یہی ہے کہ اگر کوئی شخص مسجد میں نوافل پڑھتا ہے، قرآن پاک کی تلاوت کرتا ہے یا پھر ذکر و اذکار میں مشغول رہتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ یہ نیک کام کر رہا ہے، اپنی آخرت سنوارنے کی فکر میں لگا ہوا ہے، اور ایسا آدمی نیک اور دیندار شمار ہوتا ہے، اور اگر کوئی شخص اپنی اور اپنے اہل خانہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کوئی ایسا پیشہ اختیار کرتا ہے جس میں شرعا کوئی قباحت نہ بھی ہو، تب بھی اس کے بارے میں یہ تصور ہوتا ہے کہ یہ تو دنیا کما رہا ہے. دین اور دنیا کی یہ تقسیم اصولی طور پر درست نہیں ہے، اس لیے کہ بندہ مؤمن کا ہر وہ عمل جو شریعت کے مخالف نہ ہو وہ دین ہی ہے.

دین و دنیا کی سیکولر تقسیم کا یہ نتیجہ نکلا کہ مسلمان اسلام کو نکاح و طلاق، وضو و غسل عبادات واخلاق تک محدود سمجھنے لگے ہیں، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام ایک مکمل نظریہ حیات ہے جو عبادات و تسبیحات، معاشرت و معیشت، سیاست و عدالت، تعلیم و ثقافت، اخلاق و اقدار، اجتماعیت و انفرادیت غرضیکہ زندگی کے تمام شعبوں میں مکمل رہنمائی دیتا ہے. اسلامی نظریہ کی اولین خصوصیت یہ ہے کہ دین و دنیا کی تقسیم کو ختم کر کے ان میں وحدت پیدا کرتا ہے، یہاں نہ ترک دنیا اور رہبانیت کی اجازت ہے، نہ دنیا پرستی اور پرستش زر کی۔ اسلام دین و دنیا کی تقسیم کو غیرالٰہی نظریہ قرار دیتا ہے. تجارت ہی کو لے لیں جو عام سوچ کے مطابق بظاہر دنیاوی کام ہے لیکن جب شرعی اصولوں پر ہو تو حدیث پاک میں بشارت آئی ہے کہ سچا اور امانت دار تاجر آخرت میں انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا. جب اتنی بڑی بشارت ہے تو نیکی ہے، جب نیکی ہے تو عبادت ہے، جب عبادت ہے تو معرفت، پھر محبت کا ذریعہ بھی، امانت اور صداقت کی بنا پر اس کو دنیاوی مفادات اور ظاہری فوائد کو قربان کرنا پڑے گا اور قربانی اللہ کے قرب کا ذریعہ ہے اور یہ صرف تجارت پر موقوف نہیں ہے بلکہ اسلام کی جو نعمت ہمیں نصیب ہوئی ہے، یہ تو جینے کا ایسا مبارک اور دو آتشہ نظام ہے کہ اس نہج پر زندگی کو ڈالو تو پانچوں انگلیاں گھی میں، دنیا کے کام بھی ہوتے رہیں گے اور نامہ اعمال میں نیکیوں کا اضافہ بھی ہوتا رہے گا. اپنی ضروریات پوری کرتے جاؤ، قرب الہی کے زینے چڑھتے جاؤ، حدیث میں تو یہاں تک آتا ہے کہ بیوی کے منہ میں لقمہ رکھنا صدقہ، بیوی کا بوس و کنار صدقہ، الغرض اسلام کا معاشی نظام عبادت، عدالتی نظام عبادت، تعلیمی نظام عبادت، اور سیاسی نظام بھی عبادت، دین ہی دین، دنیا تو صرف وہ ہے جو شرعی نہج پر نہ ہو. البتہ فرق مراتب کا لحاظ ضروری ہے، آج اگر تجارت کو عبادت اور قرب کا ذریعہ بنایا جاتا تو حرام خوری، سود خوری اور دھوکہ دہی کی وہ کیفیت نہ ہوتی جو اب ہے، نوکری، سیاست اور عدالت کو عبادت کا عنوان ملتا تو شاید کرپشن رستا ہوا ناسور نہ بن پات،ا ہم نے فرق کیا تو دین اور دنیا کی تفریق نے یہ گل کھلائے۔

ہمارا ماضی بڑا تابناک تھا، حال ہمارا تاریک ہے اور مستقبل دھندلا، ہم نے اگر دوبارہ اٹھنا ہے اور اپنے زوال کو عروج میں بدلنا ہے تو دینی کردار اور دنیاوی اسباب دونوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا، صرف حجروں میں بند ہو کر دین کو رٹنے سے بھی ذلت کے سائے ختم نہیں ہوں گے اور دین کو چھوڑ کر جدید سائنس کی بلندیوں پر اڑنے سے بھی غلامی کا طوق گلے سے نہیں نکل پائے گا،
اگر آزاد اور خود مختار بننا ہے تو دین اور دنیا کی تقسیم کو ختم کرنا ہوگا، ورنہ چنگیزیت اور غلبہ کفر و الحاد کو نہیں روکا جا سکتا ہے.

ٹیگز
WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com