عشق کا فخر اور حق کی دلیل - قاضی عبدالرحمن

میرا دن چھپا کسی رات میں
میری رات چھپی کسی ذات میں
میری زندگی اک راز ہے
کوئی راز ہے میری ذات میں
میں جہاں کہیں بھی اٹک گیا
وہیں گرتے گرتے سنبھل گیا
مجھے ٹھوکروں سے پتہ چلا
میراہاتھ ہے کسی ہاتھ میں

پہلے پہل سیرت کی کتاب کیا پڑھی، نگاہوں کے سامنے اک جہان جذب و کشش جلوہ گر ہوگیا. دل ان سے یگانہ کیا ہوا میرے لیے سارا عالم بیگانہ ہوگیا. اس بشیر انسانیت کی پیدائش ہوئی بھی تو ربیع الاول یعنی پہلی بہار میں! وہ جس کے طرز تبلیغ کو دیکھ کرگردش دوراں کاحزیں چہرہ بھی مسکراہٹ سے تمتما اٹھا ہوگا. دل میں موجود بےچینی کے خلا کو اس پیکر عظمت نے کس شفقت سےمحبت الہی سے پر کیا. سچ کہیے تو زندگی کو توازن و اعتدال کا نمونہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات نے عطا کیا. ان کی غلامی، غلامی نہیں بلکہ آزادی ہے، اس لیے کہ وہ فطرت سلیمہ کی بھرپور رعایت رکھتی ہے.

میرے وجدان کے لیے دین اسلام اس لیے حق ہےکہ اس دین کےداعی محمدصلی اللہ علیہ وسلم تھے. میرے لیے دلیل آخری شارع علیہ السلام ہے. وہی میرا مطاف ہے، وہی میری منزل اور آخری امید ہے. خالق کائنات تو میرے لیے پنہاں ہے مگر دلیل خالق حق محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و سلم کی صورت ظاہر ہے، جس نے بھی اس شعر کو تخلیق کیا، واللہ کمال کیا، کہ
اگر خواہی دلیل عاشقش باش
محمد ہست برہانِ محمد

(یعنی اگر تو دلیل چاہتا ہے تو ان کا عاشق ہو جا، محمد ﷺ ہی محمدﷺ کا برہان ،یعنی یقینی دلیل، ہیں)

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کےرسالت و نبوت کی حقانیت کی پہلی شق صداقت ہے اور آخری شق امانت کا وصف ہے. صداقت کا یہ عالم کہ اس کا اقرار ابوسفیان بھی باوجود دشمنی کے قیصر کے دربار میں کرتے نظر آتے ہیں. امانت تو گویا آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی ولادت کےساتھ ہی اپنی معراج کو پہنچی، جس کا ایک چھوٹا سا ظہور ہجرت کے وقت حضرت علی رض کو امانت کی ادائیگی کی تاکید میں پوشیدہ نظر آتا ہے. آپ کی شخصیت کے یہ وہ اہم پہلو تھے جنھوں نے آپ کے پیغام کو نتیجہ تک پہنچایا.

آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے اسوہ حسنہ کی روشنی میں مذہب کو زندگی کے عمل سے ملا دیا، ورنہ مذاہب کی لوٹ کھسوٹ کی تاریخ پڑھ کر دل کہتا ہے،
میں ناخوش و بیزار ہوں مرمر کی سلوں سے
میرے لیے مٹی کا حرم اور بنا دو

شارع علیہ الصلوۃ والسلام کا ناقابل فراموش احسان یہ ہے کہ آپ اپنےساتھ ضدین کو جوڑنے والی قوت، اسلام لائے. چونکہ یہ دنیا تضادات کا مجموعہ ہے، ان میں جوڑ پیدا کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی الہی کی روشنی میں عرب کو عجم سے جوڑا، غلام کو آقا سے جوڑا، خورد کو کلاں سے جوڑا، مرد کو عورت سے، حاکم کو محکوم سے، شہری کو دیہاتی سے، مالدار کو غریب سے، تعلیم یافتہ کو ان پڑھ سے جوڑا. قصہ مختصر، عشق اور عقل پر آپ پوری طرح فاتح ٹھہرے.

شارح اقبالیات یوسف سلیم چشتی تاریخ و فلسفہ کے دریاؤں کی غواصی کے بعد کہتا ہے کہ آپ ﷺ واحد پیغمبر یا رسول یا مصلح ہیں جس نے اضداد کو جمع کر دیا، یعنی آپ نے Idealism اور Realism کو جمع کر دیا۔ Communism اور Capitalism کو جمع کر دیا۔ Matter اور Spirit کو جمع کر دیا. دنیا اور دین کو جمع کر دیا۔ Laity اور Clergy کو جمع کردیا۔ Hereafter اور Here کو جمع کردیا۔ (مقام محمدی ﷺ از یوسف سلیم چشتی مرحوم)

اقبال نے اپنی پرسوز نظم نالہ یتیم کے آخر میں اسی طرف اشارہ کیا ہے،
درد جوانساں کاتھا وہ تیرے پہلوسے اٹھا
قلزم جوش محبت تیرے آنسو سے اٹھا

جہاں کہیں آپ کا تذکرہ سنتا ہوں، دل پر رقت طاری ہوجاتی ہے. آنکھوں سے اشک جاری ہو کر یہ اعلان کرتے ہیں،
کبھی آہ دل سے نکل گئی، کبھی اشک آنکھ سے ڈھل گئے
یہ تمھارے غم کے چراغ ہیں، کبھی بجھ گئے، کبھی جل گئے

اے خالق انفس و آفاق، تیری بارگاہ میں اس بے مایا کی التجا ہے کہ جب تک میرے ساز حیات کے تار متحرک رہیں. اس سے میرے آقا، قائد اور محبوب کے قصائد مدح ہی برآمد ہوتے رہیں.

Comments

قاضی عبدالرحمن

قاضی عبدالرحمن

قاضی عبدالرحمن حیدرآباد دکن کے انجینئرنگ کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، الیکٹرانکس اینڈ کمیونیکیشن میں ماسٹر کیا ہے۔ کتب بینی اور مضمون نگاری مشغلہ ہے۔ دلیل کے اولین لکھاریوں میں سے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں