ضروری نہیں آپ بوائے فرینڈ ہی ہوں - زینی سحر

ہمارے یہاں کا المیہ یہ ہے کہ جب کوئی لڑکی لکھنے پڑھنے کی فیلڈ میں آتی ہے تو پہلے تو کوئی اسے سیریس ہی نہیں لیتا، پھر آہستہ آہستہ جب کچھ لوگ اسے پڑھنا شروع ہوتے ہیں تو مردوں کے پیٹ میں مروڑ اٹھنا شروع ہو جاتے ہیں، اور وہ اپنی نجی محفلوں میں ایسی خواتین کا ذکر کرنا ثواب کا کام سمجھتے ہیں، ہر مرد یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ اس کا اس عورت یا لڑکی سے افیئر چل رہا ہے، وہ اس پر مرتی ہے، اور وہ جو بھی لکھ رہی ہے، اس کے لیے ہی لکھ رہی ہے.

میں نے اپنی زندگی میں کسی عورت کو کسی مرد کے ساتھ اپنا افیئر ثابت کرتے نہیں سنا. عام طور پر کہا جاتا ہے کہ جہاں چار خواتین اکھٹی ہوں، وہاں برائیاں شروع ہو جاتی ہیں، بلاشبہ عورتیں برائیاں کرتی ہوں گی، لیکن مردوں کی بہت کم، یہ کام آج کل مردوں نے سنبھالا ہوا ہے اور اس میں پڑھے لکھے مرد بھی شامل ہیں. فیس بک کے پلیٹ فارم کو ہی دیکھ لیں، کسی معروف رائٹر نے اگر کسی خاتون کی پوسٹ پر کمنٹ کر دیا یا کچھ تعریفی جملے لکھ دیے تو سارے دوست اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں کہ ہمیں تو کبھی کمنٹ کرتے نہیں، اس کو کیوں کیا؟ ضرور کوئی چکر ہے اور اگر بدقسمتی سے رائٹر کی بیوی فیس بک پر ہو تو رات کو جو اس کی ٹھکائی ہوتی ہے، اس کے بعد بےچارہ رائٹر ڈر کر ساری خواتین کو کچھ دنوں کے لیے ان فرینڈ کر دیتا ہے. اور اگر لڑکی نے کہیں کمنٹ کر دیا تو ہر شخص فرینڈ ریکویسٹ بھیجنے میں دوسرے سے سبقت لے رہا ہوتا ہے.

ہمارا مجموعی رویہ بن گیا ہے کہ ہر مرد اور عورت کے تعلق کو غلط ہی ثابت کرنا ہے، کوئی صاف ستھرا اور عزت و احترام پر مبنی رشتہ بن ہی نہیں سکتا. حالانکہ کہا جاتا ہے کہ مؤمن مرد اور عورت ایک دوسرے کے ولی ہیں‫‫‫، لیکن ہمارے ذہنوں سے یہ گندگی نکلے گی تو ہم مؤمن اور ولی بنیں گے ناں. اس ذہنی پسماندگی نے کتنے اجلے لوگوں کو گندگی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے.

یہ بھی پڑھیں:   سوشل میڈیا سے فرار! - شیخ خالد زاہد

اس تحریر کا مقصد مردوں کو برا ثابت کرنا نہیں ہے بلکہ یہ کہنے کی کوشش کرنا ہے کہ عورت کو بھی اپنے جیسا انسان سمجھیں اور اس کو بھی یہ آزادی دیں کہ وہ بھی آپ کی طرح اپنے جذبوں کو الفاظ کی صورت دے سکے، بغیر کسی ڈر اور بدنامی کے. ہر عورت جو فیس بک پر آتی ہے، اس کا یہ مقصد نہیں ہوتا کہ وہ آپ کی معشوقہ بنے. اور ہر اس مرد اور عورت کا آپس میں افیئر نہیں ہوتا جو ایک دوسرے کی لکھنے میں مدد کرتے یا ایک دوسرے کو کمنٹ کرتے ہیں.

اگر ہو سکے تو خواتین کے لیے سائباں بنیے،
ان کی راہ کے روڑے مت بنیے
آپ ولی بھی ہو سکتے ہیں
یہ ضروری نہیں کہ آپ کو ہر صورت بوائے فرینڈ ہی ہونا چاہیے

Comments

زینی سحر

زینی سحر

زینی سحر میرپور آزاد کشمیر سے ہیں۔ حساس دل کی مالک ہیں، شاعری سے شغف رکھتی ہیں۔ خواتین اور بچوں سے متعلقہ مسائل پر لکھتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.