جینے کے لیے حوصلہ چاہیے - فارینہ الماس

اپنی پڑھائی سے فرصت پاتے ہی جب ایک نجی تعلیمی ادارے سے وابستگی اختیار کی تو ٹیسٹ اور انٹرویو کے بعد سب سے پہلی کلاس جو پڑھانے کا مجھے شرف حاصل ہوا، وہ کلاس تو نہیں البتہ اس ادارے کے بگڑے ہوئے لڑکوں کا ایک ایک ایسا جتھا تھا جسے کوڑھ کے مریضوں کی طرح پورے ادارے سے الگ تھلگ رکھا گیا تھا۔ سٹاف روم سے ادھر ادھر کی آوازوں سے انتظامیہ کی رچی ہوئی اس سازش کی بھنک پڑی کہ ہر نئے آنے والے کی مستقل مزاجی اور قوت برداشت کی آزمائش کے لیے اسے پہلے پہل اس پرکالہ آتش کلاس میں بھیجا جاتا ہے، اگر وہ ان اوصاف کا مظاہرہ کر پائے اور اس میں دیگر تدریسی جواہر بھی ایک خاص درجے سے زیادہ پائے جائیں تو اسے محض اعلیٰ کلاسوں کے لیے وقف کر لیا جاتا ہے، وگرنہ ان کے مقدر کی اس آزمائش سے ان کے لیے چھٹکارا مشکل ہو جاتا ہے۔ سینئر کلاسوں کے یہاں تین درجے تھے، اول درجے کے سیکشن میں تو ادارے کے انتہائی ذہین و فطین طلبہ تھے جو خاص قسم کے اساتذہ اور خاص قسم کی توجہ کے متحمل قرار پاتے، دوم درجے پر اوسط ذہانت والے طلبہ تھے، اور یہ تیسرا سیکشن ذہنی اور اخلاقی دونوں درجوں سے گرے ہوئے طلبہ پر مشتمل تھا۔ انھیں ادارے کے ایک الگ تھلگ، تنگ و تاریک گوشے میں رکھا گیا تھا۔ یہ نہ صرف ہر سال فیل ہوجاتے بلکہ ان کے سر مزید ڈھیروں الزامات رکھے گئے تھے، مثلاً دنگا فساد، ادارے کے خاص فرنیچر کی توڑ پھوڑ، حد سے زیادہ غیر حاضریاں، چھٹی کے وقت سڑک پر آتی جاتی لڑکیوں سے چھیڑ خوانی، یہاں تک کہ اسلامیات کے سخت مزاج اساتذہ کی ان کے ہاتھوں پٹائی تک کے واقعات رونما ہو چکے تھے۔ اور ان سب الزامات کے باوجود آخر ادارے کی انھیں برداشت کرنے کی وجہ کیا تھی؟ ظاہر سی بات تھی، ان کی بھاری فیسیں اور والدین کے دیے گئے عطیات۔

ٹیچرز کی طرف ان کا رویہ کچھ ایسا معاندانہ تھا کہ سخت سزا نہ دینے کے انتظامی آپشن کے ساتھ ان طلبہ کے ساتھ ایک پیریڈ کے چالیس یا پینتالیس منٹ گزارنا زندگی کے انتہائی کٹھن مراحل سے گزرنے کے موافق تھا۔ ایک پل میں میرے دل میں ادارے سے ہی رخصت لے لینے کا بھی خیال گزرا کیونکہ یہ ملازمت میرے لیے کوئی انتہائی ناگزیر نہ تھی، اور وہ طلبہ بھی حیلوں بہانوں سے ببانگ دہل مجھے زچ کرنے کے درپے رہتے۔ دوران لیکچر کبھی کسی اوٹ سے تو کبھی کسی دوسری اوٹ سے توہین آمیز کلمات اس وقت ابھرتے جب میرا رخ رائٹنگ بورڈ کی طرف ہوتا۔ ایک دن ایک طالب علم نے تو میرے سامنے ہی کمال ڈھٹائی سے کھڑے ہو کر کہہ ڈالا۔
”آپ کچھ بھی کر لیں، آپ یہاں ایک دو ہفتوں سے زیادہ رک نہیں سکتیں“،
”آپ کے دل میں یہ خیال کیسے آیا کہ میں یہاں سے چلی جاؤں گی؟“
”اس لیے کہ آفس والے فی الحال آپ سے ہماری کلاس واپس لینے والے نہیں اور آپ ہمیں دو چار دن سے ذیادہ برداشت کرنے والی نہیں.“
اس کے لہجے میں بھرپور شرارت بھی تھی اور اپنی کلاس کے لیے عجب طرح کا تفاخر بھی۔ باقی سبھی لڑکے قہقہہ لگا کر ہنسنے لگے۔
”آپ کو کیوں ایسا لگتا ہے کہ آپ مجھے یہاں ٹکنے نہیں دو گے ؟“
”اس لیے کہ ہم ہیں ہی اتنے برے کہ کوئی زیادہ دیر ٹک نہیں پاتا“
ایک بار پھر قہقہہ ابھرا لیکن اس بار اس کے الفاظ میں شرارت سے کہیں زیادہ اس کے لہجے کی وہ شکستگی تھی جو مجھے صاف محسوس ہو رہی تھی۔ اور ان کے قہقہے میں ایسی بےچارگی تھی جسے سمجھنا ہر کسی کے بس کی بات نہ تھی۔

اس لمحے مجھے اپنی ہر دل عزیز آرٹ فلم ”دو آنکھیں بارہ ہاتھ “ کے بارہ قیدیوں کے کرداروں کی وحشت میں چھپی ان کی بےچارگی اور بے بسی بہت یاد آئی۔ ان کے سینوں میں زندگی کا ان کے لیے بے درد رویہ اور معاشرے کے ہاتھوں دھتکارے جانے کا ایک ایسا درد بھرا ہوا تھا کہ ہر بار فلم دیکھنے پر میرے دل کے نہاں خانوں میں اس درد کی ٹیسیں ابھرنے لگتیں۔ مجھے اپنے اندر پل بھر میں اس جیلر کے انھیں بدلنے جیسے انمول جذبوں اور انتھک حوصلوں کی کھنک سنائی دی۔ مجھے لگا جیسے ان بظاہر بگڑے اور بھٹکے ہوئے لڑکوں میں دراصل لوگوں کے رویوں نے ایسی کم مائیگی اور بےوقعتی کا احساس کچھ اس طور جگا رکھا ہے کہ جس نے ان کے وجود کو بےحسی اور بے پرواہی کے یخ بستہ گلیشئیر میں دفن کر کے رکھ دیا ہے۔ پھر یوں ہوا کہ جب میری محنت اور مستقل مزاجی کے اوصاف انتظامیہ پر آشکار ہوئے تو مجھ سے یہ کلاس واپس لے لینے کا فیصلہ کیا گیا، لیکن اس بار میں نے خود ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ اب یہ بچے میرے لیے چیلنج تھے۔مجھے ان کے لیے کچھ خاص کرنا تھا، یہ کہ ان کے وجود کے گرداگرد لپٹی اس برف کو ہٹانا تھا۔ پہلے تو میں نے اس آرٹ فلم کو دو چار بار پھر سے دیکھا تاکہ اپنے حوصلے بلند کیے جا سکیں۔ پھر میں نے یہ گر استعمال کیا کہ ہر ایک کو یہ احساس دلانے لگی کہ وہ سبھی بہت خاص ہیں۔ وہ اپنی صلاحیتوں اور ہنر میں کسی طور بھی کسی اور سے کم نہیں، فرق صرف یہ ہے کہ ان پر ابھی تک ان کی اپنی صلاحیتیں اور ہنر آشکار نہیں ہو پائے۔ میں بات بات پر ان کی حوصلہ افزائی کرنے لگی۔ ہر معمولی سے معمولی کام پر بھی ان کی تعریفوں کے پل باندھنے لگی۔ اگر ان میں سے کوئی بھی سبق کی ایک لائن بھی سنا دیتا تو میں اس بھرپور طریقے سے داد دیتی کہ وہ سب میں فخر سے اٹھلاتا پھرتا۔ یہ بہت ہی دشوار تھا کہ ان کی سوچ کو بدلا جائے، انھیں ان کی ذات کا اعتماد دیا جائے لیکن میں نے ایسا کیا۔ یہ حوصلہ افزائی کی ہی دوا تھی جو ان کے ہر طرح کے مرض کے علاج میں کارگر ثابت ہوئی اور سال بھر کی محنت کے بعد وہ، وہ نہ رہے جو وہ تھے۔ میری محنت کا نتیجہ تھا کہ سال کے آخر میں وہی بچے بچھڑنے کے احساس سے آنکھوں میں آنسو لیے رخصت ہوئے۔ وہ جن کی گردنوں میں پرنسپل کو دیکھ کر بھی خم نہ آتا تھا، ان کے سر احساس تشکر سے میرے آگے جھکے ہوئے تھے ۔

زندگی کی سچائی یہ ہے کہ زندگی کسی ایک کروٹ کبھی نہیں بیٹھتی۔ یہ ہمیں متعدد بار توڑتی اور لاتعداد بار جوڑتی ہے۔ کئی بار ہماری امیدوں اور خواہشوں کے پنچھی ہمت و حو صلوں کے بلند و بالا چناروں کی ڈالیوں پر جا بیٹھتے ہیں اور کبھی ہمارے اعصاب کب چٹخنے لگتے ہیں، خود ہمیں بھی علم نہیں ہو پاتا۔ ہمیں، ہر انسان کو، ہم سب کو ہر لمحہ، ہر پل ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی نرم و گداز ہاتھ ہمارے حوصلوں کے شانوں پر اپنا ہلکا پھلکا لمس دھرتا رہے۔ کوئی ہمارے ٹوٹتے لمحوں میں ہماری ڈھارس بنے یا دو بول حوصلہ افزائی کے بول دے۔ لیکن افسوس ہے کہ ہم دوسروں کی حوصلہ شکنی کرنا تو اپنا فرض جانتے ہیں لیکن کسی کی ہمت افزائی سے یوں بچتے پھرتے ہیں جیسے یہ کوئی انتہائی نامناسب کام ہو۔ ہمارے اندر خود اپنے لیے بھی کوئی نرم گوشہ نہیں۔ مطلب ہم خود اپنی حوصلہ افزائی سے بھی عاری ہیں۔ ہماری ہر نئی آنے والی صبح، ہمارے جذبوں، ہمارے خوابوں، ہماری محنتوں، ہمارے ارادوں کو یہاں تک کہ ہماری ہر آتی جاتی سانس کو ہمارا حوصلہ درکار ہوتا ہے، جو ہمارے اندر ہمارے لیے جینے کی جوت جگاتا ہے۔ اس کے بعد وہ سب لوگ ہیں جو ہم سے وابستہ ہیں، ہمارے دوست احباب، ہمارے والدین، عزیز رشتے دار، ہمارے اساتذہ، وہ سبھی لوگ جو ہمارے لیے اچھا سوچتے ہیں، ہمیں ان سب کی حوصلہ افزائی درکار ہوتی ہے۔ ایک بیوی کو اپنے شوہر کی اور ایک شوہر کو اپنی بیوی کی، بچوں کو والدین کی، طالب علم کو اپنے اساتذہ کی، ایک فنکار کو فن کے قدردانوں کی، ایک لکھاری کو اپنے قاری کی اور ایک مریض کو اپنے ڈاکٹر کی حوصلہ افزائی درکار ہوتی ہے۔ مطلب ہر انسان کو زندہ رہنے کے لیے، اپنی ذات کی تکمیل کے لیے اور اپنی محنتوں اور ریاضتوں کی تسلیم و توقیر کے لیے دوسروں کی داد و تحسین درکار ہوتی ہے۔

لیکن جب نظر اپنے چاروں ا طراف دوڑاؤ تو ہر طرف ہانپتے کانپتے، اکھڑتی سانسوں کے آزار میں جکڑے انسان نظر پڑتے ہیں جیسے اپنی آبلہ پائی کے درد میں مبتلا،گرد آلود چہرے لیے دھندلائے منظروں پر عکس ڈھونڈنے کی جستجو میں گھبرائے ہوئے لوگ ہیں یہ۔ ان کے جذبوں اور ارادوں پرعجب مردنی چھائی دکھائی پڑتی ہے۔ بہت بےزار اور کھردرے احساس کے ہو چکے ہیں ہم۔کیونکہ ہم اک دوسرے میں زندگی کے حوصلے تقسیم کرنا چھوڑ چکے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں دوسروں کی تعریف و توصیف کا رواج ختم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ ہمیں یوں لگتا ہے کہ ایسا کرنا دوسروں کے بگڑنے یا کام کی صلاحیت سے منہ پھیرنے کا باعث بن جائے گی، جیسے کسی اور کی حوصلہ افزائی سے ہمارا قد چھوٹا ہو جائے گا۔ حوصلہ افزائی اور کوشش کے اعتراف سے محروم لوگ بہت جلد زمین بوس ہو جاتے ہیں، ریت کی دیوار کی طرح ڈھے جاتے ہیں۔ کسی انتہائی نگہداشت کی وارڈ کے بستر پر پڑے اس مریض کی طرح ،جس کی ڈوبتی ٹوٹتی سانسوں میں اٹکی جان اسے ایسے دوراہے پہ لا ٓکھڑا کرتی ہے کہ ڈاکٹر کو کہنا پڑتا ہے ”مریض کو ہر ممکن طبی امداد دی جا رہی ہے۔ اسے بظاہر کوئی مسئلہ اب نظر نہیں آ رہا لیکن وہ جینے کی امید چھوڑ چکا ہے اس لیے موت اور زندگی کی کشمکش میں مبتلا ہے۔“ شاید اس نے موت کے منہ میں جانے سے بہت پہلے ہی جینے کی امید چھوڑ رکھی تھی، اسی لیے وہ اب اپنے اندر جینے کا حوصلہ اور امید پیدا کرنے سے قاصر ہو چکا ہے۔

Comments

فارینہ الماس

فارینہ الماس

فارینہ الماس کو لکھنے پڑھنے کا شوق بچپن سے ہی روح میں گھلا ہوا ہے۔ ساتویں جماعت میں خواتین پر ہونے والے ظلم کے خلاف افسانہ لکھا جو نوائے وقت میں شائع ہوا۔ پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم۔اے کیا، دوران تعلیم افسانوں کا مجموعہ اور ایک ناول کتابی شکل میں منظر عام پر آئے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */