او ایل ایکس ڈاٹ کام، سب کچھ بکتا ہے - ریحان اصغر سید

فدوی نے کچھ تاجرانہ سی فطرت پائی ہے۔ بچپن میں ہم اپنی دکان اُس صندوق میں لگایا کرتے تھے جو سن 65 اور 71 کی جنگ میں توپ کے گولے محاذ جنگ پر پہنچایا کرتا تھا۔اپنی دکان پر ہم اپنے زخمی اور معذور کھلونے آدھی قیمت پر بہن بھائیوں اور کزنز وغیرہ کو بیچا کرتے تھے۔ سکول میں ہمارا طریق واردات آٹھ آنے والا رسالہ دو دفعہ پڑھ کے اور سرورق کی تصویر ذہن نشین کر کے اپنی کلاس فیلو کو چار آنے میں فروخت کر دینے کا تھا۔ بعض دفعہ معاملہ مساوی قیمت کی چیز جیسے کے چار آنے والی چورن املی یا کینڈی وغیرہ میں بھی طے پا جاتا تھا۔ لڑکپن میں اپنی پہلی موٹر بائیک بھی ہم نے پارٹنر شپ پر خریدی تھی۔

بعد ازاں اولیکس ڈاٹ کام نے نے ہم جیسے پرانی چیزوں کے تاجروں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کر دیا۔ جس میں آپ اپنی پسند کی کوئی بھی استعمال شدہ چیز خرید اور بیچ سکتے ہیں، اگرچہ پاکستان میں ابھی یہ تجربہ زیادہ کامیاب نہیں ہے۔ عدم اعتماد اور لالچ کی وجہ سے لوگ چیزوں کی قیمت مارکیٹ ویلیو سے بہت زیادہ ڈال دیتے ہیں۔ بہرحال ہم اسے کامیاب کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ جس سے بعض دفعہ بہت مزاحیہ سی صورتحال بھی بن جاتی ہے.

صرف دو واقعات گوش گزار کرتا ہوں۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہمارے پاس ٹیوٹا کرونا بیاسی ماڈل ہوا کرتی تھی۔ ہمیں اس ماڈل کی لمبائی، چوڑائی اور شاہانہ لُک بہت پسند تھی۔ ہم نے یہ شاہی کار مبلغ بانوے ہزار نصف جس کا چھالیس ہزار ہوتا ہے، میں خریدی تھی۔ کار کی شکل صورت جتنی اچھی تھی، سیرت اتنی ہی بری تھی. ہم نے اس کا شاید ہی کوئی پرزہ ہو جو نہ بدلا ہو، لیکن اس نے اپنی خو نہ بدلی۔ بس مرزا صاحب کی سائیکل ہی سمجھ لیں، ہمیں اسے بیچنے کی لیے بھی ان تلخ تجربات سے گزرنا پڑا جس سے شاہ صاحب کو اپنی سائیکل بیچنے کے لیے گزرنا پڑا تھا۔ آخر ہم نے اولیکس اور پاک وہیل کو آزمانے کا فیصلہ کیا۔ اشتہار دینے کی دیر تھی، چونکہ کار بظاہر بہت خوبصورت اور آرام دہ تھی، اس لیے کالز آنی شروع ہو گئیں۔ پہلی دفعہ منکشف ہوا کہ پرانی کاروں کے دلدادہ ساری رات جاگتے رہتے ہیں۔ اور بے وقت کال کر کے دوسروں کو بھی جگائے رکھتے ہیں.

اکثر گفتگو اس قسم کی ہوتی۔
السلام علیکم
جی وعلیکم السلام (نیند میں ڈوبی آواز)
ریحان صاحب بول رہے ہیں۔؟
ہاں جی.
یہ کرونا کا ایڈ آپ نے دے رکھا ہے؟
ہاں جی.
میں زاہد، حامد، بکر بول رہا ہوں۔ اٹک، میانوالی، پشاور، گلگت، مردان، ایبٹ آباد، لاہور سے (پورے پاکستان سے کالز آتی تھی)
اچھا۔۔!
یہ کار ابھی آپ کے پاس ہی ہے نا، بکی تو نہیں. (آواز میں بے تابی)
جی نہیں (سوچتے ہوئے ایسی چیزیں کہاں بکتی ہیں)
کیا مطلب جی نہیں کا؟ پاس نہیں ہے یا بکی نہیں ہے؟
میرا خیال ہے آپ سو رہے تھے، مگر ابھی رات کے دو ہی تو بجے ہیں، (آواز میں تھوڑی حیرت کی آمیزش)
جی میں عشا پڑھ کے سو جاتا ہوں.
ہممممم۔۔ اچھا یہ کار فائنل فائنل کتنے کی ہو جائے گی؟
اوپر کتنے لکھے ہیں؟
ایک لاکھ۔
جی تو پھر پوچھ کیوں رہے ہیں؟
میرا مطلب فائنل پرائس کیا ہے؟
جی فائنل ہی ہے. (جمائی لیتے ہوئے)
کار ٹھیک ہے نا۔ مطلب صحیح چلتی ہے، اپنے اوریجنل پینٹ میں ہے، ایکسیڈنٹ تو نہیں ہے؟ ٹائر تو نئے ہی ہوں گے؟ الائے رم تصویر میں تو خوبصورت لگ رہے۔ اے سی چلتا ہے؟ ساونڈ سسٹم کون سا لگا ہوا ہے؟
یہ ایک پرانی کار ہے جو خود بمشکل چلتی ہے۔ بھائی ایک لاکھ میں ملتا کیا ہے؟ ہنڈا ون ٹو فائیو بھی ایک لاکھ سے مہنگا ہے۔
اچھا چلنے میں تو ٹھیک ہے نا؟ خراب تو نہیں ہے؟
یہاں پر ہمارے کندھوں پر دو غیر مرئی مخلوقات آ بیٹھتی ہیں۔ دائیں والی نیکی کی تلقین اور حق بولنے کی وصیت کرتی ہے۔ اپنی خاندانی نجابت کا واسطہ دیتی ہے۔ اپنے بزرگوں کے سینکڑوں دفعہ سنے واقعات دہراتی ہے۔ بائیں والی یاد دلاتی ہے کہ یہ دنیا کی زندگی تو کھیل تماشا ہے۔ توشہ آخرت نہ لینے والا خسارے میں ہے، دوسرے کے پاس اپنے دلائل ہیں، وہ کہتی گول مول بات کر کے اپنی چیز بیچ۔ جھوٹ بے شک نہ بول لیکن سچ بھی نہ بولنا۔۔سچ ہضم کرنا ہر کسی کے بس میں تھوڑا ہی ہوتا ہے.
ہیلو۔۔؟
ہاں جی
آپ نے جواب نہیں دیا۔۔؟
دیکھیں بھائی! کار بظاہر تو ٹھیک ہی ہے، میں نے انجن بھی اوورہال کروایا ہے، کلچ پلیٹ، پریشر پلیٹ، گئیر سمیت ہر چیز نئی ڈالوائی ہے۔ نیچے حصے اور سسپنشن کا بھی کام کروایا ہے، مگر ہر دفعہ کار میں کوئی نئی خرابی پیدا ہو جاتی ہے، اس لیے تنگ آ کر بیچ رہا ہوں۔ یہ سن کر بیشتر لوگ اللہ حافظ کہہ کے فون رکھ دیتے تھے، لیکن کچھ لوگ خاص طور پر پٹھان بھائیوں کی ایک ہی بات ہوتی تھی۔ خوچہ خرابی کی کوئی بات نہیں، ہم خود میکنک ہے، ہم ٹھیک کر لے گا.
میں بڑی مشکل سے سمجھاتا کہ بھائی صاحب آپ اتنی دور سے آئیں گے، دن بھی ضائع ہوگا، اتنا کرایہ بھی لگے گا، اگر آپ کو کار پسند آ بھی جائے تو جتنا یہ ڈیزل ڈکارتی ہے، دس ہزار کا ڈیزل تو یہ آپ کے شہر جاتے ہوئے پی جائے گی۔ میرا دل نہیں مانتا آپ کو ایسی چیز بیچنے کو۔

ایک دفعہ لاہور سے ایک صاحب کی کال آئی، غالباً امریکہ میں بزنس کرتے تھے، فوراً بولے میں اپنا ڈرائیور بھیج رہا ہوں، یہ کار دیکھ کر لے آئے گا۔
میں نے یاد دلایا کہ رات ہو چکی ہے، آپ ابھی روانہ کریں گے تو وہ آدھی رات کے بعد میرے پاس پہنچے گا۔ یہ کوئی مناسب وقت نہیں ہوتا لین دین کا۔ اور اگر کار نہ پسند آئی تو وہ شریف آدمی واپس کیسے جائے گا؟
کیوں آپ مہمان نہیں بنائیں گے اسے؟
میرا خیال ہے اجنبی لوگوں کو پرانے زمانے کے لوگ مہمان بنایا کرتے تھے۔ اور مجھے کیا پتا آپ کون بول رہے ہیں۔ میرا فی الحال تاوان کے لیے اغوا ہونے کا کوئی پروگرام بھی نہیں ہے. بس اتنی سی بات سے ناراض ہو کر جناب نے فون بند کر دیا۔ خیر کار تو بعد میں 92 ہزار کی ہی بک گئی لیکن کالیں کچھ عرصہ پہلے تک آتی رہیں کیونکہ ایڈ ہٹانے کا طریقہ نہیں پتہ تھا۔

ایک دفعہ ہم نے لیپ ٹاپ لینا تھا. الیکڑونکس کی چیزوں کے بارے میں ہمارا تجربہ ہے کہ آپ نے اگر استعمال شدہ چیز لینی ہے تو وہ برانڈ لیں جو پوری دنیا میں اپنی پائیداری اور کوالٹی کی وجہ سے جانے جاتے ہوں، لیکن پاکستان میں قدرے غیر معروف اور غیر مقبول ہیں، کیونکہ ری سیل ویلیو نہ ہونے کی وجہ سے ایسی چیزیں بہت سستی مل جاتی ہیں۔

خیر ایک ایسی کمپنی کا لیپ ٹاپ او ایل ایکس پر تلاش کیاگیا جو برائے نام استعمال شدہ تھا۔ مالک کوئی نوعمر لڑکا تھا. لیپ ٹاپ بیرون ملک سے آیا تھا۔ حسب توقع اور حسب روایت اس نے کمپنی ریٹ سے بھی زیادہ پیسے مانگے۔ اسے سمجھایا گیا کہ یار اس کمپنی کے اس ماڈل کی یہ قیمت ہے، آپ نیٹ سے چیک کر سکتے ہو، انھی فیچرز کا استعمال شدہ لیپ ٹاپ معروف کمپنوں کا اتنے کا مل رہا ہے، اس کی قیمت تو اس سے کم ہونی چاہیے کیونکہ اس کی ری سیل نہ ہونے کے برابر ہے۔ پھر بھی آپ کسی کمپوٹر والی شاپ سے ریٹ پوچھ لو، جتنے پیسے وہ دے، میں اس سے ایک ہزار روپے آپ کو اضافی دینے کو تیار ہوں۔ نوجوان نے یکسر انکار کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد اس کی کال آئی کہ آپ اتنے پیسوں کا مجھے ایسا لیپ ٹاپ لے دیں۔
یار آپ پہلے والا بیچ رہے ہو، اور وہ بِک نہیں رہا، ایک اور اس طرح کا لے کے کیا کرو گے۔ دوسری بات یہ ہے کہ میں کوئی بروکر تھوڑا ہی ہوں.
نہیں، آپ کہہ رہے تھے کہ یہ اگر مارکیٹ میں ہو تو اتنے کا ہو گا تو لے دیں مجھے.
جی اچھا، جو حکم.
تھوڑی دیر بعد پھر اسی نمبر سے کال آئی۔ اس دفعہ والدہ ماجدہ تھیں اور کافی جلال میں لگ رہی تھیں۔ انھوں نے مجھ پر انکشاف کیا کہ میں کس قدر گھٹیا اور ذلیل انسان ہوں۔ لوگوں کو بے وقوف بنا کے اونے پونے داموں ان سے چیزیں بٹورتا ہوں، پھر مارکیٹ میں مہنگے داموں بیچتا ہوں۔ پھر انھوں نے میرے عبرتناک انجام کی پیشگوئی کی۔ کچھ بددعاؤں سے نوازا۔ اور جاتے جاتے میری ماں جی سے بات کرنے کی فرمائش کی تاکہ اُنھیں احساس دلایا جا سکے کہ مجھے پیدا کر کے انھوں نے کتنی بڑی غلطی اور پاپ کیا ہے۔ میں نے معذرت کی کہ میں گھر میں ہوتا تو یقیناً آپ کی فرمائش پوری کرتا۔

اس واقعے کے کچھ عرصہ بعد تک میں ادھیڑ عمر اجنبی عورتوں کو دیکھ کر چوکنا ہو جاتا، خاص طور پر جن کے ہاتھ میں بیلن یا ڈنڈا ٹائپ کوئی چیز ہوتی کہ کچھ عجب نہیں آنٹی جی میری سم سے میرا سراغ لگا کر مجھے قرار واقعی سزا دینے نہ پہنچ جائیں۔
صلائے عام ہے یاران نکتہ دان کے لیے

Comments

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید فکشن اور طنز و مزاح لکھنے میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ کم مگر اچھا اور معیاری لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.