ائمہ کرام کے حالات زندگی کا مطالعہ - عمران زاہد

ہم سب نے ہی آئمہ کرام کے متعلق سنا ہوا ہے۔ پانچ امام مشہور ہیں۔ امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام مالک، امام احمد بن حنبل، اور امام جعفر صادق۔

مجھے چند سال پہلے امام شافعی کے حالات پڑھنے کا موقع ملا۔ مشہور لوگوں کی زندگیوں کے متعلق پڑھنے کا مجھے ویسے ہی خاصا شوق ہے۔ لیکن کسی امام کی زندگی کے متعلق پڑھنے کا یہ میرا پہلا اتفاق تھا۔ ڈاکٹر اختر حسین عزمی صاحب نے ”فرزندِ حرم امام شافعی کے علمی سفر“ کے نام سے یہ کتاب لکھی تھی۔ اس کتاب نے مجھے اتنا متاثر کیا کہ اس کو پڑھنے کے بعد میں نے کئی دوستوں کو بھی پڑھایا اور ڈاکٹر عزمی سے خصوصاً ملاقات بھی کی۔ ان سے مل کے بہت خوشی ہوئی۔

اس کتاب کے بعد مجھے آئمہ کی زندگیوں کے متعلق پڑھنے کی جستجو سی لگ گئی۔ الحمدللہ اس کے بعد حضرت امام ابوحنیفہ کے حالات کے متعلق کتاب کو تقریباً دو ہفتوں کے تھوڑے تھوڑے مطالعے کے بعد ختم کیا۔ کتاب کا نام ہے ”حضرت امام ابو حنیفہ کی سیاسی زندگی“ اور اس کے مصنف ہیں علامہ سید مناظر احسن گیلانی۔

ان آئمہ کے متعلق لکھنا تو ایک پورے مضمون کا تقاضا کرتا ہے لیکن مختصراً اتنا ہی کہوں گا کہ یہ لوگ وہ تھے جنہوں نے دین کو بادشاہوں کی نفس پرستیوں سے بچا کر ہم تک پہنچایا۔ بادشاہوں سے ٹکر بھی لی۔ جان اور مال کا عذاب بھی برداشت کیا لیکن دین پر آنچ نہ آنے دی۔ جہاں ان آئمہ کرام کے حالات ملتے ہیں وہاں ان لوگوں کے حالات بھی ملتے ہیں جنہوں نے دین کو بادشاہوں کی خوشنودی کے لیے پسِ پشت ڈال دیا۔ آج ان لوگوں کو کوئی جانتا بھی نہیں ہے۔

حضرت امام ابوحنیفہ کے حالات پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کتنے وژنری انسان تھے۔ انہوں نے جن خطوط پر فقہ کی تدوین کی، بعد میں آنے والے فقہا کو ان کی خوشہ چینی کرنی پڑی۔ ان تمام آئمہ کرام کا باہمی تعلق کچھ اس طرح سے تھا۔
امام مالک ، امام شافعی کے استاد، امام احمد بن حنبل، امام شافعی کے دوست۔ امام ابو حنیفہ کے شاگرد امام محمد، امام شافعی کے استاد۔ امام جعفر صادق کے متعلق ابھی کچھ خاص نہیں پڑھ پایا، لیکن جو اندازہ لگایا ہے وہ یہ کہ امام ابوحنیفہ نے ان سے سیکھا۔ کہتے ہیں کہ جس دن امام ابوحنیفہ کا انتقال ہوا، اسی دن امام شافعی کی ولادت ہوئی۔

اللہ ان بزرگوں کو ان کے نیک نفسی اور مجاہدے کے عوض بلند درجات عطا فرمائے۔ اپنی رحمت سے ڈھانک لے۔ مسلمان ان بزرگوں کے فہمِ دین پر بھروسہ کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔