کچھ علاج اِس کا بھی اے چارہ گراں! پروفیسر مفتی منیب الرحمن

مرزا محمد رفیع سودا نے کہا تھا:
دِل کے ٹکڑوں کو بغل بیچ لئے پھرتا ہوں

آج امتِ مسلمہ کا بھی دل پارہ پارہ ہے اور وہ کسی چارہ گر کی تلاش میں ہے، مگر چارہ گر دور دور تک نظر نہیں آتا اور نہ ہی اس مشکل سے نکلنے کی کوئی تدبیر سُجھائی دیتی ہے۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد خلافت عثمانیہ منتشر ہو کر مختلف ریاستوں میں بٹ گئی، یہ مغربی استعمار کی ایک سوچی سمجھی سازش تھی، جو پایۂ تکمیل تک پہنچی۔ پھر امتِ مسلمہ کے قلب میں اسرائیلی ریاست کی صورت میں ایک خنجر پیوست کیا گیا، جس نے ناسور کی شکل اختیار کرلی اور پوری مغربی دنیا اُس کی پشتیبان بن گئی۔ اُس کے بعد جیسے تیسے مسلم ممالک کا نظام چل رہا تھا، کہیں ملوکیت، کہیں فوجی آمریت اور کہیں علامتی جمہوریت۔

امام خمینی کی قیادت میں شاہِ ایران کے خلاف بغاوت برپا ہوئی اور 1979میں ’’جمہوریٔ اسلامی ایران‘‘ کے عنوان سے مذہبی قوتوں کی حکومت قائم ہوئی۔ اس کے بعدآٹھ سال تک ایران عراق جنگ برپا رہی، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کا بھاری جانی و مالی نقصان ہوا۔ پھر1990ء میں عراق نے کویت پر قبضہ کیا اور اُس کے نتیجے میں عراق پر امریکی یلغار ہوئی، سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک نے ان دونوں جنگوں پر بے پناہ مالی وسائل صرف کیے۔ پھر 2003ء میں امریکہ نے بڑے پیمانے پر مہلک ہتھیاروں کا الزام لگا کر دوبارہ عراق پر حملہ کیا، صدام حسین کی حکومت معزول ہوئی اور ایک نئے نظام کے تحت امریکہ کی سرپرستی میں حکومت قائم ہوئی۔ 1979ء میں جہادِ افغانستان کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا، سوویت یونین کی تحلیل پر منتج ہوا، بالآخر نائن الیون کے سانحے کے نتیجے میں امریکہ افغانستان پر چڑھ دوڑا اور امتِ مسلمہ پر اُفتاد کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔

امریکہ نے عراق میں اپنے برانڈ کا جمہوری نظام قائم کیا، جو تاحال پوری طرح سے مستحکم نہیں ہوپایا۔ اِسی دوران مشرقِ وُسطیٰ میں ’’داعش‘‘ کے نام سے خلافت کا ایک جعلی نظام قائم ہوا۔داعش ایک ایسا بچہ ہے جس کی ذمے داری کوئی لینے کے لیے تیار نہیں ہے، لیکن باور کیاجاتا ہے کہ اِس کے پیچھے بھی امریکہ اور مغرب کی آشیر باد کار فرما ہے، وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَاب۔ حال ہی میں فلوریڈا کے واقعے نے اِس شبہے کو تقویت بخشی ہے۔ اِسی دوران اہلِ مغرب نے لیبیا پر یلغار کر کے کرنل قذافی کی حکومت کو معزول کیا، اب وہاں بھی ہر سُوانتشار ہے۔گزشتہ ساڑھے تین عشروں سے امریکہ عسکری گروپ تشکیل دیتا ہے، انہیں گود لیتا ہے، حربی، تکنیکی، مادّی اور مالی وسائل سے مالامال کرتا ہے اور پھر استعمال کرنے کے بعد انہیں دہشت گرد قرار دے کر اُن سے برات کا اعلان کر دیتا ہے۔ دنیا یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ مسلّح افواج و دفاعی نظام کی حامل منظّم حکومتوں کے ہوتے ہوئے دہشت گرد کس طرح ایک خطّے پر اپنی حکومت قائم کرکے اللہ کی زمین پر ظلم کی نئی داستانیں رقم کرتے ہیں اور مظلوم انسانیت کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا۔ الغرض جب تک امریکہ اس خطے میں موجود ہے، امن کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔

اس وقت پورا عالَمِ اسلام آزمائشوں میں گھرا ہوا ہے اور شکستگی کی کیفیت میں ہے۔ سعودی عرب اور ایران میں بالواسطہ طور پر ایک آویزش برپا ہے اور ہر فریق اپنا اپنا دائرۂ اثر بڑھانے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔ عراق، یمن، شام اور بحرین اس آویزش کا مرکز ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ اور اہلِ مغرب نے اسلامی ممالک کو مزید پارہ پارہ کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے، اِسی لیے شرقِ اوسط کا خطہ ایک بحران سے دوچار ہے۔ عراق، شام، ترکی اور ایران میں پھیلی ہوئی کُرد آبادی اُن معاشروں میں ضَم ہوچکی تھی، لیکن لگتا ہے کہ اب مغرب کُردستان کے نام سے ایک نیا ملک تخلیق کرنا چاہتا ہے۔ ادھر صورت حال یہ ہے کہ کُرد سنی، شیعہ اور سیکولر بنیادوں پر منقسم ہیں۔ عالَمِ عرب سے جڑے ہوئے خطے کا مستحکم مُسلم ملک جمہوریۂ ترکی ہے، اب اُسے بھی غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور کُردستان کی صورت میں ایک اور ناسور امتِ مسلمہ کے جسدِ مِلّی میں پیوست کیا جا رہا ہے۔ کُرد اپنے مزاج کے اعتبار سے جنگجوقوم ہیں، وہ چین سے نہیں بیٹھیں گے اور مسلم ممالک میں یہ اِرتعاش جاری رہے گا۔

جہادِ افغانستان اور ایران عراق جنگ سے لے کر اب تک مسلم ممالک کے صرف جانی نقصان کاتخمینہ لگایا جائے تو بلاشبہ لاکھوں میں ہے، اس کے علاوہ شہروں کے شہر اور آبادیاں تاراج کردی گئی ہیں، بسے بسائے شہر کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں، خاندان کے خاندان بکھر چکے ہیں، عورتیں اور بچے رُل رہے ہیں، پناہ گزین مُلکوں مُلکوں دربدر ہیں۔ کسی کو خبر نہیں کہ یورپ اور مغرب کے پناہ گزیں کیمپوں میں پھول جیسے مسلم بچوں کی تربیت کن اَقدار کے تحت ہو رہی ہے اور کون سے مذہبی ماحول میں وہ نشوونما پا رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیراور روہنگیا کا اَلَمیہ اس پورے منظر سے جدا ہے اور امتِ مسلمہ اُن کے درد سے ناآشنا ہے اور بے حسی کی کیفیت طاری ہے، کیونکہ وہ اپنے اپنے غموں کے سمندر میں ڈوبے ہوئے ہیں، کسی صاحبِ نظر نے بارگاہِ رسالت میں استغاثہ کرتے ہوئے کہاتھا:
ترجمہ:’’اے اللہ کے رسول! ہماری حالتِ زار پر توجہ فرمائیے، اے اللہ کے حبیب! ہماری فریاد سن لیجیے، میں غموں کے سمند ر میں ڈوبا ہوا ہوں، میری دستگیری فرمائیے اور ہماری مشکلات کو آسان فرما دیجیے‘‘۔

شام میں نُصیری اقلیتی فرقہ کئی دہائیوں سے حکومت پر مسلط ہے، انہیں عَلَوِیُّون بھی کہاجاتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ’’اِلٰہ ‘‘ مانتے ہیں، اسی لیے فقہِ جعفریہ والے بھی انہیں مسلم فرقہ تسلیم نہیں کرتے۔ لیکن ایران اپنے توسیعی عزائم کے تحت کافی مالی اور اَفرادی بوجھ برداشت کر کے بشار کی حکومت کو بچائے ہوئے ہے، لبنان کا حزب اللہ گروپ بھی اس کا ہراول دستہ ہے اور اب روس بھی اس کی حمایت میں مصروفِ عمل ہے۔ دوسری جانب ’’النّصرہ فرنٹ‘‘ اور ’’جبّہ مِلّی‘‘ کی طرح متعدد عسکری تنظیمیں بشار حکومت کو گرانے میں مصروف ہیں اور انہیں سعودی عرب اور خلیجی ممالک کی حمایت حاصل ہے۔ امریکہ اور مغرب کا کردار منافقانہ ہے، شاید اُ ن کا اصل ہدف امتِ مسلمہ اور مسلم ممالک کو کمزور اور منتشر کرنا ہے۔ ترکی شروع میں بشار حکومت کا شدید مخالف تھا اور وہ اِسے مسئلہ سمجھتا تھا، لیکن اب اپنے داخلی مسائل کی وجہ سے ترکی نے اپنے مؤقف میں نرمی پیدا کی ہے اور اب وہ بشار حکومت کومسئلہ قرار دینے کے بجائے مسئلے کا حل سمجھنے پر مجبور ہے، امریکہ اور مغرب کی بے اعتنائی اور بے وفائی نے اُسے روس کی طرف دھکیل دیا ہے۔ پاکستان کا جو حشر جہادِ افغانستان کے بعد ہوا، اب بتدریج ترکی اُسی صورتِ حال سے دوچار ہو رہا ہے، حالانکہ شام کے قضیے سے پہلے ترکی عالَمِ اسلام کا سب سے متحد، منظَّم اور مُستَحکم ملک مانا جاتا تھا۔

ہمارے نزدیک اس مسئلے کی سنگینی کو کم سے کم تر کرنے کا ممکنہ حل یہ ہے کہ پاکستان اور ترکی کی قیادت ایران اور سعودی عرب کی قیادت سے الگ الگ تفصیلی مذاکرات کرے اور پھر دونوں ممالک کو کسی کم از کم قابلِ قبول فارمولے پر راضی کرے تاکہ امتِ مسلمہ کے نہ ختم ہونے والے بحران کا رُخ کسی مُثبت حل کی جانب موڑا جاسکے اور مسلم ممالک کے جو افرادی، مالی اور حربی وسائل آپس کی جنگ کا ایندھن بن رہے ہیں، اِن کا سلسلہ موقوف کیا جاسکے۔ پاکستان کو تو امریکہ اور اہلِ مغرب کی جفا کا بہت تجربہ تھا، سعودی عرب اور ترکی کو پہلی بار اس سے واسطہ پڑا ہے، وہ صدمات سے دوچار ہیں، حالانکہ امریکہ اور یورپ کو ہمیشہ سے سعودی عرب اور خلیجی ممالک کا حلیف سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن آج اُن پر امریکہ کے سابق وزیرِخارجہ ہنری کسنجر کا یہ مقولہ صادق آ رہا ہے: ’’اگر امریکہ تمھارا دشمن ہے تو اس سے محتاط رہو اور اگر وہ تمھارا دوست ہے تو پھر بہت زیادہ محتاط رہو‘‘۔

سعودی عرب اپنے اعلان کے مطابق 39 مسلم ممالک پر مشتمل ایک ’’اسلامک ملٹری الائنس‘‘ تشکیل دے چکا ہے، لیکن اس کا دائرہ ٔکار اور مقاصد واضح نہیں ہیں، آیا یہ سعودی عرب اور حرمین طیبین کے دفاع کے لیے ہے یا داخلی خلفشار اور تصادم میں مبتلا مسلم ممالک میں قیامِ امن کے لیے ہے۔ شروع میں اِسے ’’سنّی ملٹری الائنس‘‘ کا نام دیا گیا تھا، جس سے ایک منفی تاثر پیدا ہوتا تھا کہ یہ ایران اور اُس کے حلیفوں کے مقابلے کے لیے ہے، اب نام کی حد تک اس منفی تاثر کا ازالہ کر دیا گیا ہے، ہم اس دانش مندی کی تحسین کرتے ہیں۔ سعودی حکمرانوں نے اعزاز کے ساتھ جنابِ جنرل (ر) راحیل شریف کو دورہ سعودی عرب کی دعوت دی، وہاں اعلیٰ قیادت کے ساتھ اُن کی ملاقات ہوئی، جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ انہیں اس مجوّزہ فوجی اتحاد کاسربراہ بنا دیا گیا ہے، اس پر ہمارے ہاں غیر محتاط انداز میں بحث شروع کردی گئی۔ بعض خبروں سے معلوم ہوا کہ جنرل صاحب نے اپنی کچھ شرائط رکھی ہیں، لیکن یہ سب قیاسات ہیں ۔

مسلم اتحادی افواج کی قیادت بلاشبہ پاکستان کے لیے اعزازکی بات ہوگی، لیکن تمام تر خدشات کے ازالے اور تحفظات پر مطمئن کیے بغیر یہ بیک فائر بھی ہوسکتا ہے، اس لیے نہایت ہوشمندی کی ضرورت ہے۔ امریکی قیادت میں مغربی ممالک کے فوجی اتحاد کے کھاتے میں جانی اور مالی نقصانات تو بےتحاشا ہیں، لیکن مسلم خطے میں کوئی سرفرازی اور سرخروئی اُن کا مقدر نہیں بن سکی اور جہاں جہاں اُن کے نقوشِ قدم ثبت ہوئے، وہاں حالات پہلے سے بھی ابتر اور بدتر ہیں۔ پارلیمنٹ کے اندر ہماری سیاسی جماعتیں چونکہ کسی کم ازکم ایجنڈے پر متفق نہیں ہوپاتیں، اس لیے ایسے حسّاس داخلی اور خارجی مسائل پر میڈیا میں چوپال مچا دیا جاتا ہے اور ماحصل انتشار کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا ۔

اس وقت عالمی سطح پر امت کی وحدت کی سب سے زیادہ ذمے داری سعودی عرب، ترکی اور پاکستان پر عائد ہوتی ہے، ایران کے ساتھ حساس مسائل پر سنجیدہ مکالمے کی ضرورت ہے۔ صحیح شِعار یہ ہے کہ حقیقی مسائل کا ادراک کر کے اُن کا حل تلاش کیا جائے۔ سعودی عرب، یمن، عراق، شام، لبنان، افغانستان، ایران اور پاکستان سب جگہ کسی نہ کسی درجے میں بےاعتمادی اور بدگمانی موجود ہے، اس کے ازالے کی ضرورت ہے۔

Comments

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن، چیئرمین مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان، صدر تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان، سیکرٹری جنرل اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان، مہتمم دارالعلوم نعیمیہ اہلسنت پاکستان

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */