گھر کی تباہی، طلاق کی بڑھتی شرح میں عورت کا کردار - اشتیاق احمدگوندل

طلاق اور گھروں کی تباہی آج سے 20 سال قبل تک صرف مغرب کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا لیکن پچھلی 2 دہائیوں سے پاکستان میں بھی طلاق کی شرح بڑھتی جا رہی ہے اور خاندانی نظام شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا چلا جارہا ہے۔

طلاق ہونے والے زیادہ تر واقعات میں مرد کو اس ”ظلم“ کی وجہ قرار دیا جاتا ہے لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟

اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ شادی کے بعد عورت بہت بڑی قربانی دیتی ہے کہ اپنے گھر، ماں باپ اور بہن بھائیوں کو چھوڑ کر ایک نئے گھر، نئے ماحول اور نئے خاندان کا حصہ بنتی ہے لیکن یہ رواج آج کا نہیں، یہ تو صدیوں سے چلا آ رہا ہے اور ہر ماحول، معاشرے اور مذہب میں رائج ہے۔

لیکن کیا لڑکی/عورت واقعی اپنا سب کچھ چھوڑ کر نئے رشتوں اور گھر کو دل سے اپناتی ہے؟
اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو شاید اکثر لڑکیاں ایسا نہیں کرتیں یا کر نہیں پاتیں کیونکہ اگر واقعی میں ایسا ہو تو 80% طلاق کے واقعات جو کہ لڑکی کے سسرالیوں اور شوہر سے اختلافات کی وجہ سے ہوتے ہیں، ختم ہوجائیں۔

اب کچھ سوالات تمام خواتین سے۔
1- کیا جب آپ کے والدین کے گھر میں آپ کے سگے والد صاحب آپ کو کسی بھی بات پر (حق/ناحق) ڈانٹتے یا پابندیاں عائد کرتے ہیں تو آپ نے اپنے بھائی یا والدہ سے مطالبہ کیا کہ مجھے الگ گھر میں لے جاؤ کیونکہ ابو جان ڈانٹتے اور پابندیاں عائد کرتے ہیں، تو سسر کے کچھ کہنے پر جھگڑا کیوں؟

2- جب آپ اپنے والدین کے گھر میں اپنی سگی بہنوں سے کسی بھی بات پر لڑتی یا الجھتی ہیں تو کیا آپ نے کبھی اپنے والد، بھائی یا والدہ سے کہا کہ میں اس گھر میں تب تک نہیں رہوں گی جب تک آپ میری اس بہن کو نہیں نکالتے یا اس کا ٹھیک سے بندوبست نہیں کرتے تو پھر نند سے جھگڑے یا تلخ کلامی پر ایسا کیوں؟

3- جب آپ اپنے والدین کے گھر میں اپنے چھوٹے اور بڑے بھائیوں کے کام کاج کرتی اور ایکسٹرا نخرے اٹھاتی اور ان کے کام کرتی ہیں تو کیا آپ نے اپنے والد یا والدہ سے کبھی کہا کہ مجھ سے نہیں ہوتے ان کے کام، اور میں ان کی نوکر نہیں ہوں اور اگر آپ نے مجھے ان کے کام یا ان کی باتیں سننے پر مجبور کیا تو میں حقیقتا گھر چھوڑ کر چلی جاؤں گی، اگر نہیں تو جیٹھ اور دیوروں کی باری ایسا کیوں؟

4- جب آپ اپنے والدین کے گھر میں اپنی والدہ سے حق ناحق ڈانٹ کھاتیں اور اکثر اوقات والدہ غصے میں ہوں تو اور ایک دو لگا بھی دیں تو کیا آپ اپنے والد یا بھائیوں سے یہ کہتی ہیں کہ امی جان نے حق ناحق ڈانٹا ہے یا مارا ہے، لہذا یا انہیں گھر سے نکالا جائے یا مجھے نیا گھر لے کر دیا جائے. تو ساس کی مرتبہ ایسا کیوں؟

بے شک مرد کا یہ فرض ہے کہ جو عورت اس کے نکاح میں آئے، اسے تمام تر حقوق فراہم کرے اور اس کی تمام جائز خواہشات پوری کرے، لیکن یہاں عورت کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے کہ جیسے وہ اپنے والد سے بےجا خواہشات نہیں کرتی، اور اپنے ماں، باپ، بہن بھائیوں کی اچھی بری باتوں سے درگزر کرتی ہے، اسی طرح شوہر سے بھی بے جا خواہشات نہ کرے اور نند، دیور، ساس اور سسر کی باتیں بھی درگزر کردے۔
سسر کو باپ
نند کو بہن
دیور کو بھائی
اور ساس کو ماں دل سے سمجھا جائے تو خاصی حد تک مسائل کم ہوجائیں گے۔

اور بیٹیوں کی ماؤں سے بھی درخواست ہے کہ آپ جیسی بہوئیں چاہتی ہیں، ویسی ہی تربیت اپنی بیٹیوں کی بھی کریں تاکہ گھر بسے رہیں۔

(اشتیاق احمد گوندل پنجاب یونیورسٹی لاہور میں پروفیسر ہیں)