اپنی تعریف کیجیے، کامیاب بنیے - حفصہ عبدالغفار

میرا ایک مسئلہ ہے یا یوں کہہ لیجے کہ خامی ہے، ”سستی اور پروکراسٹینیشن (procrastination )“. آج کل میں شدید تنگ آ کر اس سے ہر صورت چھٹکارا پانے کی کوشش میں ہوں - میرا ہدف اس سے مکمل چھٹکارا ہے، مگر پچھلے ہفتے سے کامیابی کے بجائے مایوسی ہو رہی تھی، کہ کل ایک چھوٹے سے جملے نے میرے مطلوبہ ہدف کے سفر کو آدھا کر دیا . ہوا کچھ یوں کہ اپنے زمانہ طالب علمی کی ایک مشہور مقررہ کا ہماری جامعہ میں بطور پروفیسر تقرر ہوا ہے. مجھے ان کی آمد کی انتہائی خوشی ہے کیونکہ ہماری ڈیبیٹنگ سوسائٹی (debating society) کے لیے ان کا آنا بہت اہمیت رکھتا ہے.

کل ان کے دفتر میں اسی سلسلے میں ملاقات ہوئی. پوچھا کس مضمون میں بی.ایس کر رہی ہو. عرض کیا کیمسٹری..
ان کا تبصرہ تھا: اتنے مشکل مضمون کے ساتھ ڈیبیٹس؟ کمال ہے بھئی. کیسے کرتی ہو؟ لوگ تو یہ مضمون نہیں رکھتے، ڈرتے ہیں.
میں نے ان کی حیرت پہ حیران ہوتے ہوئے کہا ”یہ مشکل تو نہیں.“
کہنے لگیں ”نہیں، آپ کو اپنے آپ کو یہ کریڈٹ تو ضرور دینا چاہیے، ہرکوئی یہ نہیں کر سکتا.“

گھر آ کر میں نے ایک نئے زاویے سے سوچنا شروع کیا - ان تمام چھوٹی چھوٹی کامیابیوں اور ایکٹیوٹیز کی فہرست بنائی جو بی ایس کے ساتھ ساتھ کیں، اور کم از میرے سرکل میں سے کسی اور نے نہیں کیں. کئی اچھے خاصے وقت طلب کاموں میں ٹانگیں پھنسائی ہوئی تھیں. خود کو خود ہی شاباشی بھی دی اور سوچا کہ اتنی سستی کے ساتھ یہ کچھ کر سکتی ہوں تو بندے دی دھی بن کہ اور بھی بہتر کر سکتی ہوں، اور واقعی میں اس سے کافی جذبہ محنت پیدا ہوا. پھر میں نے غور کیا کہ پچھلے ہفتے کی کوششوں میں کیا کمی تھی جو اس ایک جملے نے پوری کردی ہے۔

بعض اوقات ہم اپنی ایک غلطی یا خامی کو سر پر اتنا سوار کر لیتے ہیں کہ خود کو سراہنا بھول جاتے ہیں۔ اور اپنے بارے میں ایک منفی تاثر قائم کر لیتے ہیں۔ اگر یہ کیفیت چند دن سے زیادہ برقرار رہے تو مایوسی غلبہ پانے، اور خود اعتمادی آہستہ آہستہ کم ہونے لگتی ہے۔ نتیجتا ہم اپنے آپ سے توقعات اور امیدیں وابستہ کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ ہم اپنی عزت دوسروں کے نزدیک بھی کم کر لیتے ہیں۔ کیونکہ اگر آپ خود اپنی عزت کریں گے تب ہی دوسرے کریں گے. اگر آپ خود اپنے آپ سے مایوس رہیں گے اور اپنی خامیوں کا ہی تذکرہ کریں گے تو آپ سے وابستہ لوگ بھی آپ کی خامیاں ہی گنا کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   مستقل مزاجی کامیابی کی ضمانت - محمد عنصر عثمانی

جس طرح اپنی کارکردگی کا تنقیدی جائزہ آگے بڑھنے میں معاون ہوتا ہے، بالکل اسی طرح اپنی کامیابیوں پر ایک نظر اور ان پر اللہ کا شکر ادا کرنا کامیابیوں کے دروازے وا کرتا ہے.
بعض اوقات طالبات اپنے مسائل لے کر آتی ہیں، مثلا مجھ میں کانفیڈنس کی کمی ہے یا فلاں صلاحیت نہیں، اور میں ان کے سامنے کوئی مثبت بات کروں تو وہ فورا اس کی نفی کرکے اپنی شخصیت کا مایوس کن پہلو گننے لگتی ہیں۔ وجہ صرف یہ کہ انہوں نے مہینوں سے اپنی کسی اچھائی پر غور نہیں کیا۔ اور یہی مسئلہ ہماری اکثریت کا ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ آگے بڑھنے اور معاشرے میں اعلی مقام حاصل کرنے کے لیے بیک وقت اپنی شخصیت کے دو پہلوؤں پر غور کرنا ضروری ہے۔ ہر کوئی کسی نہ کسی صلاحیت سے نوازا گیا ہے۔ اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں، مانیں اور ان کی قدر کریں۔ ایک کامیاب زندگی کے لیے اپنی زندگی کو پلان کریں۔ کسی پرسکون گوشے میں بیٹھ کر خود سے ہم کلام ہوں۔ اپنی دس خوبیاں اور پانچ خامیاں لکھیں۔ ( ہمیشہ مثبت پہلو زیادہ لکھیں) پھر اپنے ٹارگٹس (targets )لکھیں۔ پھر سات یا دس ایسے عوامل لکھیں جو آپ کے ان ٹارگٹس تک پہنچنے میں معاون ہوں، مثلا ذہانت، محنت کی عادت، دوست احباب، حوصلہ افزائی کرنے والا خاندان یا پھر اسی فیلڈ میں بیک گراؤنڈ نالج (background knowledge ) وغیرہ۔ اور پانچ ایسے عوامل جو رکاوٹ ہوں۔ رکاوٹوں کو سوچنے اور ان سے نبٹنے پر اپنی توانائی کا کم استعمال کریں اور معاون عوامل سے فائدہ اٹھانے پر زیادہ توانائی لگائیں۔

لانگ ٹرم گولز (long term goals) کے لیے شارٹ ٹرم (short term) حکمت عملی بنائیں۔ مثلا پہلا پلان ایک مہینے کا رکھیں۔ اسے پر عمل کریں اور اگلا پلان تین مہینے کا بنائیں۔ اس طرح آپ کی خود اعتمادی واپس لوٹ آئے گی۔

اور میری ایک بات، چاہے سننے میں کتنی ہی عجیب لگے، مگر ضرور یاد رکھیے گا۔ آپ اپنے بارے میں جو سوچتے ہیں وہی بن جاتے ہیں۔ اگر آپ یہ سوچیں کہ آپ یہ کام کر سکتے ہیں تو وہ کرلیں گے۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ نکمے ہیں تو آپ نکمے ہی بن کر رہ جائیں گے۔ دوسرے آپ کے بارے میں جو کہتے ہیں، وہ اکثر سچ نہیں ہوتا، اس لیے اپنی تعریف کیجیے اور اپنے بارے میں اچھی رائے قائم کریں۔ مثلا دو لوگوں نے اگر سٹیج پہ کبھی بھی بات نہ کی ہو، ان میں سے اگر کوئی ہمیشہ ذہن میں رکھے کہ میں تو بہت پر اعتماد ہوں اور پبلک سپیکنگ (public speaking) میں سٹیج کانفیڈنس میرے پاس بہت ہے، تو وہ واقعی ایک دن اچھا سپیکر بن جائے گا۔ دوسرا جس کی رائے اپنے بارے میں مثبت نہیں، وہ کوشش کے باوجود پہلے شخص جیسا نہیں بن پائے گا کیونکہ اس کے دل میں ایک ڈر اور ایک منفی تاثر ہمیشہ موجود رہتا ہے، لہذا اپنے خوابوں کو حاصل کرنے کے لیے کوشش کے ساتھ ساتھ اپنے اوپر اعتماد بھی رکھیں۔ مثلا جو آپ میں سے بیوروکریٹ بننا چاہتا ہے، وہ یقین رکھے کہ میں سی ایس ایس پہلی اٹیمپٹ (attempt) میں ہی پاس کر جاؤں گا۔ اور اپنے بارے میں یہ سوچ امتحانات سے تین چار سال پہلے ہی قائم کرلے۔ مستقبل میں خود کو ایک بیوروکریٹ کے طور پر ہی دیکھے۔ اسی طرح دوسرے شعبوں میں جانے والے۔ کبھی بھی یہ نہ سوچیں کہ اچھا پہلے یہ کروں گا، یہ نہ ہوا تو یہ، اور یہ نہ ہوا تو یہ وغیرہ وغیرہ۔ اگر آپ ایسا سوچتے ہیں تو اس کا ایک ہی مطلب ہے کہ آپ میں خود اعتمادی نہیں ہے، اور خود اعتمادی لانے کا پہلا قدم اپنے بارے میں اچھا سوچنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مستقل مزاجی کامیابی کی ضمانت - محمد عنصر عثمانی

کوئی یہ اعتراض کر سکتا ہے کہ بچے کی خوداعتمادی اور کامیابی میں معاشرے بالخصوص والدین اور اساتذہ کا کردار نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ دیکھیے! والدین، اساتذہ اور معاشرے کا کردار واقعی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، مگر والدین اور اساتذہ ہر کسی کو ایک جیسے نہیں ملتے۔ کسی کا گھریلو ماحول مسائل کا منبع ہوتا ہے اور بچے کی شخصیت کے پرخچے اڑا کر رکھ دیتا ہے جبکہ کسی کا گھریلو ماحول بچے کو دھکے سے آگے لا سکتا ہے۔ لہذا اصل نکتہ، جو دونوں صورتوں میں اہم ہے، وہ یہی ہے کہ آپ خود کو کیا بناتے ہیں اور کیسے بنا سکتے ہیں۔ نظرانداز کریں اردگرد کے ماحول، وسائل اور والدین کی کوتاہیوں کو، اپنی شخصیت کو خود اعتمادی اور خود شناسی کے وسائل سے مالامال کریں، آپ ضرور ایک بھرپور زندگی گزاریں گے۔
خوش رہیں خوش رکھیں.
اپنے فیڈبیک سے آگاہ کیجیے گا کہ اس حکمت عملی سے آپ کو فائدہ ہوا یا نہیں۔
اور ہاں اپنی تعریف ضرور کیجیے گا۔