بانو آپا میری کیا تھیں؟ عائشہ غازی

لکھ لکھ کر کاغذوں کے ڈھیر لگائے ہوئے تھے لیکن ابھی مجھے گمان بھی نہیں تھا کہ میری تحریر کبھی میری الماری کے کونوں میں چھپائے کاغذوں سے نکل کر قاری کے سامنے آئے گی. میری نظمیں ابھی سہارے پکڑ کر کھڑی ہوتی تھیں اور گر پڑتی تھیں. میری ذات میں مقید لکھاری برملا اظہار کا حوصلہ ڈھونڈتا تھا، اور میرے لیے بانو آپا وہ حوصلہ تھیں جس نے میرے لکھاری کو پاؤں پاؤں چلنے کی خوشی دی.

ابھی بی ایس سی کے آخری دن تھے، کہیں سے بانو آپا کا ایڈریس مل گیا. میں نے انھیں ایک خط میں وہ سب لکھ بھیجا جو میں تھی، لیکن جس کا سامع میرے اردگرد میسر نہیں تھا، اسی خط میں اپنی ایک نظم ’’تعاقب‘‘ بھی شامل کی، اور پوسٹ کرکے بھول گئی. اس وقت تک فطرت نے مجھ میں جو لکھاری تخلیق کیا، اسے میں نے چھپا چھپا کر رکھا ہوا تھا، کہ مجھے گمان تھا میرے گرد و پیش میں اس کی سلامتی صرف چھپ کر زندہ رہنے میں ہے. خط کے بارے میری زیادہ سے زیادہ توقع اس کے پڑھے جانے کی تھی.

اس کے کئی ہفتے بعد اچانک ایک دن بانو آپا کا جوابی خط آ گیا. کاش وہ خوشی بیان کرنے کے لیے کوئی لفظ تخلیق کیا گیا ہوتا جو اپنے وجود کی شہادت ملنے کی خوشی ہوتی ہے. بانو آپا نے جو سند کی مہر میرے لکھاری پر لگائی، اسی نے اس لکھاری کو یہ اعتماد اور حوصلہ دیا ہے جو آج سامع کے سامنے بولتا ہے اور بولے چلا جاتا ہے. اس کے کچھ ہفتے بعد پھر آپا کا خط آیا کہ تمہاری نظم اظہر جاوید کو تخلیق میں چھپنے کے لیے بھیج دی ہے. تخلیق میں چھپنا کسی شاعر کے لیے اس کے مستند ہونے کی دلیل تھی اور میں حیران کہ میری تحریر تخلیق میں؟

خطوط کا یہ سلسلہ میری شادی کے بعد لندن آنے کے بعد بھی چلتا رہا. زندگی میں بہت اتار چڑھاؤ آئے، بانو آپا کو لکھتی رہی. سچ یہ ہے کہ زندگی کے کچھ مراحل پر دی ہوئی بانو آپا کی نصیحتیں جو تب صرف ڈانٹ لگتی تھیں ، آج وہ خط دوبارہ پڑھوں تو ’’تشخیص‘‘ لگتی ہیں،گویا بانو آپا اس وقت میری روح کی نبض پڑھ رہی تھیں جب مجھے علم نہیں تھا میری روح درد میں ہے، اسے علاج چاہیے.

بانو آپا سے 2012ء میں پہلی بار خطوں سے باہر بالمشافہ ملاقات ہوئی. واپسی پر اجازت لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’گھر پوہنچ کے دسیں‘‘ (گھر پہنچ کر خبر کر دینا). یہ جملہ میری سماعت، میرے دل میں اٹک جاتا ہے. اس کے بعد ان سے خط و کتابت نہیں ہو پائی.

اگست 2016ء میں میں ان سے نظریہ پاکستان پر اپنی فی الحال نامکمل ڈاکومنٹری کے بارے میں ملنے گئی تھی. کمرے میں داخل ہوئی تو زرد روشنی میں ایک بزرگ روح بیٹھی ہوئی تھی، معتبر، دانشمند، مہذب اور خاموش، سر کے اشارے سے سلام کا جواب دیا لیکن اس بار آپا اتنی محبت سے ملیں جیسے برسوں پرانا تعلق ہو، مجھے گلے لگا کر میرے ہاتھ اپنے چہرے سے لگائے اور پاس بٹھا لیا. میری مشکل یہ ہے کہ میرے لیے اکثر لفظ اضافی ہو جاتے ہیں، چپ لگ جاتی ہے، میں بھی اور آپا بھی خاموش بیٹھے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے رہے، پھر میں کیمرہ سیٹ کرنے چلی گئی دوسرے کمرے میں.

آپا کیمرے کے سامنے آ کر بیٹھیں، طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی اس دن بھی، کچھ جملے آن کیمرہ کہے اور کچھ باتیں آف کیمرہ، کہنے لگیں ’’یہ نفسا نفسی کا دورگزرنے کے بعد پاکستان پر بہت اچھا وقت آنے والا ہے، تم پریشان مت ہوا کرو، بس دعا کیا کرو.‘‘

اس بار ان سے مل کر مجھے لگا بانو آپا اب ہم میں نہیں ہیں، یہ کسی اور دنیا میں ہیں اور ہماری اس دنیا کو اجنبیت سے دیکھ رہی ہیں. انہیں بلاؤ تو اپنی دنیا سے نکل کر آتی ہیں جواب دینے، انہوں نے چند جملے جو اس ڈاکومنٹری کے لیے کہے، وہ میرا اثاثہ ہیں.

پھر آپا کہنے لگیں میرا ایک کام کر دو، روبینہ (ان کی اٹینڈنٹ) کے ساتھ بھی میری ایک تصویر بنا دو اور وہ مجھے بھیج دینا، اس کے بعد مجھے کیمرہ پیک کرکے نکلنا تھا وہاں سے، میں نے روبینہ سے کہا کہ آپ آپا کو لے جائیں ان کے کمرے میں، تو آپا نے ٹوک دیا، کہنے لگیں تم چلی جاؤ گی تو پھر میں اندر جاؤں گی. میں بہت متشکر ہو جاؤں تو مجھے چپ لگ جاتی ہے، نکلتے ہوئے آپا کو ایک بار پلٹ کر دیکھا تھا، لگتا تھا آخری بار دیکھا ہے، کچھ وہم بے وجہ نہیں ہوتے.

’’گھر پوہنچ کے دسیں‘‘ میرے دل میں اٹکا ہے. آپا سے تعلق کے ان بہت سے سالوں میں میری روح اور میرے شعور نے بہت طویل سفر طے کیا ہے لیکن میرے دل میں یہ دکھ اٹک گیا ہے کہ میں ان کو گھر پہنچ کر نہیں بتا سکی کیوں کہ مجھے پہنچنے میں بہت دیر ہو رہی تھی.

کئی سال لگ گئے مجھے سفر کی سمت درست کرنے میں اور انسان کی روح کو جب تک اللہ راستہ نہ سجھائے، وہ گھر نہیں پہنچ پاتی. اب لگتا ہے مجھے گھر کے آثار نظر آتے ہیں، میں گھر کے پاس پاس پہنچ گئی ہوں لیکن اب آپ کو بتا نہیں سکتی آپا.

بانو آپا کا خط

Comments

عائشہ غازی

عائشہ غازی

برطانیہ میں مقیم عائشہ غازی وکیل، سماجی کارکن، ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ، اور فری لانس جرنلسٹ ہیں۔ تھر اور ڈرون متاثرین پر ڈاکومنٹری بنا چکی ہیں۔ جذبات شعر کی صورت ڈھالنے کا ہنر رکھتی ہیں، شاعری کی دو کتب شائع ہوئی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.