ہر کالم ایک فکری سبق - رعایت اللہ فاروقی

گلشنِ معمار کراچی میں بھائی کے زیر تعمیر مکان کے سامنے پڑی اس چارپائی پر آج میں ہوں اور عامر خاکوانی کے منتخب کالمز کا مجموعہ ”زنگار“ ہے. بالعموم ہوتا یہ ہے کہ میرے ہاتھ آنے والی کتاب پہلے ہی روز صلاح الدین لے لیتا ہے اور تین روز بعد پڑھ کر واپس کر دیتا ہے تو میرے مطالعے کی باری آتی ہے. میں کتاب پر اس کی رائے لے لیتا ہوں، اگر کتاب اس کے نسبتا خالی ذہن کو متاثر نہ کر سکی ہو تو اس کے مطالعے پر وقت ضائع نہیں کرتا. عامر خاکوانی کا ٹی سی ایس صلاح الدین نے ہی لا کر مجھے دیا اور میں نے جان بوجھ کر وہ ڈبہ اس کے سامنے نہیں کھولا کیونکہ عامر خاکوانی گپیں ہانکنے والے کالم نگار نہیں بلکہ صاحب فکر ابھرتے دانشور ہیں سو امکانی طور پر یہ بات تو طے تھی کہ اس کتاب میں شامل ہر کالم شعور کے لیے بھرپور غذا رکھتا ہوگا اور اچھی غذا کے معاملے میں باپ کا رویہ ماں سے مختلف ہوتا ہے. ماں کہتی ہے
”بیٹا تم کھالو، مجھے بھوک نہیں.“
جبکہ باپ کہتا ہے
”پتر صبر کر، میں کھالوں تو تجھے بھی لا کر دیتا ہوں.“

کتاب لے کر گلشن معمار آ گیا لیکن غضب یہ ہوا کہ کتاب گاڑی میں پڑی رہ گئی، اب گاڑی آتی تو میں نہ ہوتا اور میں ہوتا تو گاڑی نہ ہوتی. صلاح الدین کے حصے والے پہلے تین روز کتاب پر گاڑی کا قبضہ رہا. آج از راہ عنایت اس نے کتاب لوٹا دی ہے تو سڑک کنارے پڑی اس چارپائی پر کوئٹہ سے آتی ہلکی برفانی ہوا میں اس کا مطالعہ جاری ہے.

حسبِ عادت کتاب کو پہلے تین مختلف مقامات سے چکھنا چاہا تو پہلا مقام کتاب کا صفحہ 306 سامنے آگیا جس پر موجود کالم کا عنوان تھا ”پاکستانی لبرل کیوں ناکام ہوئے؟“ اس کالم میں پروفیسر حسن عسکری کا اقتباس مرض کی زبردست تشخیص ثابت ہوا. دوسرا مقام کھولا تو صفحہ 116 سامنے آ گیا. اس صفحے پر موجود کالم کا عنوان ”ٹوٹل سرنڈر“ ہے. یہ کالم بندے کے رب سے تعلق کی سچی کہانی ہے، ایک ایسی کہانی جو بتاتی ہے کہ جب زمینی سہارے جواب دے جائیں تو یہیں سے وہ روشن لمحہ پھوٹتا ہے جسے ”تجلی کا لمحہ“ کہنا غلط نہ ہوگا.

میں عام طور پر نئی کتاب کو تین مختلف مقامات سے چکھتا ہوں، اگر ایک بھی مقام شعور پر دستک نہ دے سکے تو ایسی کتاب پر وقت برباد نہیں کرتا. عامر خاکوانی کی ”زنگار“ کا تیسرا مقام کھولنا وقت کا ضیاع لگا، بلا تاخیر پہلے صفحے پر گیا اور شعور کو عیاشی کرانے لگا. یہ عیاشی ابھی جاری ہے، درمیانی وقفے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بس یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ کتاب ہر نوجوان کو لازما پڑھنی چاہیے، اس کی خاص بات کالمز کی سلیکشن ہے جس میں سیاسی کے بجائے فکری کالموں کو ترجیح دی گئی ہے. اس انتخاب کا ہر کالم ایک فکری سبق ہے!

Comments

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی سوشل میڈیا کا جانا پہچانا نام ہیں۔ 1990ء سے شعبہ صحافت سے وابستگی ہے۔ نصف درجن روزناموں میں کالم لکھے۔ دنیا ٹی وی کے پروگرام "حسبِ حال" سے بطور ریسرچر بھی وابستہ رہے۔ سیاست اور دفاعی امور پر ان کے تجزیے دلچسپی سے پڑھے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.