ایک دعا جس سےایک دن میں 50 لاکھ کا اہتمام ہوگیا - علی عمران

پہلی مرتبہ جب رائیونڈ مرکز جانا ہوا، تو عین صبح کی نماز کے وقت پہنچے تھے. قاعدہ یہی چل رہا تھا اور اب تک چل رہا ہے کہ فجر کی نماز کے بعد حاجی عبدالوہاب صاحب بیان فرماتے ہیں. وہ موجود نہ ہوں تو پھر بیان کے لیے مشورے سے باقاعدہ تشکیل ہوتی ہے. اس دن بھی قسمت کی بات کہ وہ موجود نہیں تھے، اور بھائی حاجی مشتاق صاحب رح بیان فرما رہے تھے. ان کا معاملہ یہ تھا کہ صاحب حال اور پر جلال تھے. غصہ آتا، تو زیادہ تر مائیک پر ہی اتارا جاتا.

بیان کے دوران سنایا کہ ایک جگہ میں، حاجی عبدالوہاب صاحب اور میاں جی عبداللہ صاحب ایک میواتی سے بات کرنے گئے.
وہ تھے پرجوش، ایک دم لاٹھی اٹھا کر لاٹھی چارج شروع کردیا.
میں اور میاں جی عبداللہ تو بھاگ آئے، جبکہ بھائی عبدالوہاب نے خوب مار کھائی.
پھر حاجی مشتاق صاحب اپنے خاص کیف میں چیخے، ہائے ہائے! آج وہ ”عبدالوہاب“ بن گئے ہیں اور میں وہیں کا وہیں.
اس کے بعد مائیک بےچارے کی خیر نہ رہی تھی.!

محترم حاجی صاحب نے سنایا کہ جب شروع میں ہم نے یہاں کام شروع کیا، تو بڑی مشکل پیش آئی. دو جھونپڑیاں کھڑی کردی تھیں جن کے لیے زمین بھی میں نے ہی خریدی تھی، مگر میاں جی عبداللہ کے نام کی تھی. نہ آدم ہوتا تھا، نہ آدم کی ذات..
رائیونڈ منڈی میں اس زمانے میں ایک سرائے تھی، جس میں میواتی ٹھہرا کرتے تھے. اور مزدوری کے لیے لاہور جایا کرتے تھے. میں یوں کرتا تھا کہ سرائے چلا جایا کرتا اور جو میواتی لاہور جانے کے لیے چلنے لگتا، تو میں اس کا ہاتھ پکڑ لیتا کہ میں بھی ایک جگہ تک آپ کے ساتھ ہی جاتا ہوں. پھر اس سے دعوت کی بات کرتا، مرکز لاتا، یہاں اس کو کھانا کھلاتے، پانی پلاتے.. ایک میاں جی حشمت تھے. ان کی ذمے بس یہ کام تھا کہ وہ حقہ گرم رکھے، میواتی حقہ ضرور پیتے. یوں کھانا کھلا کر، پانی، حقہ پلا کر اس کو رخصت کرتے اور اس سے درخواست کرتے کہ واپسی میں بھی بس ہمارے ہاں کھانا کھا کر اور حقہ، پانی پی کر جانا. یہ سنا کر فرمایا، تم لوگ اس مجمع کی قدر کرو اور ان کو دین سکھاؤ.

حاجی صاحب نے سنایا کہ میں نصرت کے لیے بہت زیادہ جایا کرتا تھا، سواری کا کرایہ ہوتا نہیں تھا لہذا زیادہ تر پیدل ہی پھرا کرتا تھا. لاہور سے رائیونڈ اور رائیونڈ سے لاہور، تو عام معمول تھا پیدل آنے جانے کا. ٹرین کی پٹڑی کے ساتھ چلنا شروع کرتا .جوانی تھی، یاد نہیں کہ کبھی ٹرین چڑھ کر گیا ہوں. جا بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ جیب میں کچھ ہوتا نہیں تھا.

ایک مرتبہ کراچی میں ایک جماعت کی نصرت کرنی تھی. میں اکیلا ہی تھا. پورا دن اسے ڈھونڈھتے گزرا، مگر جماعت تھی کہ مل ہی نہیں رہی تھی. بڑی مشکل سے دن ڈھلے معلوم ہوا کہ فلاں علاقے کے مسجد میں ہے. میں اس طرف چلا، تو ایک پٹھان بھی ساتھ چلا. ایک جگہ دوراہا آگیا. میں نے دائیں مڑنا تھا اور خان صاحب نے بائیں جانا تھا.
میں سلام کر کے الگ ہونے لگا تو خان صاحب نے میرا ہاتھ پکڑا اور بولا،
”ٹھہرو ! ابی ام تمکو جانے نئیں دے گا.“
میں کچھ پریشان سا ہو کر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا، اس نے کندھے پر موجود چادر اتاری، پھر اسے زمین پر بچھایا.
خان صاحب نے پٹھانوں والی مخصوص قسم کی جیکٹ پہنی ہوئی تھی، جس میں بہت سارے جیب تھے.
انہوں نے ایک جیب میں ہاتھ ڈالا، باہر نکالا، تو اس میں چاقو تھا. اسے چادر پر رکھا. پھر دوسرے جیب میں ہاتھ ڈالا، تو کچھ روپے نکلے، انہیں بھی رکھ دیا.
اسی طرح کسی جیب سے چنے برآمد ہوئے، کسی سے مونگ پھلی، کسی سے کچھ کھلے پیسے. غرض ہر جیب سے کچھ الم غلم نکل آیا. اور خان صاحب اسے چادر پر ڈھیر کرتا گیا.
جب ساری جیبیں خالی ہوگئیں، تو مجھے دیکھا اور بولا،
”دیکو برادر! ام تم ایک راستہ پر چلا، تو امارے پر تمارا کچھ اقوق (حقوق) آگیا. اب ام تمارا یہ خدمت کرسکتاہے کہ امارے پاس جو کچھ ہے، اس کا آدھا تم لے لو اور آدھا امارے کو دیدو..اس سامان میں جو پسند ہو، وہ لے لو.“
فرمایا، اس کی سادگی، محبت اور یہ بےساختہ پن کو دیکھ کر مجھے بےحد خوشی ہوئی. میں نے اس کا شکریہ ادا کیا، اور کہا کہ باقی تو آپ کی کسی چیز کی مجھے ضرورت نہیں، ہاں یہ چنے ضرور لوں گا، سو وہ چنے لے کر میں اپنی راہ ہو لیا اور وہ خان صاحب اپنی راہ ہو لیے. صبح چلا تھا، شام ہوگئی تھی. یہ پہلی خوراک تھی، جو معدے میں گئی تھی.
سچ ہے، بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

حاجی عبدالوہاب صاحب نے فرمایا کہ شروع میں ہم اکرام بہت کرتے تھے، آمدنی کا کوئی ذریعہ تھا نہیں. ایک ہی رستہ تھا، قرض کا، سو میں قرض لیتا تھا اور مرکز کے امور میں خرچ کرتا تھا .قریشی صاحب (پاکستان کے پہلے تبلیغی امیر) کو میری یہ ”فضول خرچی“ پسند نہیں تھی. انہوں نے مجھے کئی مرتبہ روکا بھی، مگر میں نے عرض کیا کہ میں اپنی ذاتی حیثیت سے لے رہا ہوں، مرکز پر تو بوجھ نہیں ڈال رہا، لہذا آپ کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے.

ایک مرتبہ جب مولانا یوسف رح اور مولانا انعام الحسن رح وغیرہ حضرات تشریف لائے ہوئے تھے، انہوں نے میری شکایت کی. مولانا انعام صاحب تو خاموش رہے، مولانا یوسف رح نے سرزنش کی. میں جب باہر نکلا، تو پیچھے سے مولانا انعام صاحب بھی باہر تشریف لائے. میری کمر تھپکی اور فرمایا، لگے رہو، اللہ کریم آسانی فرما دیں گے. قریشی صاحب کی وفات کے بعد میں نے حج پر جانا چاہا، تو سوچا پیچھے کس کو چھوڑ کر جاؤں. مجھے بھائی مشتاق صاحب کا خیال آیا.
میں کراچی آیا، ان کے گھر پہنچا، تو انہوں نے دیکھتے ہی خوشی کا نعرہ بلند کیا اور بولے، بڑے موقع پر آئے ہو.
میں نے پوچھا، خیریت؟
بولے، یہ خط دیکھو، فلاں کالج سے مجھے کال آئی ہے. کل ہی جائن کرنا ہے.
میں نے کہا، آپ کو مبارک ہو، مگر جس کام کے لیے میں آیا تھا، وہ تو پھر نہیں ہوسکتا!
انہوں نے کہا، کون سا کام؟
میں نے بتایا کہ میرا ارادہ حج کا بن رہا تھا، تو سوچا کہ آپ پیچھے مرکز میں رہ کر انتظام سنبھالیں گے. مگر اب تو یہ مشکل لگ رہا، کیونکہ آپ کو تو نوکری جائن کرنی ہے.
بھائی مشتاق صاحب نے فرمایا، ارے بھائی! اس کے لیے پریشان ہو رہے تھے! کہو تو ابھی انکار بھیج دوں، کہو تو صبح بھیج دوں؟
اتنا دل خوش ہوا اور اتنی ان کو دعائیں دیں.!

پھر فرمایا، ہماری جماعت عراق کے راستے سے چلی اور ہندوستان والے دوسرے رستے سے آئے. مکہ مکرمہ میں ملاقات ہوئی، تو مولانا انعام الحسن رح نے چھوٹتے ہی پوچھا، قرض کا کیا حال ہے؟
میں نے عرض کیا، حضرت! اب تو یہ حالت ہے کہ ہدایت کی دعا بعد میں کرتا ہوں، اور قرض اترنے کی پہلے کرتا ہوں.
فرمایا، لگے رہو، ہم بھی دعا کر رہے. ان شاءاللہ مالک سہولت فرمائے گا.
اور بےشک اللہ نے سہولت کردی.

پچھلے دنوں یہ قطب الدین (اس وقت کے شعبہء تعمیر کے ذمہ دار تھے. ان دنوں پورے مرکز کی نئی تعمیر ہو رہی تھی) میرے پاس آیا اور کہا کہ فوری طور پر پچاس لاکھ کی ضرورت ہے. میں نے کہا، بھائی! میرے پاس تو ہے نہیں..حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو آخری تین قل پڑھتا ہے، تو اللہ تعالٰی اس کی ہر چیز کے لیے کافی ہوجاتاہے. تم بھی پڑھو، میں بھی پڑھتا ہوں.
اور واقعی اللہ تعالٰی نے شام تک بندوبست کر لیا.

Comments

علی عمران

علی عمران

علی عمران مدرسہ عربیہ تبلیغی مرکز کے فاضل ہیں۔ تخصص فی الافتاء کے بعد انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں اسلامک کمرشل لاء میں ایم فل کے طالب علم ہیں. دارالافتاء والاحسان اسلام آباد میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جہاں افتاء کے علاوہ عصری علوم پڑھنے والے طلبہ اور پروفیشنل حضرات کو دینی تعلیم فراہم کی جاتی ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں