پنجاب میں انصاف کی ہلکی سی جھلک - حسن تیمور جکھڑ

ہمارے ملک میں ادارے تیزی سے آزاد ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ سیاستدانوں کو تو روز اول سے ہی آزادی تھی، لیکن اپنے بل بوتے پر آزادی حاصل کرنے میں فوج ان سے سبقت لے گئی۔ دوسرے نمبر پر میڈیا رہا جس نے قیام پاکستان کے تقریبا 50 برس بعد آزادی دیکھی۔ ریاست کا اہم ستون بھلا کہاں پیچھے رہنے والا تھا، سو موقع ملتے ہی عدالت عظمیٰ نے بھی آزادی کی تحریک چلائی اور کامیابی پا لی، اور آزادی پانے کے بعد پہلا اعلان انصاف کی بروقت فراہمی کا کیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان، لاہور ہائیکورٹ، پشاور ہائیکورٹ، کوئٹہ ہائیکورٹ، کراچی ہائیکورٹ کے چیف جسٹسز نے حلف اٹھاتے ہوئے اس بات پر زور دیا (اور دیتے ہیں) کہ وہ بھی اپنے پیشرؤں کی طرح انصاف کی بروقت فراہمی کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے۔

اس بروقت اور معیاری انصاف کی چند مثالیں پیش خدمت ہیں:

2014ء کا ذکر ہے۔ ترقی یافتہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے تیسرے بڑے شہر ملتان سے ملحقہ جڑواں شہر مظفر گڑھ میں ایک خاتون کو انصاف کی ضرورت پڑگئی۔ ہوا کچھ یوں کہ 18 سالہ طالبہ آمنہ بی بی کو ایک شخص نے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ اس نے بھی کہیں چیف جسٹس صاحبان کا یہ بیان سن رکھا تھا۔ سو نوعمر لڑکی اپنی زندگی لٹ جانے کا غم لیے تھانے پہنچی اور انصاف کی متقاضی ہوئی، مگر شاید تھانے والوں نے معزز جج صاحبان کا وہ بیان نہیں سنا تھا، لہذا روایتی انداز سے تفتیش شروع ہوئی۔گھنٹوں میں نمٹایا جانے والا معاملہ طول پکڑتے پکڑتے ہفتوں تک جا پہنچا، اور بالآخر حسب معمول ملزم کو بےگناہ قرار دینے پر جا کر ختم ہوا۔ اس بروقت اور واقعی انصاف نے آمنہ بی بی کو اس قدر سرشار کیا کہ وہ تھانہ میرہزار خان کے باہر خود پر تیل چھڑک کر خودسوزی کر کے جشن منانے پر مجبور ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں:   ہاں میں جذباتی ہوں - نیلم اسلم

دوسرا واقعہ 2015ء کا ہے۔ مظفرگڑھ کے نواحی علاقے دین پور کے رہائشی مشتاق کی اہلیہ سونیا بی بی کو تین اوباشوں نے درندگی کا نشانہ بناڈالا۔ وہ بےچارہ خاندان بھی اسی خوش فہمی میں تھا کہ اب انصاف بروقت ملتا ہے، سو تھانہ سٹی کے چکر لگانے شروع ہوئے۔ جب جوتیاں بھی چٹخ گئیں تو انجام وہی نکلا، جو آمنہ بی بی کی بار ہوا کہ سونیا نے بھی بروقت انصاف کی دھمال ڈالتے ہوئے تھانے کے باہر خود سوزی کرلی۔

مذکورہ بالا دونوں واقعات پر خادم اعلی کہلانے کا شوق رکھنے والے شہبازشریف نے فوری نوٹس لیا۔ متاثرہ خواتین کےگھر گئے، ان کی اشک شوئی اور تالیف قلب کے لیے مالی امداد بھی دی۔ ساتھ ہیحکم صادر کیا کہ معاملے کی چھان بین کر کے بروقت اور معیاری انصاف فراہم کیاجائے، اور وہ بھی فی الفور۔ خیر اس کے باوجود بھی اصل ملزمان نہ پکڑے جا سکے، متعلقہ تھانیدار کچھ عرصے کےلیے معطل رہے، اور بس، انصاف کی فراہمی مکمل ہوئی۔ سب کو لگا شاید اب انصاف فراہم کرنے والے ادارے راہ راست پرآگئے ہیں اور اب کوئی مظلوم خالی ہاتھ نہ جائےگا۔

مگر ایک مرتبہ پھراس خبر نے انصاف کی فراہمی کےدعوؤں پر مہرتصدیق ثبت کردی۔
مظفرگڑھ کے علاقے خان گڑھ میں پولیس کے نظام انصاف سے متاثر ہو کر ایک اور خاتون نے خود سوزی کرلی جو دس روز موت و حیات کی کشمکش میں رہ کر بالاخر آمنہ اور سونیا کے پاس چلی گئی۔ خاتون شہناز بی بی کے شوہر اور اس کے چچا کا آپس میں تنازعہ چل رہا تھا۔ شوہر عبدالرشید کی درخواست دینے کے باوجود پولیس نے مقدمہ درج کرنے کی بجائے الٹا اسے حوالات بندکردیا۔ اس پر دلبرداشتہ ہو کر شہناز بی بی نے خود کو آگ لگالی تھی۔

یہ سب واقعات ایک چھوٹے سے شہر کے ہیں۔ پنجاب میں انصاف کی رفتار اور انتظار کرتے کرتے زندگی کی بازی ہارنے والوں کی تعداد کا جائزہ لیا جائے تو کئی کتابیں لکھنی پڑیں گی۔ حضرت علی ؓکا قول ہے کہ معاشرے کفر پر چل سکتے ہیں، ناانصافی پہ نہیں۔ سو میں منتظر ہوں کہ کب ہم بطور معاشرہ قدرت کے انصاف کا شکار ہو کر اس دنیا سے ذلیل کر کے نکالے جاتے ہیں، کیوں کہ اگر مخلوق خدا کو انصاف دینے کے معاملے میں ہم ہوش کے ناخن نہیں لیتے تو قدرت کا اپنا ایک میکانزم ہے اور یقین جانیے وہ انصاف دینے میں ذرا بھی بے ایمانی نہیں کرتی۔

Comments

حسن تیمور جکھڑ

حسن تیمور جکھڑ

حسن تیمور جکھڑ شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ سماجی موضوعات پہ لکھنا پسند ہے۔ میڈیا عروج کے اس دورمیں بھی سنسر پالیسی سے خائف ہیں، اس لیے سوشل میڈیا اور دلیل کو اظہار کا ذریعہ بنایا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.