یاسمین کے پھول - مولانا حبیب اللہ

جس طرح انسانی جسم کی بقا کے لیے روح ضروری ہے، اسی طرح اس کائنات کی بقا کے لیے علماء کا وجود ضروری ہے۔ اس دنیا میں جب تک علماء موجود رہیں گے یہ نظام چلتا رہےگا، جس دن علماء کا وجود ختم ہوگیا اس دن کائنات کا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی علم کا اُٹھ جانا بتایا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ علم، علماء کے فوت ہوجانے سے ختم ہوگا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سمندروں میں مچھلیاں، سوراخوں میں چیونٹیاں اور جنگلوں میں چرند پرند علماء کے لیے دعائیں کرتے ہیں، کیونکہ کائنات کی مخلوق کو اس حقیقت کا ادراک ہے کہ ہمارا وجود علماء کے وجود سے وابستہ ہے۔

علماء کو روئے زمین پر وہ مقام حاصل ہے جو جسمِ انسانی میں دل کو حاصل ہے۔ دل زندہ ہے تو جسم زندہ ہے، اگر دل مرجائے تو جسم کو موت سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
[pullquote]اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا نَاْتِي الْاَرْضَ نَنْقُصُہَا مِنْ اَطْرَافِہَا[الرعد:۴۱][/pullquote]

’’کیا ان لوگوں کو یہ حقیقت نظر نہیں آئی کہ ہم ان کی زمین کو چاروں طرف سے گھٹاتے چلے آرہے ہیں؟‘‘

اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ، امام مجاہد اور عطاء بن ابی رباح رحمھما اللہ سے منقول ہے کہ زمین کے اطراف میں کمی سے مراد علماء اور فقہاء کی موت ہے۔
علامہ ابن سیرین رحمہ اللہ کے پاس ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا کہ خواب میں دیکھا کہ آسمان سے ایک پرندہ اُتر کے آیا اور گل یاسمین کے پودے پر بیٹھ کر یاسمین کے پھول چننے لگا، پھر اُڑ گیا۔ یہ سنتے ہی علامہ ابن سیرین رحمہ اللہ کا چہرہ متغیر ہوگیا اور فرمایا کہ اس سے مراد علماء کی موت ہے۔ اور واقعی اسی سال حضرت حسن بصری، معمر اور دوسرے بڑے علماء کا انتقال ہوا۔

اسی طرح علامہ ابن سیرین رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ اگر کوئی خواب دیکھے کہ کعبہ کی عمارت منہدم ہوگئی تو اس سے مراد علماء کی موت ہے۔

سنہ 997 ھ میں کسی نے زبید مقام پر خواب دیکھا کہ مسجد الاشاعر کا سب سے بڑا منارہ گر گیا اور قبرستان میں ایک جگہ پر غائب ہوگیا۔ چند دنوں کے بعد ابوبکر بن یوسف الحنفی رحمہ اللہ کا انتقال ہوا اور وہ وہاں پر دفن ہوئے، جہاں پر مسجد کا منارہ غائب ہوا تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ علماء کا فوت ہوجانا اُمت کا اتنا بڑا نقصان ہے جس کی تلافی ممکن نہیں۔ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ایک عالم کی وفات سے جو خلاء پیدا ہوجاتا ہے تا صبحِ قیامت اس کو پُر نہیں کیا جاسکتا۔ حضرت ابوقلابہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ روئے زمین پر علماء ایسے ہیں جیسے آسمان پر ستارے۔ بحر و بر میں رات کی تاریکی میں لوگ ستاروں کو دیکھ کر اپنی سمت کا تعین کرتے ہیں۔ اور اگر ستارے چھپ جائیں تو لوگ سیدھے راستے سے بھٹک جاتے ہیں۔

دنیا کی ہر چیز فنا کے داغ سے داغدار ہے۔ اللہ رب العزت نے اس دنیا کو پیدا کرنے سے قبل اس کو فنا کرنے کا ارادہ فرمایا تھا۔ ابھی بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے کہ اس کی موت کا وقت متعین ہوجاتا ہے۔ پیدائش سے پہلے موت کا وقت متعین ہوجانا دنیا کی بےثباتی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ دنیا سے ہر کسی نے جانا ہے، تاہم بعض جانے والے ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے جانے سے صرف چند افراد کا نہیں، بنی نوع انسانی کا نہیں، بلکہ کائنات کی تمام مخلوق کا نقصان ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی وفات پر زمین و آسمان بھی روتے ہیں، انس و جنّ تو ہوتے ہی افسردہ ہیں۔
[pullquote]تَعْلَمُ مَا الرَّزِیَّۃُ فَقْدُ مَالٍ
وَلَا شَاۃٍ تَمُوْتُ وَلَا بَعِیْرٗ
وَلٰکِنَّ الرَّزِیَّۃَ فَقْدُ حُرٍّ
یَمُوْتُ بِمَوْتِہٖ بَشَرٌ کَثِیْرٗ[/pullquote]

’’جان لو کہ مصیبت یہ نہیں کہ بندے کا مال چھن جائے یا جانور مویشی مر جائیں، بلکہ کسی ’مرد‘ کا فوت ہوجانا مصیبت ہے، جس کی موت سے پوری انسانیت پر موت طاری ہوجاتی ہے۔‘‘

گزشتہ چند ایام میں عالمِ اسلام کی متعدد علمی شخصیات نے ہم سب کو داغِ مفارقت دے کر دارالفناء سے دارالبقاء کی طرف انتقال فرمایا۔ بعض لوگوں کے فوت ہوجانے سے دو چار بچے یتیم ہوجاتے ہیں، جبکہ ان حضرات کے جانے سے لاکھوں علماء و طلبہ اپنے آپ کو یتیم محسوس کرتے ہیں۔ ان میں سے سرفہرست عظیم شخصیت، شیخ المحدثین، حضرت مولانا سلیم اللہ خان رحمہ اللہ ہیں۔ علمی دنیا میں ان کی شخصیت تعریف و تعارف کی محتاج نہیں۔ نصف صدی سے زائد عرصے تک صحیح بخاری شریف کا درس دینے اور اپنے ہزاروں تلامذہ کو علمی و روحانی فیض سے فیضیاب کرنے کے بعد اپنے لاکھوں متوسلین کو سوگوار چھوڑ کر حضرت الشیخ اپنی محنتوں کا صلہ لینے کے لیے اپنے رب کے حضور پہنچ گئے ہیں۔ حضرت کی سب سے بڑی خوبی ان کی شانِ جامعیت تھی۔ انہوں نے اپنے آپ کو دین کے کسی خاص شعبے تک محدود نہیں رکھا، بلکہ تمام شعبوں کے ساتھ تعلق کا حق ادا کردیا۔ تاہم تعلیم و تعلّم اور مدارسِ دینیہ کی سرپرستی کے حوالے سے ان کی خدمات اظہر من الشمس ہیں۔ وہ ملک پاکستان کے مدارسِ دینیہ کے سب سے بڑے تعلیمی بورڈ کی صدارت کے منصب پر فائز تھے۔ اور اپنے دورِ صدارت میں انہوں نے مدارس کی بقاء، تحفظ اور حریت کی خاطر جو خدمات سرانجام دیں، وہ مدارس کی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے۔ وہ ملک کے ہزاروں مدارس اور لاکھوں علماء کے درمیان اتحاد اور وفاق کی علامت تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ اکیلے اپنی ذات ایک پوری جماعت تھے۔
[pullquote]وَمَا کَانَ قَیْسٌ ھُلْکُہٗ ھُلْکُ وَاحِدٍ
وَلٰکِنَّہٗ بُنْیَانُ قَوْمٍ تَھَدَّمَا[/pullquote]

دوسری عظیم شخصیت، جن کی وفات پر علمی و روحانی حلقے سوگوار ہیں، حضرت مولانا عبدالحفیظ مکی رحمہ اللہ ہیں۔ مرحوم، اکابر دیوبند میں معروف علمی و روحانی شخصیت حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ کے خلیفہ مجاز تھے۔ انہوں نے پوری زندگی عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ، تحریر و تصنیف، دعوت و ارشاد، مدارس اور خانقاہوں کو قائم کرنے میں گزار دی۔ مکہ مکرمہ کی سرزمین پر تصوف و سلوک کے کام کے لیے خانقاہ قائم فرمائی تھی، تاہم ان کا فیض کسی ملک تک محدود نہیں تھا، بلکہ دنیا کونے کونے میں ان سے فیض یافتگان کی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے۔ جب ان کا پیغامِ اجل پہنچا تو بھی وہ تبلیغی دورے میں جنوبی افریقہ میں تھے۔ یوں اپنی زندگی کے آخری لمحے تک دین کی خدمت میں مگن رہ کر اپنے اکابر کے ساتھ وفا کا حق ادا کردیا ہے۔

اسی طرح دارالعلوم دیوبند کے نائب شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق اعظمی رحمہ اللہ بھی ہمیں داغِ مفارقت دے گئے۔ مرحوم کے اعزاز کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کے شاگرد تھے اور دارالعلوم دیوبند جیسے عظیم ادارے کے مسندِ حدیث پر سالہا سال تک بخاری شریف کا درس دیتے رہے۔

یہ وہ حضرات ہیں جو فراق سے نکل کر وصال کی دنیا میں پہنچ گئے۔ اور دکھوں اور غموں کی وادی سے نکل کر آرام و اعزاز کی جنت میں جا اُترے۔ موت آئی اور انہیں اعزاز کے ساتھ محبوب کے پاس چھوڑ آئی۔ وہ خوشی خوشی چلے گئے، پیچھے والے روتے تڑپتے رہ گئے۔ یہی ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے، یہی حال میں بھی ہورہا ہے اور یہی مستقبل میں بھی ہوتا رہے گا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com