ای احمد کی ناقدری! ریحان خان

بالآخر وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے 214 کھرب 70 ارب کا مجموعی بجٹ پیش کردیا۔ بجٹ اجلاس سے قبل سابق مرکزی وزیر اور سینئر رکن پارلمینٹ ای احمد کا انتقال ہوگیا۔ بجٹ اجلاس سے قبل صدر جمہوریہ کی تقریر کے دران ای احمد کو دل کا دورہ پڑا اور وہ اجلاس کے دران ہی ایوان سے دہلی کے رام منوہر لوہیا اسپتال شفٹ کردیے گئے لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے اور شب دیر گئے اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ اپوزیشن جماعتوں نے ای احمد کے سوگ میں حکومت سے بجٹ پیش نہ کرنے کی درخواست کی لیکن چونکہ پانچ ریاستوں میں انتخابات سر پر ہیں، اس لیے حکومت دلفریب وعدوں کا کوئی موقع گنوانا نہیں چاہتی تھی چنانچہ بجٹ پیش کردیا گیا۔ اسپیکر محترمہ سمترا مہاجن نے کہا کہ بجٹ پیش کرنے کی تاریخ طے ہے جو ایک آئینی ذمّہ داری ہے جسے ٹالا نہیں جاسکتا۔ ایوان حکومت کی روایت رہی ہے کہ کسی رکن پارلیمنٹ کے انتقال کے بعد شیشن ملتوی کردیا جاتا ہے۔ کل اس روایت کو توڑتے ہوئے سمترا مہاجن نے ارون جیٹلی کو بجٹ پیش کرنے کے لئے مدعو کرلیا۔ ای احمد کے لیئے سیشن ملتوی نہ کرنے پر کیرالہ کے رکن پارلیمان این پریم چندرن دو اراکین سمیٹ واک آؤٹ کرگئے۔ ترنمول کانگریس کے ارکان تو ایوان میں آئے ہی نہیں تھے۔ حکومت کی اس روش کو لالو پر ساد یادو نے غیر انسانی قرار دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو انڈین ٹرمپ قرار دے دیا۔

ای احمد کوئی جونیئر یا سابق رکن پارلیمنٹ نہیں تھے۔ وہ اسی پارلیمنٹ کے سینئر رکن تھے جس کے بجٹ اجلاس میں شعر و شاعری ہوتی رہی۔ ای احمد سات مرتبہ رکن پارلمنٹ بنے اور اور دو میعاد کے دوران انہوں نے وزیر برائے خارجہ امور اور وزارتِ ریلوے جیسی اہم ذمّہ داریاں نبھائی ہیں۔ وہ ہمیشہ سیکیولر اقدار کے حامی رہے۔ انہوں نے کانگریس سے تعلقات ضرور استور کیے لیکن کیرالہ میں میں بی جے پی کی دال نہیں گلنے دی۔ اور یہی ان کا سب سے بڑا قصور تھا کہ وہ "مودی نواز" نہیں تھے۔ یہ بات پورے یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ اگر بی جے پی کی حکومت نہیں ہوتی تو ای احمد کے انتقال کے بعد بجٹ اجلاس ملتوی کردیا جاتا۔ کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں نے اس غیر انسانی اجلاس پر بی جے پی کو غیرت دلائی لیکن بی جے پی اس غیرت سے عاری نظر آئی۔ لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن اور وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے اس بات کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی کہ ای احمد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے کم از کم ایک دن کے لئے بجٹ اجلاس ملتوی کردیا جائے۔ رکن پارلیمان ای احمد کی جگہ اگر بی جے پی کے کسی سابق اور عرصے سے صاحب فراش رکن پارلیمان کا معاملہ ہوتا تو سارا ملک دیکھتا کہ بجٹ اجلاس بھی ملتوی ہوتا۔ قومی سوگ کا اعلان بھی کیا جاتا اور قومی پرچم بھی سرنگوں ہوتے۔ لیکن یہاں معاملہ ای احمد کا تھا جس نے کیرل میں بی جے پی کے امکانات کو زندہ نہیں ہونے دیا اس لئے ان کے انتقال کو نظر انداز کرکے پانچ ریاستوں کے ہندو ووٹرس کو خوش کیا جاسکتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ منصب و ذمّہ داری کی ایک "نظیر" بھی قائم کی جاسکتی ہے کہ بی جے پی نظر میں ملک سے بڑا کوئی نہیں ہے۔ لیکن ملک کے سیکیولر باشندگان کا اخلاقی معیار اس مقام پر نہیں پہنچا ہے جہاں بی جے پی عرصے سے فائز ہے۔ ایک سینئر رکن پارلیمان کو نظر انداز کرنا غیر انسانی رویہ کے ساتھ ساتھ ایک ظلم بھی ہے۔ کیونکہ ای احمد نے طویل عرصہ تک ملک کی خدمت کی ہے اور شردھانجلی و خراج عقیدت کے مستحق تھے۔ جو انہیں نہیں دیا گیا۔