مولانا رومی سے علامہ اقبال تک - عمران ناصر

بال جبریل میں پیر و مرید کے عنوان سے لکھی گئی نظم میں علامہ اقبال کی رومی سے قلبی انسیت جھلکتی ہی نہیں بھرپوراندازمیں چھلکتی ہے۔ یہ نظم ایک تخیلاتی مکالمے پر مشتمل ہے جس کے ایک شعرمیں مرید یعنی اقبال اپنے پیر یعنی جلال الدین رومی سے عجز و انکساری سے بوجھل لہجے میں مخاطب ہوتے ہیں ”آپ خداکے چاہنے والوں کے سردار ہیں.“

رومی کو جہاں معروف اسلامی شخصیات کے ہاں خوب پذیرائی حاصل ہوئی، وہاں ان کو ہدف تنقید بھی بننا پڑا، بلکہ بعض مذہبی طبقات ان کی تعلیمات میں شرک کے عنصر کو بھی نمایاں محسوس کرتے ہیں، بالخصوص سلفی علماء ان کی متعدد تحریروں کو شرک آلود اور گمراہ کن بھی قرار دیتے ہیں۔

ادبیات عالیہ میں ”مثنوی معنوی“ کو منفرد اور خاص مقام حاصل ہے۔ یہ اسرار دین پر مشتمل علم الکلام ہے جسے مداحین رومی کے حلقہ میں مقدس اور الہامی تصور کیا جاتا ہے اور برصغیرپاک و ہند میں اقبال کے کلام کو بھی قریب قریب یہی مرتبہ و مقام حاصل ہے۔ اقبال اور رومی دونوں کی شخصیات اس حوالے سے خاصی مماثلت رکھتی ہیں۔
صحبت پیرروم سے ہوامجھ پہ ہوا یہ راز فاش
لاکھ حکیم سربجیب ایک کلیم سربکف

جاوید نامہ میں اقبال فرماتے ہیں
پیرِ رومی را رفیقِ راہ ساز
تا خدا بخشد ترا سوز وگداز
شرح او کر دند ادراکس ندید
معنیٔ اوچوں غزال از مارمید
رقصِ تن از حرفِ ا و آمو ختند
چشم راز رقص جاں بر دوختند
رقصِ تن در گردش آرد خاک را
رقصِ جاں برہم زند افلاک را
علم و حکم از رقصِ جاں آید بدست
ہم زمیں ہم آسماں آید بدست
رقصِ جاں آموختن کارے بود
غیر حق را سو ختن کارے بُود
ترجمہ: پیر رومی کو اپنا رفیق راہ بنا لے تاکہ خدا تجھ کو سوز و گداز عطا کرے۔ سب اس کی شرح کرتے ہیں اور اس کو کسی نے نہیں دیکھا، اس کے معنی غزالوں کی طرح بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس سے لوگوں نے صرف رقصِ تن ہی سیکھا اور رقصِ جان سے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ رقصِ تن خاک کوگردش میں لاتا ہے جبکہ رقصِ جاں افلاک کو برہم کر دیتا ہے. علم و حکمت رقصِ جان کا باعث بنتے ہیں اور زمین و آسمان کو ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔ اصل کام تو رقصِ جاں سیکھنا ہے اور غیرِ حق کو جلا کر خاک کر دینا اس کا کام ہے۔

اقبال کو سمجھنے کے لیے ڈاکٹر منظراعجاز کے بقول
”اقبال کی ذہنی تعمیرکے لیے تین باتوں کوسمجھنا چاہیے
1- آریائی نسلی شعوری میراث
2- خاندانی لاشعوری میراث (تصوف کے ساتھ)
3- شعوری مشرقی مغربی اکتسابات
یہ تنیوں دھارے ہم آہنگ ہو کر اقبال کی ذہنی تشکیل کرتے ہیں۔ چنانچہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے مغربی افکار و علوم سے تحریک حاصل کی تھی اور ان افکار و علوم کی جانچ پڑتال مشرقی علما، حکماء اور صوفیا اور فقرا کے افکار و تصورات کی بنیاد پر کی تھی۔ انہوں نے اس سلسلے میں نہ صرف قرآن کریم کی تعلیمات اور محمدﷺ کے ارشادات و سیرت سے خاص طور پر استفادہ کیا (جو ان کے خاندانی اسلامی لاشعور کی دین تھی) بلکہ آریائی نسلی لاشعوری میراث سے فائدہ اٹھاتے ہوئے روم و تبریز کے رموز اخذ کیے اور مشرقی و مغربی فلسفوں کے غائر مطالعہ پر اپنے افکار کی بنیاد رکھی.“

اقبالیات کا عہد بہ عہد جائزہ لیا جائے، رومی سے انسیت اور فیض کے نقوش پا اقبال کے عہد طفولیت تک جا پہنچتے ہیں۔ جب والد کی عقیدت رومی پدرانہ دروس کی صورت اقبال کو وقتاً فوقتاً منتقل ہوتی رہی اور پھر میر حسن جیسا استاد جس نے اپنی جادو اثر روحانی معلمی کے ذریعے اقبال کو رومی کی محبت بچپن سے ہی دی۔ والد اور استاد کے دروس نے مثنوی روم کو اقبال کے جمالیاتی اور روحانی مزاج کا حصہ بنا دیا کہ رومی کے افکار عالیہ اقبال کے ذاتی خیالات میں غیرشعوری طور پر شامل ہوتے گئے۔ اقبال کی زبان رومی کے پیغام رساں کا کردار ادا کرنے لگی۔ اقبال کو شعوری طور پر شاید اس کا کبھی ادارک بھی نہ ہوا ہو کہ وہ مولانا روم کی تعلیمات ہی کو اپنی فکرگردانتے رہے ہیں۔ اقبال کے والد ماجد بوعلی قلندر کی مثنوی کے سحرمیں گرفتار تھے، وہ چاہتے تھے کہ اقبال ان کے انداز بیان کواپنائیں لیکن اقبال مولانا روم کی مثنوی کے لحن و بحر (Metrical composition) سے اس درجہ متاثر تھے کہ ان کی پہلی فارسی تصنیف میں رومیت کا رنگ سرچڑھ کر بولتا نظر آتا ہے.

یہ بھی پڑھیں:   وہ ہند میں سرمایۂ ملت کا نگہبان - پروفیسر جمیل چوہدری

علامہ اقبال امت مسلمہ کو عملیت کی طرف راغب کرتے ہیں، وہ قرآن میں بھی ان آیات کی طرف خاص توجہ مبذول کرواتے ہیں جن کا تعلق تسخیرکائنات سے ہے۔ وہ قران سے ”جدت کردار“ کا تصور دیتے ہیں کہ مطالعہ و تدبر قرآن کردار میں وہ عملی وصف پیدا کرتا ہے جس سے انسان تسخیرکائنات کے چیلنج کو عملاً قبول کرتا ہے اور شاہکاران قدرت کے اسرار و رموز کی تہہ تک پہنچ کر دراصل وہ اس انسان ہی کو دریافت کرلیتا ہے جس پر اسے اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اقبال کے نزدیک علم و حکمت کا قرآن کے بعد اگر کوئی ماخذ ہو سکتا ہے تو وہ مثنوی رومی ہے۔ مثنوی کو یہ مقام اور درجہ اقبال ہی کے ہاں ملتا ہے۔ اقبال ہی متقدمین و متاخرین سے سبقت لیتے ہوئے مثنوی سے علم و حکمت کے خزائن دریافت کرنے والے وہ صاحب کردار ہیں جنھوں نے مثنوی کی ان جہتوں کو نمایاں کیا اور آج معتقدین اقبال اسی تناظر میں مثنوی کی علمی دریافتوں میں مصروف عمل ہیں۔ رومانویت پسند ذوق کی تسکین کی خاطر افکار رومی کا مطالعہ تو آج بھی زور و شور سے ہو رہا ہے لیکن جدیدیت کے تناظر میں جو اقبال کی فکر کا وصف خاص ہے، افکار رومی کا از سرنو جائزہ لینے کی داغ بیل بھی پڑی۔ اسلام کی روایتی تشریحات نے عصرحاضر کے انسان کو عملی زندگی میں مایوس کیا ہے۔ دور جدید کے چیلنجز اور مسائل کی پیچیدگیاں دیوقامت ہیں اور روایتی اور قدامت پسند مذہبی طبقہ ان کا حل پیش کرنے سے معذور نظر آتا ہے جبکہ رومی کی تعلیمات ان کے شافی حل پیش کرتی ہیں۔ وہ فکر و عمل کے ایسے نظریات پیش کرتے ہیں جن کی اساس سے جدید تعلیم اور سائنس متصادم نہیں۔ ان کی فکری کاوشیں مشاہدہ فطرت اور تزکیہ نفس کا معتدل امتزاج ہیں۔ سائنس مذہب بنا لنگڑی ہے اور مذہب سائنس بنا اندھا۔ اقبال کی رومیت پسندی میں رومی کی حقیقت پسندانہ سوچ کا عنصر بھی نمایاں ہے۔

اقبال کی فلاسفی تمام مدارج علمی و تحقیقی طے کرتے ہوئے جس اوج ثریا پر پہنچتی ہے، وہاں ایک انقلابی جدوجہد پر مشتمل ”فلسفہ حیات“ جنم لیتا ہے۔ اقبال اس فلسفہ حیات کے لیے رومی کی رہنمائی پر مفتخر نظر آتے ہیں، وہ مولانا کے شعری ورثے سے عمل کی حرارت و حرکت کشید کرتے ہیں۔
رومی آں عشق و محبت را دلیل
تشنہ کاماں را کلا مش سلسبیل
ترجمہ: رومی جو عشق و محبت کی دلیل ہیں۔ ان کا کام تشنہ کاموں کے لیے سلسبیل ہے.

یہ بھی پڑھیں:   وہ ہند میں سرمایۂ ملت کا نگہبان - پروفیسر جمیل چوہدری

رومی کا دور ایک خاص کشمکش کا دور ہے۔ مذہب کے ترجمان نہ صرف فکری زوال کا شکار ہیں بلکہ اخلاقی زوال کا بھی شکار تھے۔ ملائیت فتنہ کی شکل اخیتار کرچکی ہے اور اہل تصوف رہبانیت کی طرف گامزن ہیں۔ ترک دنیا کو اقتضائے تصوف، قرب الہی کے لیے ناگزیر خیال کرتے ہیں۔ رومی عقلیت کے پرچاری ہیں، وہ فکر و عمل کے ذریعے عروج آدم کے خواہاں ہیں۔ وہ زمین، سورج، چاند، ستاروں کے وجود کو غور و فکر کی غذا تصور کرتے ہیں اور یہ ہی خیالات اور فکراقبال کی شاعری میں منعکس ہوتی ہے۔ اقبال جابجا اپنے اشعار میں انسان کو کائنات کو تسخیر کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ان تمام حقائق سے اس مفروضہ کوتقویت ملتی ہے کہ اقبال کا فلسفہ خودی دراصل مولانا روم سے ہی مستنبط ہے۔ اقبال کا فلسفہ خودی انسان کے زوال سے دوبارہ عروج کی طرف رخ کرنے کا فکری نسخہ ہے۔

رومی کو افکار میں اقبال نے ایک بلند مقام دلوایا۔ اگر رومی نے اقبال کی فکر کو وسعت اور اثرپذیری بخشی ہے تو رومی کے افکار عالیہ کو دنیا بھرمیں متعارف کروانے کا سہرا اقبال کے سر بھی ہے۔ 12 ویں صدی عیسوی میں پیدا ہونے والے رومی نے مجازاً 18ویں صدی میں دوسراجنم اقبال کی صورت میں لیا۔ فکر رومی سعادت مند شاگرد اقبال کے وسیلے سے شہرت کے افلاک تک پہنچی۔ اقبال جیسے شارح نے دنیائے عالم کو اس کے اثرات و فیوض سے بہرہ ور کیا۔

مولانا رومی کے اشعار کہیں کہیں روایتی و مروجہ دینی اعتقادات سے تجاوز کرتے محسوس ہوتے ہیں۔ شاید اسی بنا پر ان کو سلفی علماء کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا بھی ہے۔ ایک صوفی شاعر ہونے کے ناطے ان کا مذہب حب اللہ ہے، وہ حب اللہ کو فقہی، سیاسی و دیگرمذہبی حدود و قیود سے ماوراء خیال کرتے ہیں. وہ ”چرواہے کی دعا“میں فرماتے ہیں۔
”محبت کا مذہب تمام مذاہب سے الگ ہے۔ خدا کے چاہنے والوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا سوائے خدا کے.“
بقول ڈاکٹر منظر اعجاز ”مولانا روم زاویہ وجدان کے رہبر تسلیم کیے جاتے ہیں اور اقبال بھی چونکہ وجدانی اہمیت کے قائل ہیں، اس لیے مولانا روم کو وجدانی تصور کے تحت اپنا مرشد تسلیم کرتے ہیں۔ غزالی اور مولانا روم کے عہد کے جس تناؤ نے المنقذ اور مثنوی کی تحریک کی تھی، اقبال کا عہد بھی اسی تناؤ کا شکار تھا۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ مولانا روم حلقہ تصوف میں وحدت الوجود کے قائل ہیں اور حافظ بھی لیکن اقبال کا خیال جداگانہ تھا جبکہ مولانا روم کو اپنا پیرطریقیت تسلیم کرتے ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ حافظ کی حال مستی عمل میں مانع ہوتی ہے اور مولانا کی جستجومحرک عمل بن جاتی ہے۔ مولانا کا عشق محرک جذبہ ہے.“

بانگ درا ہو یا بال جبریل، ہر تحریر اقبال سے رومی کی بصیرت و تربیت کا انعکاس ہوتا ہے۔ اقبال کے تمام علمی کام سے رومیت کا شہد ٹپکتا ہے۔ جیسے اقبال کی عقل و بصیرت بھی فکر رومی سے کشید ہوئی ہو۔ مولانا رومی فکر و عمل کو الگ نہیں رکھتے، ان کے ہاں افکار کی تفہیم و تسہیل عمل سے ہوتی ہے اور یہ ہی ادا اقبال کے لیے باعث تقلید ہےکہ وہ مولانا رومی کو اپنا رہنما و راہبر مانتے ہیں.

Comments

عمران ناصر

عمران ناصر

عمران ناصر علم و ادب سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔ سیاست، ادب، تاریخ، مطالعہ مذاہب سے شغف ہونے کے باعث اپنا نقطہ نظر منطقی اور استدلالی انداز میں پیش کی کرنے کی بھرپور اہلیت رکھتے ہیں۔ شدت پسندی اور جانبدارانہ رویوں کواقتضائے علمیت سے متصادم سمجھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں