مولانا فضل الرحمن کے خلاف بیان کیوں؟ سہیل بشیرکار

گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان کے اخبارات، رسائل اور میڈیا میں سید علی شاہ گیلانی کے مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے دیے گئے بیان کے حوالے سے مختلف ردعمل دیکھنے میں آیا۔ اخباری بیانات کے مطابق حریت کانفرنس کے سربراہ نے پاکستان کی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ مولانافضل الرحمٰن کو کشمیر کمیٹی کے عہدے سے ہٹائے۔ اس بیان پر ایک بھونچال سا آ گیا، بالخصوص مولانا کے حلقہ احباب نے سخت ناراضگی کااظہارکیا۔ بدقسمتی سے معاشرہ مسلکی اور جماعتی تعصب کا سخت شکار ہے۔کسی بھی فرد، جماعت یامسلک کے پیروکار اپنے رہنماؤں کے ہر لفظ اور عمل کو حرف آخر سمجھتے ہیں۔ ان پر کسی بھی طرح کی تنقید چاہے وہ صحیح بھی ہو، برداشت نہیں کی جاتی۔ مولانا کے احباب اور پیروکاروں کو لگتا ہے کہ گیلانی صاحب کا یہ بیان کسی کے ایماء پر دیاگیا حالانکہ جو لوگ سید علی گیلانی کو قریب سے جانتے ہیں، انھیں معلوم ہے کہ گیلانی صاحب ہر قسم کی تنگ نظری، کسی طرح کے تنظیمی حصار سے بہت پہلے نکل چکے ہیں۔ ان پر یہ راز منکشف ہو چکا ہے کہ کامیابی کی واحد صورت ہر ایک کو اپنے ساتھ لے کر چلنے میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی حریت میں اب ہر مسلک اور جماعت کی نمائندگی دیکھنے کو ملتی ہے، چاہے وہ سنی ہو یا شیعہ۔ یہی نہیں بلکہ ان کی مجلس شوریٰ میں اب غیرمسلموں کو بھی نمائندگی دی گئی ہے۔ گیلانی صاحب کی موجودہ تنقید دراصل کسی فرد واحد پر نہیں بلکہ پاکستان کی کشمیر پالیسی پر ہے۔ کشمیر کے ایک بڑے حلقے میں یہ احساس اُبھر رہاہے کہ پاکستان کی اپنی مجبوریاں ہیں، لہٰذا اس کی کشمیر پالیسی ناکام ہوچکی ہے۔ اس حلقہ کا ماننا ہے کہ کشمیریوں کواپنے فیصلے خود لینے ہوں گے، اور پاکستان سے ڈکٹیشن لینے یا اس کی طرف دیکھنے کے بجائے اپنی پالیسی خود مرتب کرنی ہوگی۔

2016ء کی حالیہ ایجی ٹیشن میں کشمیری لوگوں نے ہر ممکن قربانی دی۔ 8جولائی 2016ء سے مسلسل 4 ماہ تک ہڑتال رہی۔ اس دوران مسلسل 2 ماہ تک کرفیو رہا۔ قریب 100 افراد مارے گئے۔ 15 ہزار سے زائدافراد زخمی ہوئے۔ جس میں ایک ہزار سے زائد افراد کی آنکھیں پیلٹ سے زخمی کی گئیں۔ 100 سے زیادہ افراد اپنی بینائی سے محروم ہوگئے۔ 7 ہزار سے زائد افراد کوگرفتار کیاگیا جس میں قریب ایک ہزار کو بدنام زمانہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ہندوستان کی مختلف جیلوں میں نظربند کیا گیا ہے۔ اگرچہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو اقوام عالم کے مختلف فورمز میں اٹھایا لیکن عملاً پاکستان ہندوستان پرمسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کوئی دباؤ بنانے میں ناکام رہا۔ حل تو دور، پاکستان اقوام عالم کو ہندوستان کی بدترین انسانی حقوق کی پامالیوں پر روک لگوانے میں بھی ناکام رہا۔ کشمیر کے لوگوں میں یہ احساس اُبھر رہا ہے کہ پاکستان کو خود بہت ساری مشکلات کا سامنا ہے، لہٰذا پاکستان مسلۂ کشمیر کے لیے کوئی مؤثر رول نہیں نبھا پاتا۔

اگرچہ پاکستان نے کشمیر کمیٹی کے نام سے ایک پارلیمانی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا ہے، جس کے آج 36ممبران ہیں۔ کشمیر کمیٹی کا قیام 1993ء میں عمل میں آیا تھا، اس کمیٹی کا پہلا سربراہ نوابزادہ نصراللہ خان کو چناگیا ۔ 2008ء میں آصف علی زرداری نے مولانا فضل الرحمن کو اس کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا۔ جب 2013ء میں نوازشریف اقتدارمیں آئے تو انہوں نے بھی مولانا فضل الرحمان کی سربراہی برقرار رکھی۔ مسئلہ کشمیر چونکہ پیچیدہ مسئلہ ہے، اس کے لیے کسی ایسے شخص کی ضرورت تھی جو کشمیر کے حالات اور بھارت کی مکاری سے خوب واقف ہوتا۔ مولانا عالم دین ضرور ہیں اور پاکستانی سیاست پر بھی ان کی گہری نظر ہے، اس حوالے سے وہ زیرک بھی سمجھے جاتے ہیں لیکن جانکار حلقوں کا ماننا ہے کہ مولانافضل الرحمن کا کشمیر کمیٹی کا سربراہ بننا دراصل پاکستان کی کشمیر کے حوالے سے غیرسنجیدگی ظاہر کرتا ہے۔ مولانا پر الزام ہے کہ وہ بھارت کےلیے نرم گوشہ رکھتے ہیں اور بھارت کی تحریک آزادی کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، آزادی کشمیرکے بارے میں وہ کبھی سنجیدہ نہ تھے۔ اس بات کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے. محترمہ بےنظیر بھٹو نے مولانا کو کشمیر پر ایک خصوصی مشن کے تحت کویت روانہ کیا، اس وقت کویت میں پاکستانی سفیر کرامت علی غوری جو کہ پاکستان کی فارن سروس میں 34 سال تک اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں، اپنی کتاب’بارشناسائی‘ میں تحریر کرتے ہیں:
’’مولانافضل الرحمٰن کا تجربہ مجھے نوابزادہ صاحب کے چونکا دینے اور آنکھیں کھول دینے والے حادثے سے چندماہ بعد اس وقت ہوا جب وہ اپنی اس بلند بانگ حیثیت میں کویت کے سرکاری دورے پر تشریف لائے۔ ان کی آمد سے چند دن پہلے میرے نام وزیراعظم بےنظیربھٹو کا ایک خصوصی خفیہ تار موصول ہوا، جس میں وزیراعظم نے میری توجہ خاص طور پر مولان اکے منصب عالیہ کی طرف مبذول کرواتے ہوئے مجھے حکم دیا اور سخت تاکید کی کہ مولانا ایک اہم مشن پر کویت بھیجے جا رہے ہیں تاکہ وہ کویتی پارلیمان کے کلیدی اراکین کومسئلہ کشمیر پر پاکستان کے مؤقف سے آگاہ کرسکیں اور اس کے لیے کویتی حکومت اور دیگر خلیجی ممالک کی ہمدردی اور حمایت حاصل کریں۔ ظاہر ہے کہ وزیراعظم کے اس فرمان کے بعد میں مولانا کی کویت آمد پوری سنجیدگی سے نہ لینے کی جسارت کر ہی نہیں سکتاتھا۔ البتہ میرے لیے یہ ایک لمحہ کو تعجب کا سامان ضرور تھا کہ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین تو نوابزادہ صاحب تھے لیکن مہم سر کرنے کے لیے مولانا کے نام قرعہ نکلا تھا۔ آخر اس کا سبب کیا تھا؟‘‘

مزید لکھتے ہیں:
’’میرے دورِ سفارت میں جب مولانا فضل الرحمٰن بحیثیت چیئرمین خارجہ امورکمیٹی (پاکستان کی قومی اسمبلی میں) کویت کے مہمان بن کر آئے تو کویتی پارلیمان کی خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئرمین ہی ان کے ہم منصب اور ہم رتبہ تھے۔ ڈاکٹر جاسم الصقران ان کا نام نامی تھا۔ ستر پچھتر کے پیٹے میں تھے لیکن انتہائی مستعد اور چاق و چوبند۔ نوجوانی میں اعلیٰ تعلیم کے لیے فرانس گئے تھے اور وہیں سے قانون اور معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی سند لی تھی. کویتی پارلیمان کی خارجہ امور کمیٹی کے پانچ چھ دیگر اراکین بھی تھے جو سب کے سب اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ سب کے پاس امریکہ یا برطانیہ سے یونیورسٹی کی اسناد تھیں اور وہ سب ہی بین الاقوامی امور سے خود کو کماحقہ واقف رکھتے تھے۔ میری ان میں سے زیادہ اصحاب کے ساتھ گاڑھی چھنتی تھی۔ کویتی پارلیمان میں بھی اور ان کے دیوان میں بھی، جہاں ہر کسی کو رسائی حاصل تھی۔ مولانا فضل الرحمن کا سب نے ہی بہت تپاک سے استقبال کیا اور پھر ہم سب اس کانفرنس روم میں جا کر بیٹھ گئے جو اس قسم کی ملاقاتوں کے لیے مخصوص تھا۔ جاسم الصقر صاحب نے مولانا کو باضابطہ اور خوشگوار الفاظ میں خوش آمدید کہنے کے بعد ان سے درخواست کی کہ وہ جس مقصد کے لیے وارد ہوئے ہیں، وہ بیان کریں لیکن مولانا نے مجھ سے فرمایا کہ کشمیر پر پاکستانی مؤقف سے میں حاضرین کو آگاہ کروں۔ مجھے حیرت ہوئی کہ مولانا خود اس فریضے کی ادائیگی سے کیوں جان چھڑانا چاہ رہے ہیں، لہٰذا میں نے ضروری سمجھا کہ مولانا کو یاد دلاؤں کہ وہ پاکستان کے خصوصی ایلچی بن کر وارد ہوئے ہیں، اور وزیراعظم بےنظیربھٹو کی خصوصی ہدایات کے بموجب میں انہیں ملاقات کے لیے لے کر گیا تھا۔ مولانا کچھ قائل ہوئے کچھ نہیں، لیکن خاموشی جب بوجھل ہونے لگی تو انہوں نے رک رک کر اردو زبان میں پانچ سات منٹ تک کلمات ادا کیے جن کا میں انگریزی میں ترجمہ کرتا رہا لیکن پھر جلد ہی مجھے احساس ہوا کہ مولانا نفسِ مضمون کی طرف نہیں آ رہے ہیں اور معزز سامعین بھی ایک دوسرے کی طرف کن انکھیوں سے دیکھ رہے ہیں، لہٰذا حالات کو مزید بگڑنے دینے سے بچانے کی نیت سے میں نے لقمہ دیا کہ مولانا اگر پسند فرمائیں تو گفتگو کو میں آگے بڑھاؤں اور یوں لگا جیسے مولانا اسی لمحے کے منتظر تھے۔ انہوں نے فوراً ہامی بھرلی اور سامنے میز پر رکھے ہوئے کیک پیسٹری کی طرف رجوع ہوگئے اور پھر ایک گھنٹے تک ان کی طرف سے میں ہی بولتا رہا اور وہ اپنے پیٹ کی میزبانی کرتے رہے‘‘۔ (بارشناسائی:صفحہ ۹۹۔۱۰۲)
اس ایک واقعے سے ہی ان کی مسئلہ کشمیر سے دلچسپی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے.

جولائی 2016ء میں کشمیری انتفاضہ کے دوران مولانافضل الرحمٰن اور ان کی کشمیر کمیٹی پاکستان کے اندر بہت متنازعہ رہے۔ مولانافضل الرحمٰن کو سخت تنقید کا سامنا اس وقت کرنا پڑا جب انہوں نے کشمیر کمیٹی کا اجلاس کشمیر کی موجودہ ایجی ٹیشن شروع ہونے کے چھ دنوں بعدبلایا، اس کے بعد ان کے اس بیان پر بھی سخت تنقید ہوئی جو انہوں نے وزیراعظم پاکستان کی طرف سے بلائی گئی کل جماعتی کانفرنس میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے دیا تھا کہ پاکستان کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ کشمیر پر کوئی بیان دے جبکہ ان کے خود کے فاٹا علاقے میں حالات خراب ہیں۔

سید علی شاہ گیلانی چونکہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے وادی میں پاکستان کے وکیل سمجھے جاتے ہیں۔گیلانی صاحب کا یہ ماننا ہے کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے پاکستان کی تکمیل ابھی تک ادھوری ہے لیکن زمینی صورتحال یہ ہے کہ کشمیریوںکو پاکستان کی وجہ سے مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اگرچہ پاکستان نے علامتی طور پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کشمیر کمیٹی کا قیام عمل میں لایاہے جس کا سالانہ بجٹ 6 کروڑ ہے اور بحیثیت چیئرمین کشمیرکمیٹی مولانا فضل الرحمن کو وفاقی وزیر کے برابر مراعات اور سہولیات حاصل ہیں۔ کشمیر کے جانکار حلقوں کامانناہے کہ 2001ء کے بعد عالمی حالات میں تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ کسی بھی قسم کی عسکریت کو اب عالمی پذیرائی نہیں مل رہی ہے۔ موجودہ انتفاضہ میں پاکستانی عسکریت پسندوں کی عوامی جلسوں میں حاضری اور مختلف اوقات میں ان کے دیے گئے بیانات سے ہندوستان کو کشمیری قوم کو کچلنے کا موقع ملا ہے۔ کشمیر کے تیئں پاکستان کی پالیسی میں، جس سنجیدگی کی بات ہم کر رہے ہیں، اسے سجھنے کی کافی ضرورت ہے۔ پہلے بھی اشارہ کیا کہ کشمیر کی تحریک آزادی کی گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر کشمیری قیادت کو ہی رہنا چاہیے۔ پاکستان کا ڈرائیونگ سیٹ پر آنا تحریک آزادی کی اس گاڑی کو صحیح پٹری پہ نہیں رکھ پاتا۔ کشمیر میں پاکستان نواز طبقے کے اندر بھی یہ سوچ ابھر رہی ہے کہ کشمیری قیادت جب کسی دوسرے کے مہروں کی حیثیت سے کام کرتی ہے تو بھارت عالمی سطح پر تحریک آزادی جو کہ سراسر مقامی جدوجہد (Indiginous struggle) ہے، کو پراکسی قرار دے کر اسے کافی حد تک زک پہنچاتا ہے۔ گیلانی صاحب کے لیے مشکل یہ ہے کہ وہ پاکستان کی غیرسنجیدہ پالیسی اور غلط طریق کار کو کسی بھی طرح کا جواز بخشنے کی پوزیشن میں نہیں رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن کے حوالے سے دیے گئے حالیہ بیان کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان سے انھیں کافی امیدیں ہیں اور اس سلسلے میں وہ پاکستان سے فعال اور سنجیدہ رول کے خواہش مند ہیں، مگر ابھی تک اس حوالے سے ان سمیت پوری کشمیری قوم کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے.
٭٭٭

Comments

FB Login Required

سہیل بشیر کار

سہیل بشیر کار بارہ مولہ جموں و کشمیر سے ہیں، ایگریکلچر میں پوسٹ گریجویشن کی ہے، دور طالب علمی سے علم اور سماج کی خدمت میں دلچسپی ہے۔ پبلشنگ ہاؤس چلاتے ہیں جس سے دو درجن سے زائد کتابیں شائع ہوئی ہیں

Protected by WP Anti Spam