کھڑی نیم کے نیچے - ونود ولاسائی

جب روپلو کولھی کو انگریز پکڑ کے دار پر لٹکانے کے لیے لے گئے تو ان سے آخری بار پوچھا گیا کہ ہم تمھیں چھوڑ سکتے، زندگی بخش سکتے ہیں، صرف ہمیں یہ بتا دو کہ ٹھاکر راجپوت مُکھیہ کہاں روپوش ہے ...؟؟
روپلو تو کارونجھر پہاڑ سے بھی مضبوط تھا اور وطن پرستی اور نمک حلالی اس کے خمیر میں تھی، وہ بھلا خلاف ضمیر کیسے جا سکتا تھا. وہ کچھ نہیں بولا تو انگریز روپلو پر تشدد کرنے لگے تاکہ کچھ اُگلوا سکیں.
اتنے میں روپلو کی شریک حیات تھرپارکر کی سرسوتی رنگو بائی کی آواز آتی ہے، روپلا! اگر تم نے انہیں کچھ بتایا تو پارکر کی کولھنیاں مجھے طعنے دیں گی، آئے دن کوسیں گی کہ وہ دیکھو غدار کی بیوی. میں تیرا مرا ہوا منہ تو دیکھ سکتی ہوں، اپنے آپ کو ودوا قبول کر سکتی ہوں لیکن ایک غدار کی بیوی ہونا قبول نہیں. روپلو کے حوصلے بلند ہوئے، زبان پر پڑا تالا اور بڑا اور مضبوط ہوگیا. رسی کھینچی گئی، روپلو درخت کی شاخ میں لٹکا رہا سانس جانے تک ـ شریک حیات کا سُرخ سلام اُٹھتا ہے اور روپلو صدیوں تک امر ہو جاتا ہے.

دنیا کے بعض حصوں میں عورت کو انسان نہیں مانا جاتا تھا، وہاں تھر پارکر کی عورت گھر کی بڑی ہوا کرتی تھی، یہاں رسوم و رواج یا روایتیں اپنی جگہ لیکن کہیں کبھی بھی عورت کو سنگسار نہیں کیا گیا، زندہ نہیں دفنائی گئی. یہاں کی خواتین اکیلے باہر ریت کے ٹیلوں پر چلی جائیں، یا کھیت سے گھاس لینے، کسی وحشت کا کوئی اندیشہ نہیں ہوا کرتا تھا. دوپہر کے وقت کھانا پکا کر جب یہ حسین مخلوق چونرے سے باہر نکل کر گھر کے آنگن میں کھڑی اپنی پوتی کے پلُو کو انگلیوں میں دباکر اپنے شوہر کو ڈھاٹکی زبان میں ”او وینجھیے را باپُو آوو را روٹی پکوڑے گئی اھی“ پُکارتی تھی تو کوئل کو بھی اپنے مدھر آواز پر شک ہونے لگتا تھا، وہ صرف آواز نہیں ہوتی تھی، ایک پیار تھا، ایک تہذیب کا تسلسل تھا، ایک حسین کیفیت تھی. وہ دور تھا جو کہیں آج بھی برقرار ہے لیکن معیار بدل گیا ہے. اتنا لگاؤ تھا کہ جب کسی کام کے لیے شریکِ حیات گھر سے نکلتا تھا تو سُندری نیم کے نیچے کھڑی ہوکر لوک گیت گُنگناتی تھی ..
”کھڑی نیم کے نیچے ہوں تو ھیکلی
جاتو ڑا بٹاڑو ماناں چھنے مانے دیکھ لے“
میں نیم کے نیچے اکیلی کھڑی ہوں، اے میرے محبوب! میرے ھم سفر! اے جانے والے مسافر! مجھے غور سے دیکھ لے، تاکہ جب تو لوٹے تو مجھے اسی ہی حالت میں پائے.

نگرپارکر سے ڈاھلی نوکوٹ یا رحمکی بازار کے قدیم آثار کے قریب رہائش پذیر مخلوق، سب کی ذہنیت اور روایتیں ایک جیسی، بھولے بھالے لوگ، ہر کسی پر جلدی سے اعتبار کرنے والے، ہوگا کیا؟ نہیں پتا، جب ہوگا تب دیکھا جائے گا مگر آئے ہوئے مہمان کی بات ضرور رکھنی چاہیے، اب اتنے بھولے بن گئے ہیں کہ ان کے پیروں تلے زمیں کھسکتی جا رہی ہے، اور یہ کچھ کر نہیں پا رہے.

یہ بھی پڑھیں:   تھر کے باسی - نثاراحمد

ہاں تو بات کر رہے تھے تھر کی خواتین کی جن کے پاس فطری خوبصورتی کا ذخیرہ ہے، اوپر سے جب یہ پیروں میں جانجھر، ھاتھوں میں جھُمکے، کانوں میں بالیاں، ناک کی نتھنی، گلے کا ہار، اور ماتھے پر بندیا سجاتی ہیں تو چودھویں کا چاند بھی اپنی خوبصورتی پر پشیمان ہوتا ہے. ان کی خواہشات باقی دنیا سے کتنی منفرد ہیں، تھر کے لوک گیت سے ان کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے
”اُوچی میڑھی اُجڑی جنھن میں لونباڑی کھاٹ
دھن میں ڈھولو پوڈھیا سُگن سیارے ری رات
ہوں تھانا پُچھاں چھیل بھمریا ھیکلی جاتوڑا بٹاڑو“
اونچا میرا ماڑی نما گھر ہو جس میں جھولے کھاتی پانی کی لہروں جیسی چار پائی، سردیوں کی سرد اور تاروں سے بھری راتیں ہوں اور دل فریب سماں، بس میں ہوں اور تم ہو. جب ہم ملیں تو ہر گزرتا لمحہ تھم جائے. میں اکیلی کھڑی کہہ رہی ہوں، اے میرے ہم نفس! جاتے ہوئے مسافر! ایک بار مجھے غور سے دیکھ لیجیے.

چاہت کا عالم جب لفظوں میں قید نہ ہو سکے تو اس کے سامنے وجود کو بےپردہ کردو، سانسیں رک جائیں گی اور آنکھیں اپنے آپ کسی کے خیال میں گہری نیند سو جائیں گی، جس کا تصور بھی نہیں کر سکتے. یہ چاہت بھی ایسی ہی تھی، کوئی دنیاوی آسائشوں کی خواہش رکھنے بجائے اپنے وجود کو کھول دیا جس میں وہ خود سما گئی.

نیم کے نیچے کھڑی ہو کر وہ فطرت کے مزے بھی لے رہی ہے اور اپنے محبوب کے سامنے حسین منظر بھی پیش کر رہی ہے
”جھر مر جھر مر میھولا برسیں پون ھلولا کھاوے
مور پپھیا میٹھا بولیں کوئل شور مچاوے
ھوں تھانا پچھاں چھیل بھمریا ھیکلی.“
جھر مر کرتی ساون کی ٹپٹپاتی بوندیں برس رہی ہوں، ہوا کے جھونکے جھولے جھول رہے ہوں، مور اپنی مدھر آواز سے ماحول سازگار کر رہا ہو، پپھیا پنچھی بارش کی امید لیے میٹھے بول بول رہا ہو اور کوئل کی ایسی آواز ہو کہ سُر اور سنگیت ساتھ جھومیں اور گائیں، میں اکیلی، تم سے کہتی ہوں اے میرے ہم نفس! اے جانے والے مسافر! مجھے ایک جھلک دیکھ لے.

تصورات انسان کو آگے بڑھنے کی طاقت دیتے ہیں، خواہشات روح کو سیر کراتی ہیں اور خواہش کی انگلی پکڑے، حاصل کے لیے چلتے چلتے جب منزلِ مقصود کے قریب پہنچے تب زمین بھی تنگ پڑ جائے اور سر چھُپانے کے لیے بنی ہوئی چھت سرکنے لگے، جلدی سے بےگھر ہو جائیں تو بغاوت اُٹھنے میں دیر نہیں لگتی، یہ خواتین بڑی نازک دل ہوتی ہیں، انھیں پیار دو تو جان وار دیتی ہیں اور اگر ان کے ساتھ کُچھ برا کیا جائے تو یہ قہر برپا کر سکتی ہیں، بڑے بڑوں کی گردن جھکا سکتی ہیں. یہ کتنی پیاری ہوتی ہیں، جب چھوٹی سی گڑیا ہوتی ہیں تو بھائی سے جھگڑتے تھک جاتی ہیں اور ماں کو آ کر بتاتی ہیں کہ بھائی نے یہ کیا بھائی نے وہ کیا، جب یہ گھر سے رُخصت ہو جاتی ہیں تو اپنے شریک سے کسی بات کی ان بن پر ساس کو کہتی ہیں. یہ تھر میں روایت موجود ہے آج بھی. ساس اور بہو کے بیچ میں جہاں اکثر جھگڑے ہوتے ہیں وہاں مذاق بھی ہوتا ہے، یہاں تھر کے لوک گیت میں خاتون اپنے شوہر کو کس چیز سے مشابہت دیتی ہے.
”اوٹے پڑیو فیگنیوں رڑیو رڑیو جاوے
ساسو جی تھارو چھیل بھمریو ماں ساں ڈریو جاوے
ہوں تھاناں پچھاں چھیل بھمریا ھیکلی
کھڑی نیم کے نیچے ہوں تو ھیکلی
جاتوڑا بٹاڑو ماں ناں چھانے مانے دیکھ لے“
میری ساس گھر کے آنگن پڑے ہوئے اونٹ کی لید جیسے وہ دھیرے دھیرے گڑگڑاتے نیچے جاتا ہے، اُسی ہی طرح تیرا سپوت تیرا جگر مجھ سے ڈر کر جا رہا ہے، میں اکیلی نیم کے نیچے کھڑی ہوکر کہہ رہی ہوں اے میرے جانے والے مسافر! مجھے ایک بار غور سے دیکھ لے.

یہ بھی پڑھیں:   تھر کے باسی - نثاراحمد

یہ کیا؟ یہ لاڈ بھی کرتی ہے اور اپنے شریک حیات کو ایک اونٹ کی لید سے مشابہ بنا دیتی ہے، اور کہیں اسے اپنا پرمیشور، داتا بنا دیتی ہے، ایسی ہیں یہاں تھر کی خواتین.

خون اُبلتا ہے جب ان خواتین کے بارے میں اوباش زبان استعمال ہوتی ہے، وہ بھی ایوانِ مقدس میں، اور قہقہے بھی لگتے ہیں، لیکن ان کے اندر چھُپے درد کو بھلا کون پہچانے.

اب یہ ترقی کے نام پر تھر کا سینا روندا جا رہا ہے. زمینیں کھود کر حسین و جمیل ریت کے ٹیلے مسمار کیے، اور درخت گرائے جا رہے ہیں، جن کے پیچھے چھپ کر کھیل کھیلتے اس بھولی مخلوق کا سارا جیون بیتا ہے، وہ اونچے ریت کے ٹیلے جن پر بیٹھ کر یہاں کے باشندوں نے ہمرچو سنا ہوگا، روایتی پرولیاں دی ہوں گی، مسکیں جہان خان کوسو اور روپلو کولھی جیسے عظیم کرداروں پر روشنی ڈالی گئی ہوگی، اور وہاں بیٹھ کر مائی بھاگی کی آواز میں یہ بھی سُنا ہوگا ...
کھڑی نیم کے نیچے ہوں تو ھیکلی
جاتوڑا بٹاڑو ماں نا چھانے مانے دیکھ لے......
اب ایسا سماں ہونے والا ہے کہ یہاں مخلوق کے سر پر اپنے گھر کا سایہ نہیں ہوگا، نیم کا درخت تو دور کی بات ہے ـ اب یہاں کی خواتین کھُلے میدان میں کھڑی ہوکر کہیں گی،
"کھڑی وچ پوٹھہ میں ہوں تو ھیکلی
جاتو ڑا بٹاڑو مارے اجڑے گھروں نوں
تمیں چھانے مانیں دیکھ لو

یہ روپلو کا تھر ہے جو کبھی نہیں جھُکا، کارونجھر کے پہاڑ کی طرح گردن ٹکا کر کھڑا رہا، اپنے آپ کو دار پر لٹکا دیا مگر ہار نہ مانی.

تصور کرو کہ سب تھر کے باشندے روپلو بن جائیں اور تھر کی خواتین سب رنگو بائی بن جائیں تو کوئی ایگرو، کوئی کمپنیاں کچھ نہیں کر سکتیں. یہ تھر، تھریوں کی تہذیب ہے، یہ گر مِٹ گئی یا مٹا دی گئی تو شاید کچھ بھی نہیں بچے گا، کچھ بھی نہیں.

Comments

ونود ولاسائی

ونود ولاسائی

ونود ولاسائی نوکوٹ تھرپارکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ سندھ یونیورسٹی جامشورو میں ایم فل سماجیات کے طالِب علم ، اور سماجی و ہیومن رائٹ کارکن ہیں۔ اسٹوری رائٹر کے طور پر شناخت بنانا چاہتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.