مولوی صاحب کی بیٹیاں - نوفل ربانی

5 ذی الحج کو بڑی بیٹی نے کہا کہ بابا عید میں پانچ دن رہ گئے ہیں، ہم نے کچھ بھی خریداری نہیں کی.
مولوی صاحب نے کہا، اچھا میرا پتر، ابھی بہت دن ہیں، خرید لیں گے، چاند رات سے ایک دن قبل سب کچھ لے لیں گے.
مولوی صاحب یہ بات کر رہے تھے کہ آذان سنائی دی. مولوی صاحب جو آنکھیں بیٹی کو جھوٹی تسلی دینے پر شرمندگی سے جھکائے ہوئے تھے، ان کو موقع مل گیا اور مسجد کی طرف چل دیے.

عید سے ایک دن قبل جب مولوی صاحب ہر طرف سے ناامید ہوگئے کہ مانگنے سے عزت نفس جاتی ہے اور قرض لینا نہیں کہ واپسی کی کوئی صورت ممکن نہیں تھی، اور خود سے کسی کو توفیق نہیں ہوئی کیونکہ مولوی صاحب کے بچوں کے کون سے دل ہوتے ہیں جو مچلتے ہوں، ان کے کون سے احساسات ہوتے ہیں، وہ کون سا فیلنگ رکھتے ہیں، انہوں نے کون سا باہر نکلنا ہے.

تو مولوی صاحب جو تاویلوں کے بےتاج بادشاہ تھے، دلیل جن کے گھر کی لونڈی تھی، سمجھانے میں جو ماہر تھے، جب کوئی انتظام نہ ہوا تو سوچا آج جتنی منطق اور استقراء قیاس پڑھا ہے، سب کو بروئے کار لاکر بیٹی کو قائل کروں گا کہ بیٹا بڑی عید پر کوئی کپڑے نہیں پہنتا، یہ تو قربانی کی عید ہے، لیکن دھڑکا تھا کہ بیٹی بھی تو مولوی کی ہے، یہ کہہ دیا کہ قربانی بھی تو آپ نہیں کر رہے، تو کیا جواب دوں گا.

خیر سارا علم مستحضر کرکے گھر گیا تو بیٹیاں ہاتھوں میں پرچیاں لے کر منتظر تھیں کہ باباجان نے آج کا وعدہ کیا ہے تو ہمیں مطلوبہ چیزیں لا دیں گے.
مولوی صاحب کھنگورا مارتے گھر میں داخل ہوئے تو مولون سمجھ چکی تھی کہ بیٹوں کے دل ٹوٹنے والے ہیں، وہ جلدی سے گئی اور پیاز لے آئی کہ پیاز کاٹنے کے بہانے آنسو بہا لے گی. ماں تو ماں ہوتی ہے، اس کے آنسو اولاد کے لیے پلکوں کی منڈیر پر ہی بسیرا کرتے ہیں، لیکن وہ بیٹیوں کے سامنے شوہر کو اور باپ بیٹیوں کو ٹوٹتا نہ دیکھ سکتی تھی.

مولوی صاحب بیٹھے تو چھوٹی آنے لگی کہ پرچی تھماؤں، مولوی صاحب نظریں جھکائے جرابیں اتارنے لگے اور ٹوپی لپیٹ کے رکھی جو اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ اس کے بعد باہر نہیں جانا کہ اچانک چھوٹی کو بڑی بیٹی بازو سے پکڑتی ہے، اسے اشارے سے روکتی ہے، اور اس کے ہاتھ سے پرچی لے کر اپنی پرچی میں رکھ کر چپکے سے چٹائی کے نیچے چھپا لیتی ہے. یہ سب مولوی صاحب کن اکھیوں سے دیکھ رہے تھے لیکن نہ دیکھنے کی کمال فنکاری کر رہے تھے. مولون کے آنسو پیاز کے بہانے سیل رواں بنے ہوئے تھے. مولوی صاحب کا سارا علم زیرو ہوگیا تھا، اسے لگا جیسے وہ سب سے زیادہ جاہل اجڈ اور گنوار ہے.

اس سے پہلے کہ مولوی صاحب کچھ کہتے تو بیٹی بولی، بابا جان! کل ہم نے نئے کپڑے نہیں لینے کیونکہ بڑی عید تو قربانی کی عید ہے اور کل آپ نے چاچو کے دو بیڑے ( بچھڑے ) بھی تو کرنے ہیں اور ہم نے وہاں آپ کو بیڑے کرتے دیکھنا ہے تو سارا دن تو قربانی میں لگ جائیں گے، ہم کپڑے کس وقت پہنیں گے؟ چھوٹی عید کے پڑے ہوئے ہیں، وہی پہن لیں گے، وہ سارے دلائل جیسے کاپی پیسٹ کیے ہوں، اس وقت دنیا کی سب سے زیادہ عالم فاضل اور سمجھدار بیٹی ہی لگی.
بیٹی کی بات سن کر مولوی صاحب نے نظر اٹھائی، بیٹی کے چہرے کو دیکھا، کچھ دیر کو گردن فخر سے تن گئی، اپنی پگ کا شملہ اونچا بہت اونچا محسوس ہوا، لیکن اگلے لمحے ہی بچیوں کی معصومانہ خواہشات کا یوں خود کشی کرنا اس کو توڑ گیا، اسے اپنا آپ ناکام انسان اور ناکام باپ جیسا محسوس ہوا، جو عید پر بھی ضرورت کی خواہش پوری نہ کرسکا. مولوی صاحب سے یہ برداشت نہ ہوا، جلدی سے کمرے میں گئے اور سونے کا کہہ کر بستر میں گھس گئے، ہونٹ سی لیے، منہ کو بھینچا اور آنکھوں سے کہا کہ تم آزاد ہو، برس لو ورنہ غم کے اندر کے سونامی سے مر ہی جاؤ گی.

صبح اٹھ کر مولوی صاحب نماز کے لیے چلے گئے، واپس آئے تو چھوٹی بیٹی نے دس بیس پچاس کے چند نوٹ پکڑے ہوئے تھے، بولی، بابا! یہ پیسے ہیں، آپ ایسے کریں کہ بھائی کو کپڑے لے دیں، اس نے کل آپ کے ساتھ مسجد جانا ہے، اور وہ چھوٹا ہے، گلی میں کھیلےگا تو سب کیا کہیں گے. یہ ایک اور دھماکہ تھا. لیکن بہن کا بھائی کے لیے پیار کیا ہوتا ہے، سب سمجھا گیا. مولوی صاحب نے بیٹی سے پیسے لیے اور اس میں مبلغ سو روپیہ اور ملا کر بچی کو واپس کردیے اور مولون کو قہوے کا کہہ کر وہیں ایک طرف بیٹھ گئے. کچھ دیر سوچتے رہے کہ کل کی رات کیسے سامنا ہوگا بچیوں کا؟ ایک اور کرب کا پہاڑ سر پر امڈنے والا تھا.

چاند رات آگئی، ہر گھر میں مہندی لگنے لگی، کپڑے استری ہونے لگے، جھمکا جیولری کو آخری ٹچ دیا جانے لگا، جو کچھ رہ گیا، بھائیوں کی شامت آگئی کہ ابھی جاؤ اور لے کر آؤ، ایسے میں مولوی صاحب کیسے گھر میں جاسکیں گے؟ خیر مسجد کی چھت پر مولوی صاحب اپنا غبار اتار چکے تھے، اللہ کے سامنے گڑگڑا کر استقامت اور ثابت قدمی مانگ چکے تھے. آسمان کے تاروں نے کچھ دیر کو شاید چمکنا چھوڑ دیا ہو، رات کا اندھیرا بھی مولوی صاحب کی غربت کے اندھیرے سے شرما گیا ہوگا.

ایسے میں من جب ہلکا ہوتا ہے، یہ آنسو بہت وزنی ہوتے ہیں، اتنے کہ ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ اللہ فرشتوں سے کہتے ہیں کہ مؤمن کی آنکھ سے نکلا ہوا آنسو میں خود لکھوں گا کیونکہ وہ اتنا وزنی ہوتا ہے کہ فرشتے اسے لکھنے سے قاصر ہوتے ہیں. اللہ خود اس کو لکھتے ہیں. واقعی ایسے آنسو بہت وزنی ہوتے ہیں، جب یہ پلکوں کے بند توڑ کر اور برداشت کی رکاوٹ ہٹا کر گالوں پر لڑھکتے ڈاڑھی کو تر کرتے جھولی میں گرتے ہیں تو من ہلکا ہوجاتا ہے، انسان روئی کے گالوں کی طرح ہوا میں اڑنے لگتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ ہمالیہ کا پہاڑ سر سے اترچکا ہو.

مولوی صاحب گھر گئے، دوازے کی آہٹ پاکر مولون آگے بڑھی کہ استقبال کرے لیکن ابھی مولوی صاحب کے امتحان باقی تھے. بڑی بیٹی نے ماں سے آگے بڑھ کر مولوی صاحب کے کندھے سے رومال اتارا، انھیں ہاتھ سے پکڑا اور چٹائی پر بٹھا کر خود چارپائی پر بیٹھ گئی. سر سے ٹوپی اتاری اور سردبانے لگی. بڑی بیٹی کا یہ مخصوص سٹائل تھا جب اس نے کوئی فرمائش کرنی ہوتی، کچھ منگوانا ہوتا تو وہ ایسا ہی کرتی. جب آج چاند رات اس نے ایسا کیا تو مولوی صاحب بچی کی طرف مڑے اور رندھی ہوئی آواز میں کہنے لگے
بیٹا، میرا پتر!
چند لمحے خاموشی چھائی رہی، مولوی صاحب اپنی فصاحت و بلاغت کو جمع کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ معانی و بدیع نے کان پکڑ لیے کہ نہ بابا، بیٹی اور باپ کے درمیان ہمارا کوئی کام نہیں، استعارات، تشبیہات اور تلمیحات کے دروازے پر دستک دی تو وہ دیکھتے ہی ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہوگئے کہ مولوی جی سانوں معاف رکھو.
مولوی صاحب ایک بار پھر اپنی خالی جیب کی طرح ہر قسم کے ادب سے بھی خالی ہوگئے. ایسے میں سادگی، برجستگی اور سچائی نے ساتھ دیا، ان کا سہارا لے کر مولوی صاحب بولے،
چندا! میں آپ کا اچھا باباجان نہیں ثابت ہوسکا، تمھارا باپ تمھیں کچھ بھی نہیں لاکر دے سکتا. میری لخت جگر! ہو سکے تو اس دفعہ کی عید اپنی زندگی سے ڈلیٹ کردو.
ابھی یہ جملے مولوی صاحب کے منہ میں ہی تھے کہ مولون کی چیخ نکلی اور وہ بھاگ کر اندر کمرے میں چلی گئی.
بیٹی بولی، بابا جان! آپ کو پتہ ہے، آپ ساری دنیا سے زیادہ اچھے ہیں؟
مولوی صاحب بولے، نہیں میرے بچے،
بیٹی پھر بولی، باباجان! اللہ کی قسم کھا کر کہتی ہوں، آپ سب سے زیادہ اچھے بابا ہیں، نہیں یقین تو یہ چھوٹی سے پوچھ لیں، چھوٹی نے بھی سر سے سرکتی میلی چنی کو درست کرتے ہوئے بڑی بہن کی پرزور تائید کرتے ہوئے بانہیں بابا جان کے گلے میں ڈال کر جھولتے ہوئے کہا،
ہاں آپی! میرے بابا دنیا کے سب سے زیادہ اچھے اور پیارے بابا ہیں.
مولوی صاحب بلکل مبہوت کاٹو تو لہو نہیں، ایک دم متحیر کہ یہ کیا کہہ رہی ہیں، ایسے موقع پر تو رجے پیٹ والی بیٹیاں لاڈ میں باپ کو کہتی ہیں کہ جائیں، میں آپ سے بات نہیں کرتی، آپ مجھے جیولری لاکر نہیں دے رہے، ایک اتنی سی چیز بھی تو نہیں لا کر دیتے، لیکن یہاں تو معاملہ الٹ تھا، چلو بڑی تو سمجھدار تھی لیکن یہ چھوٹی نے تو بالکل خلاف توقع یہ سب کہہ دیا.
مولوی صاحب کا تجسس بڑھا اور چھوٹی کو اپنے سے الگ کرتے ہوئے دائیں جانب بٹھایا اور بڑی کے سر پر ہاتھ رکھ کر مسکراتے ہوئے پوچھا،
اے میرے جگر کے ٹکڑے! یہ تو بتا کہ تیرے بابا کیسے دنیا کے سب سے اچھے بابا ہیں؟
(جاری ہے)
دوسری قسط یہاں ملاحظہ کیجیے