جبل نور، جہاں قرآن کے 90 لاکھ نسخے موجود ہیں - ببرک کارمل جمالی

دنیا کے خوبصورت ترین مقامات میں ایک مقام جبل نور بھی ہے، اور یہ دنیا کا ایک بڑا عجوبہ بھی ہے. کوئٹہ میں مغربی بائی پاس کے پہاڑی سلسلے میں واقع جبل نور میں شہید قرآنی نسخوں کو محفوظ کیا جاتا ہے، اس پہاڑی کے سینہ کو چاک کرنے کے بعد اس عظیم کام کا آغاز 1992ء میں ہوا، اب تک بغیر کسی مشینری کے یہاں 70 سے زائد سرنگیں بنائی گئی ہیں۔ 200 فٹ سے زائد لمبی ان سرنگوں میں ایک اندازے کے مطابق 90 لاکھ سے زائد قرآنی نسخے موجود ہیں، جنھیں ملک بھر سےلایا گیا ہے. ہاتھ سے لکھے گئے قدیم قرآنی نسخے بھی موجود ہیں جو یہاں آنے والوں کی آنکھوں کو ٹھنڈک بخشتے ہیں۔

جبل نور کوئٹہ کے خوبصورت ترین مقامات میں سے ایک ہے. اس مقام کو دیکھنے کے لیے دور و نزدیک اور اندرون و بیرون ملک سے لوگ آتے ہیں. ہم نے بھی ایک دن کوئٹہ کا سفر شروع کیا، پیالا نما شہر، خوبصورت سڑکیں، بڑے بڑے درخت اور بلوچستان یونیورسٹی دیکھنے کے بعد جبل نور پہنچے. سرنگوں کے قریب گئے تو ایسے الفاظ اور دعائیں پڑھنے کو ملیں، مختلف لوگوں کے درد تھے، کچھ حیرت انگیز بھی، کہ انھیںپڑھنے کے بعد میں خود بھی شرمندہ ہو رہا تھا. آپ خود دیکھیے،
یا اللہ میری پھوپھی کی شادی کرا دے۔
یا اللہ میری چاچی کو اس کے شوہر سے ملا دے۔
یا اللہ مجھے امتحان میں پاس کروا دے۔
یا اللہ دنیا کی سب خوشیاں مجھے دے۔
یا اللہ میرے درد دل کو کم کر دے۔
یا اللہ میری ساس کو مار دے تاکہ میں اپنے میاں کے ساتھ سکون کی زندگی گزار سکوں۔
یا اللہ میری بہو کو ہدایت دے، وہ اپنے میاں کا خیال کرے۔
یا اللہ مجھے دنیا کا امیر آدمی بنا دے۔
یا اللہ مجھے آفیسر بنا دے۔
یا اللہ میری محبت مجھے لوٹا دے۔

یہ بھی پڑھیں:   بلوچستان کے نوجوان اب بھی لائبریری کے لیے کوشاں ہیں - گہرام اسلم بلوچ

اس طرح کی اور بہت سی دعائیں تھی جنھیں پڑھنے کا موقع ملا، اتنے میں کچھ ایرانی سیاح آ گئے، گائیڈ بھی ان کے ساتھ تھے، گائیڈ کی وجہ سے ہمیں بھی ٹھیک سے گھومنے اور جاننے کا اچھا موقع ملا۔ اس پہاڑی سلسلے میں قرآنی نسخوں کو محفوظ کرنے کے لیے ایک جگہ مختص کی گئی، مگر وہ کم پڑ گئی، تو روایتی اوزاروں سے کھدائی کا کام شروع کر دیا گیا، اور اب یہ ایک معمول بن گیا ہے۔ سرنگ کی کھدائی کرتا محمد ظاہر جبل نور میں ابتک 25 سرنگیں بنا چکا تھا اور اس کام کو اپنے لیے سعادت تصور کرتا ہے۔ ان سرنگوں میں 300 سے 400 قبل کے قدیم نسخے بھی موجود ہیں، جبکہ عبادت کے لیے حجرے بھی بنائے گئے ہیں جہاں آپ دنیا کی تگ و دو سے دور عبادت کرسکتے ہیں۔ منتوں مرادوں کے لیے بھی آنے والوں کی کمی نہیں۔

کچھ آگے بڑھے تھے کہ سوال ہوا کہ جبل نور کیسے اور کیوں بنایا گیا؟
تو گائیڈ نے قصہ کچھ اس طرح سنایا:
1992ء میں حاجی اللہ نور اور ان کے دوستوں کے تعاون سے اس علاقے میں کھدائی کی گئی، اسی مناسبت سے نام جبل نور پڑ گیا، ان غاروں میں تین سو پچاس سال پرانے قیمتی اور نایاب قرآنی نسخے موجود ہیں۔ رمضان المبارک میں لوگ ان غاروں کو دیکھنے آتے ہیں اور یہاں عبادت کرنے کو خدا سے قرب کا بہترین ذریعہ سمجھتے ہیں۔ جبل نور کی طرف ہزاروں زائرین کی آمد کا سلسلہ اُس وقت سے زیادہ تیز ہوا جب اس علاقے کے دو مقامی بھائیوں نے اس جگہ کو مسلمانوں کی مقدس کتاب ’قرآن کے ایک مزار یا روضہ‘ کی شکل دینے کا فیصلہ کیا۔ یہ کوہستانی علاقہ سرنگوں کی بھول بھلیوں اور دشوار گزار راستوں سے بھرپور ہے، اور آہستہ آہستہ ان میں قرآن کے نسخوں سے بھرے بکسوں کے رکھنے کی جگہ ختم ہوتی جا رہی ہے، علاقے کے منتظمین اس کے لیے مزید جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور نئی سرنگیں کھودنے کا کام شروع کر دیا گیا ہے، اور یہ اپنی مدد آپ کے تحت کیا جا رہا ہے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ اگر اس کام کو حکومتی توجہ حاصل ہو جائے تو قرآن کریم کو محفوظ بنانے کے اس کام کو زیادہ احسن طریقے سے کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بلوچستان کی سیاسی ماحول کی بحالی، ہم سب کی ذمہداری - گہرام اسلم بلوچ

یہ معلوماتی سفر جاری تھا کہ اچانک ایک ایرانی سیاح کے فون کی گھنٹی بجی تو انھوں نے واپسی کا راستہ لیا جبکہ ہم نے اوپر پہاڑی سلسلے کا رخ کیا، جہاں شہر کوئٹہ پیالہ جیسا دکھائی دینے لگا. نیچے کھڑی گاڑیاں اور دوسری چیزیں بہت چھوٹی دکھائی دے رہی تھی، لوگ تو پرندوں جیسے لگ رہے تھے۔ دو گھنٹے وہاں گزارنے کے بعد نیچے آئے، اور ہوٹل پر ایک کپ چائے پی کر واپسی کا راستہ اختیار کیا.