بدلے بدلے مرے سرکار نظر آتے ہیں! ریحان خان

صدر جمہوریہ ہند عزت مآب پرنب مکھر جی نے بجٹ اجلاس سے قبل پارلیمنٹ میں دونوں ایوانوں سے تقریباً ایک گھنٹہ تک خطاب کیا۔ جس میں بہت سی وہ باتیں تھیں جو صدر یوم جمہوریہ کے موقع پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے پرنب مکھر جی نے پیش کی تھی۔ لیکن اس مرتبہ کچھ موضوعات پر صدر کے سر بدلے بدلے سے محسوس ہوئے۔ صدر جمہوریہ نے 'سب کا ساتھ سب کا وکاس' پر زور دیتے ہوئے دلتوں، غریبوں اور محروم طبقات کی فلاح و بہبود کے لئے مرکزی حکومت کی پالیسیوں کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے اس کی ستائش کی ہے۔ صدر نے دلتوں کی فلاح و بہبود کے لئے اس حکومت کی ستائش کی جس کے اقتدار میں دلتوں کی ظلم و جبر کی انتہا کردی گئی۔ جو حکومت روہت ویمولا کی بے سہارا ماں کو اب تک انصاف نہیں دے سکی وہ بھلا کس طرح دلتوں کی خیرخواہ ہوسکتی ہے؟ وہ غریبوں کے لئے مرکزی حکومت کی پالیسیاں ہی تھیں جس کے تحت سیکڑوں افراد نوٹ بندی کی جنگ میں زندگی کی جنگ ہار گئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ غریبوں دلتوں اور کسانوں کے لئے حکومت کی پالیسیاں بہت دلکش ہیں لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ ان پالیسیوں کے نفاذ میں حکومت کہاں تک کامیاب رہی ہے۔ قرطاسِ ابیض پر حکومت کی یہ پالیسیاں اتر پردیش الیکشن کے پیش نظر انتخابی وعدوں کا پلندہ بھی تو ہوسکتی ہے جس کے بارے میں حکمراں جماعت کے صدر امت شاہ یہ کہتے ہیں کہ یہ وعدے وفا کرنے کے لئے نہیں کئے جاتے۔ صدر نے اپنی تقریر میں دہشت گردی اور نکسل واد سے لڑنے کے لئے حکومت کے منصوبوں کی ستائش بھی کی۔ اگر صدر کی مکمل تقریر کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ جہاں جہاں مرکزی حکومت کا ذکر آیا ہے وہاں وہاں حکومت کے منصبوں اور اسکیموں کو ذکر بھی لازماً آیا ہے۔ اس طرح سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ تقریباً دو برس مکمل کر چکی حکومت کے پاس کارکرگی پیش کرنے لیے زمینی حقائق نہیں ہیں بلکہ بات ابھی تک منصوبوں اور اسکیموں پر ہی اٹکی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ’پاکستان نے مگ 21 کے آلات جام کر دیے تھے‘

صدر جمہوریہ کی تقریر کا سب سے حیرت انگیز حصّہ وہ تھا جس میں انہوں نے مرکزی ِحکومت کے نوٹ بندی کے فیصلے کی ستائش کی تھی۔ صدر نے کہا کہ نوٹ بندی سے کرپشن، جعلی کرنسی اور دہشت گردی کو ہورہی فنڈنگ پر لگام کسنے میں کامیابی ملی ہے۔ جس نوٹ بندی پر میڈیا کے سوالات سے بچنے کے لئے ریزرو بینک کے گورنر باقاعدہ فرار ہوتے نظر آتے ہیں صدر جمہوریہ اسے ملک کے لئے بہترین قرار دے رہے ہیں۔ جعلی کرنسی پر گرفت کے بیان کی حقیقت اس سے ظاہر ہوتی ہے کہ روزآنہ ملک کے کسی نا کسی حصّے میں دو ہزار روپئے کے جعلی نوٹ پکڑے جارہے ہیں اور حکومت سمجھتی ہے کہ وہ جعلی نوٹوں پر قدغنیں لگانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ نوٹ بندی کے بعد ہوئی اموات پر صدر جمہوریہ نے تشویش ظاہر کی تھی لیکن بجٹ اجلاس کے آغاز کے موقع پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپنے خطاب کے دوران نوٹ بندی کی حمایت سمجھ سے بالاتر ہے۔ ایک اور قابلِ ذکر بات پرنب مکھرجی نے یہ کہی کہ پارلیمانی اور اسمبلی الیکشن علاحدہ علاحدہ ہونے سے ملک کے وقت اور سرمائے کا ضیاع ہوتا ہے اس لیئے دونوں انتخابات ایک ساتھ کرائے جانے چاہیئں۔ یہ بات انہوں نے یومِ جمہوریہ کے موقع پر اپنے خطاب میں بھی کہی تھی جو بلا شک و شبہ مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن کی توجہ کی طالب ہے۔ یہ مطالبہ صدر جمہوریہ سے قبل وزیرِ اعظم نریندر مودی اور الیکشن کمیشن کی جانب سے بھی کیا جا چکا ہے جس کی جانب توجہ دینا ازحد ضروری ہے۔ اگر ایسا ممکن ہوسکا تو ملک کی ترقی لازماً رفتار پکڑے گی۔ ماہرین معاشیات کے مطابق نوٹ بندی کے سبب ملک کی ترقی کی نمو تشویش ناک حد تک گر گئی ہے جسے دوبارہ حاصل کرنے کے لئے سالوں نہیں عشروں درکار ہیں۔ اس صورتحال میں جب پورے معاشی سال میں ملک کی کسی نا کسی ریاست میں الیکشن کا ماحول بنا ہوتا ہے،انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہوتا ہے جس کی وجہ سے ترقی کی رفتار میں مزید کمی واقع ہوتی ہے۔ پارلیمانی اور اسمبلی الیکشن ایک ساتھ ہونے پر پورے ملک میں پانچ سالوں میں صرف ایک مرتبہ ہی انتخابی ماحول گرم ہوگا۔ پارلیمانی اور اسمبلی الیکشن ایک ساتھ کرانا مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں ہے۔