اچھا امریکہ اور ٹرمپ کا امریکہ - ذیشان وڑائچ

ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارتی انتخابات میں جیتنے اور پھر صدر بننے کے بعد حسب وعدہ حکم نامے جاری کرنے سے امریکہ میں پائی جانے والی اندرونی کشمکش جوکہ شاید بہت پہلے سے دبی ہوئی تھی، ابھر کر سامنے آ رہی ہے۔ یہاں پر ہمیں واضح طور پر امریکہ کے دو امیج نظر آرہے ہیں۔ ایک امیج ”اچھے امریکہ“ کا ہے اور ایک امیج ”برے امریکہ“ یا ”ٹرمپ کے امریکہ“ کا ہے۔ امریکہ کی وسیع تر آبادی ٹرمپ والے امریکہ کی شدید مخالف ہےاور یہ اختلاف اس وقت کھل کرسامنے آرہا ہے۔ H1B ویزا کے معاملے میں سختی، میکسیکو اور امریکہ کے درمیان دیوار اور سات مسلم ممالک کے پناہ گزینوں اور شہریوں کی امریکہ میں داخلے پر پابندی پر ڈونلڈ ٹرمپ کی شدید مخالفت کی جا رہی ہے۔ اس پر امریکی سیاستدانوں، دانشوروں اور ملٹائی نیشنلز کے نمائندوں کے سخت بیانات جاری ہیں۔ لیکن ڈونلڈ اپنی بات پر اڑے ہوئے ہیں۔

صورت حال کو سمجھنے کے لیے آئیے ذرا وضاحت سے سمجھیں کہ ان دو امریکاؤں میں کیا فرق ہے۔

اچھا امریکہ:
بےانتہا پیسہ خرچ کر کے تمام ممالک میں سی آئی اے کے ایجنٹوں کا جال پھیلایا جائے۔ دنیا کے کسی بھی ملک کی کوئی سیاسی تحریک یا رجحان امریکہ کے قومی مفادات کے خلاف ہو تو کسی بھی اخلاقی اصول کا لحاظ نہ کرتے ہوئے اس ملک کو ایسے کسی بھی سیاسی رجحان یا پالیسی سے روک دیا جائے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس ملک میں جو سیاسی رجحان پروان چڑھ رہا ہو، وہ اخلاقی اعتبار سے کتنا ہی اچھا ہو۔

اگر کسی ملک کی حکومت نے کوئی معاشی پالیسی اپنائی جس سے اس ریاست کی معیشت بہتر ہو، لیکن پیسے اور وسائل کا بہاؤ اس ملک کی طرف ہوجائے اور جس سے امریکہ کے معاشی مفادات میں کوئی فرق پڑے تو بھی اس ملک کو ایسی کسی پالیسی سے روک دیا جائے۔ اس میں بھی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اپنے ملکی عوام کے مفاد میں معاشی پالیسی بنانا نہ صرف حکومت کا اخلاقی اور قانونی حق ہوتا ہے بلکہ ان کی اصل ذمہ داری اور فریضہ بھی یہی ہے۔

امریکہ میں مقامی اعتبار سے انصاف اور قانون کے مطابق حکومت کی جائے، امریکہ کو ترقی، امن، آزادی، رواداری اور خوشحالی کا گہوارہ بنا کر دنیا کے لیے ایک مثال بنایا جائے، لیکن امریکہ کی یہ اچھائی صرف امریکہ کے لیے ہو۔ امریکہ میں اتنی خیر باقی رکھنے کی جو سیاسی اور معاشی قیمت ہے، اس کو طاقت، سیاسی دباؤ اور نیوکلیائی و کیمیائی ہتھیاروں کا خوف دلا کر دوسرے کمزور ممالک سے وصول کیا جائے۔

اگر کوئی ملک امریکہ کی نافرمانی کا مرتکب ہو تو اس پر پابندیاں لاگو کر کے اس کو معاشی اور سیاسی اعتبار سے الگ تھلگ کیا جائے تاکہ وہ مجبور ہو کر امریکہ کے سیاسی اور معاشی مفادات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لے۔ اور اگر کوئی حکومت زیادہ اکڑ دکھائےتواس ملک میں پائے جانے والے سی ائی اے کےایجنٹوں، دیسی لبرلز اور امریکی کے نظریاتی حلیفوں کو استعمال کر کے اس ملک کے اندر بےچینی اور انتشار پیدا کیا جائے جس کے نتیجہ میں حکومت کا ہی تختہ الٹ دیا جائے۔ اور اگر اس سے بھی کام نہ چلے تو کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر اس ملک پر حملہ کر کے اس ملک کا امن اور استحکام کو تباہ کردیا جائے۔ اگر کسی ملک پر حملہ کر کے اس کی معاشرت اور معاشی نظام تباہ کرنے لیے کچھ دوسرے دوست ممالک کی ضرورت پڑے تو جھوٹے الزامات کے ساتھ جھوٹے ثبوت بھی فراہم کیے جائیں اور ان جھوٹے ثبوتوں کو انجمن اقوام متحدہ میں پیش کرنے سے بھی گریز نہ کیا جائے۔ بلکہ بعد میں جا کر وہ ثبوت جھوٹے ثابت ہوں، تب بھی بڑی بے شرمی کے ساتھ اپنے اس حملے کے جواز میں بہانے گھڑے جائیں، چاہے اس حملے کی وجہ سے لاکھوں لوگ مرجائیں، کروڑوں کی معاشی حالت تباہ ہوجائے اور علاقے کے علاقے سیاسی اتھل پتھل کا شکار ہوجائیں، اور کروڑوں انسان خود اپنے علاقے میں امن و سکون سے محروم ہوجائیں۔

اگر کسی علاقے میں مقامی مزاحمت کی وجہ سے اپنا اختیار قائم کرنے میں دقت ہو تو مزاحمت کرنے والے کسی ایک ہلکے گروہ کو سپانسر کرکے دوسرے گروہ سے لڑوا کر یہ ثابت کیا جائے کہ یہ مقامی مزاحمت کار فسادی ہیں اور امریکہ تو صرف امن قائم کرنے کے لیے وہاں پر آیا تھا۔

ان تباہ شدہ علاقوں میں سے کچھ ہزار یا کچھ لاکھ لوگوں کو اپنے یہاں پر پناہ دی جائے، ان کو امریکی معاشرے میں سمو کر انہیں اپنی اقدار سے متاثر کر کے اپنے جیسا بنا دیا جائے۔ اس طرح اتنی شدید قسم کے انسانی جرائم کر نے باوجود اپنے بارے میں انسان دوست اور اچھے امریکہ ہونے کا تاثر پیدا کیا جاتا رہے۔

جہاں پر بھی اپنا اختیار قائم کرنا ہو، وہاں پر جمہوریت، آزادی اور انسانی حقوق کا رونا رویا جائے۔ اگر کسی جگہ پر جمہوری حکومت کا قائم ہونا امریکہ کے معاشی مفاد میں نہ ہو تو فوجی ڈکٹیٹروں کی حمایت میں بہانے تراشے جائیں، اور نیم دلانہ طور پر جمہوری حکومتوں کے حق میں ایک آدھ جملہ بول کر اپنا پورا سیاسی ، معاشی اور فوجی وزن ڈکٹیٹروں کے پلڑے میں ڈالا جائے۔ اور جب ڈکٹیٹر سے امریکہ کی امیدیں بر نہ آئیں تو پھر مقامی دیسی لبرلز اور سیکولرز کو متحرک کر کے ڈکٹیٹروں کو کمزور کیا جائے اور اگر ممکن ہو تو ڈکٹیٹر کا تختہ الٹ دیا جائے۔

دنیا کی مظلوم ترین قوم یہودیوں کو ستر سال پہلے ہٹلر نے قتل عام کر کے انسانی تاریخ کا گھناؤنا ترین جرم کیا تھا۔ ان کے ملک اسرائیل کی ہر طرح سے مدد کی جائے، اگر وہ خود ہٹلر کی طرح ہی کسی کا قتل عام کریں تو اپنی امداد میں کوئی کمی نہ کی جائے، ان کے خلاف اقوام متحدہ میں ایک آدھ کو چھوڑ کر ہر قرارداد کو ویٹو کردیا جائے۔ لیکن اپنی انسان دوست شبیہ کو برقرار رکھنے کے لیے فلسطینیوں اور دیگر عرب ممالک کو باتوں میں لگایا جاتا رہے تاکہ اسرائیل جو کچھ کر رہا ہے اس کا زیادہ اثر نہ ہو۔ اس طرح باتوں میں لگا کر اسرائیل کے تمام عزائم کو پورا بھی کراتے رہیں اور عربوں کو صرف باتوں میں انگیج (Engage) رکھیں تاکہ کبھی یہ احساس نہ ہو کہ امریکہ عربوں سے الگ تھلگ ہے۔ تجارتی فوائد کے لیے عربوں کو کبھی یہ احساس نہ ہونے دیا جائے کہ امریکہ ان کا ”مخالف“ ہے۔

اپنے سائنسی ریسرچ، آئی ٹی انڈسٹری کی ترقی اور دیگر تجارتی فوائد کے لیے اپنے دروازے دنیا کے تمام ممالک کے ذہین ترین اور ٹیلنٹڈ افراد کے لیے کھلے رکھے جائیں۔ لیکن ان افراد کو غیر محسوس طریقے سے ”امریکی“ اور امریکہ کا وفادار بنانے کے لیے ایک دھیما طریقہ اختیار کیا جائے کہ وہ دھیرے دھیرے سے امریکی بنتے چلے جائیں اور انہیں احساس بھی نہ ہو کہ ان سے ان کی تاریخی شناخت، وفاداری اور معاشرت چھینی جارہی ہے، بلکہ وہ اس نادر موقع پر امریکہ کے انتہائی شکرگزار اور قدردان ہوجائیں۔ یہاں تک کہ ان کی اگلی نسل امریکہ کے رنگ میں کچھ اس طرح رنگ جائے کہ وہ اپنے ماں باپ کے ملک اور تہذیب کو انتہائی گھٹیا سمجھنے لگیں۔

وسطی اور جنوبی امریکی ممالک سے آنے والے سستے مزدوروں کو تھوڑی سی مشقت کے ساتھ سرحد پار کر کے امریکہ آنے دیا جائے تاکہ امریکی کمپنیوں کو زیادہ منافع ہو اور پڑوسی ممالک کے ساتھ مثبت تعلقات باقی رکھے جائیں۔ اس کے نتیجے امریکہ کے غریب گورے مزدوروں کو نوکری ملنے میں یا زیادہ کمائی کرنے میں اگر تھوڑی بہت مشقت ہو تو اس کو قابل قبول سمجھ کر برداشت کیا جائے۔

اگر بڑی کمپنیاں competition کے پیش نظر اپنے منافع کو باقی رکھتے ہوئے اور اپنی مصنوعات کو سستا رکھنے کے لیے اپنی کارخانے چین یا دوسرے سستے ممالک میں رکھیں جہاں پر سستے مزدور ملتے ہوں تو اسے قابل قبول سمجھا جائے۔ اس سے امریکہ میں کمانے والوں کو سستے میں اچھی اشیاء مل جاتی ہیں، اگرچہ امریکہ کے غیر ہنرمند یا کم تعلیم یافتہ شہریوں کو روزگار ملنے میں دشواری پیش آتی ہو۔

قومی مفاد اور ریاستی برتری کے تحت کیے ہوئے اقدامات اور مہلک ہتھیاروں سے ہزاروں انسانوں کے قتل عام سے اگر امریکی شہری اختلاف کرتے ہیں تو انہیں کھل اختلاف کرنے کا موقع دیا جائے، بلکہ امریکی حکومت کے بارے میں بری سے بری بات کہنے کی اجازت دی جائے اور میڈیا میں اس کو نشر کرنے پر بھی کوئی پابندی نہ ڈالی جائے۔ اگر لاکھوں کے حساب سے امریکی عوام خود امریکی حکومت کے فیصلوں اور پالیسی کے خلاف ”پر امن احتجاج“ کریں تو انہیں کھل کر احتجاج کرنے کی نہ صرف اجازت دی جائے بلکہ جی بھر کر عالمی ابلاغی ذرائع سے اس کی تشہیر کی جائے۔ لیکن حکومت اپنی پالیسی اور فیصلوں میں کوئی فرق نہ لائے۔ اس سے ایک طرف تو امریکہ اپنا ظلم و ستم اور استحصال جاری بھی رکھ سکتا ہے اور دوسرے طرف امریکہ کی اس حیثیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ امریکہ انسانیت، آزادی، مساوات اور امن و آشتی کا روشن مینار ہے۔

تو دوستو یہ رہا وہ اچھا امریکہ جس کو الٹ پلٹ کرنے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کسی قہر کی طرح امریکہ پر نازل ہوا ہے۔اور اس پر ”اچھے امریکی“ شدید طیش میں آکر ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔

اب دیکھیں ڈونالڈ ٹرمپ کیا چاہتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکہ:
اب تک ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کے حامیوں کی طرف سے ”اچھے امریکہ“ سے جو اختلاف ظاہر ہوا ہے وہ یہ ہے کہ
وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ اب تک کی امریکی حکومتوں نے خواہ مخواہ اپنے امیج کی خاطر اپنے مفادات کو بہت قربان کیا ہوا ہے۔ کرنا وہی ہے جو ”اچھا امریکہ“ اب تک کرتا آ رہا تھا لیکن اپنے امیج کے چکر میں اپنے عملی اقدامات میں تاخیر، رکاوٹ یا التوا قابل قبول نہیں ہوگا۔ اب جو کچھ کرنا ہے وہ کھل کر کرنا ہے، اعلان کر کے کرنا ہے، اور بلاجھجھک کرنا ہے۔ بہت ہوگئی منافقت۔

اپنے یا دوسری طاقتوں کے ذریعے تباہ حال شدہ ممالک کے لوگوں کو بطور رفیوجی سمونا بےکار ہے۔ یہ لوگ چاہیں کتنے ہی امریکی سوسائٹی میں سموجائیں، پوری طرح مقامی نہیں ہو پاتے۔ اور کچھ بعید نہیں کہ ان میں سے کوئی اپنی یادداشت کی وجہ سے امریکہ کا احسان ماننے کے بجائے امریکیوں سے بدلہ ہی لے ڈالے۔

نیا خون اور نیا ٹیلنٹ درآمد کرنے کے بجائے اب پورا فوکس مقامی آبادی کی فلاح بہبود پر لگایا جانا چاہیے۔ ویسے بھی امریکہ میں گورے امریکی بے روزگار پڑے ہوئے ہیں، ان کے لیے روزگار کا بندوبست زیادہ اہم ہے۔ اب تک جو کوئی آ کر امریکی شہریت لے چکا ہے، وہ بہت ہے۔

گورے امریکیوں کو روزگار فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ملٹائی نیشنلز کو مجبور کیا جائے کہ وہ امریکہ میں ہی اپنی صنعتیں لگائیں۔ اگر اس سے مصنوعات مہنگی ہوکر کمانے والے امریکیوں کو دقت ہو تو یہ چیز قابل قبول ہے۔

اگر ہر معاملے میں اسرائیل کی اندھی حمایت کرنا ہی ہے تو خواہ مخواہ غیرجانبداری کا ناٹک کوئی سودمند نہیں ہے۔ غیرجانبداری کا ڈرامہ ایک خواہ مخواہ کا تکلف ہے۔ اب مزید آگے جاکر پتہ چلے گا کہ ٹرمپ صاحب عربوں کو ”انگیج“ بھی رکھنا چاہتے ہیں یا نہیں۔

میکسیکو کے مزدور فسادی یاجوج و ماجوج کو روکنے کے لیے ایک سد ٹرمپ بنائی جائے تاکہ امریکہ کی کمپنیوں کو غیر قانونی طور پر سستے مزدور ملنے بند ہوجائیں اور کمپنیاں مجبور ہوجائیں کہ امریکہ کی وہ عوام جنہوں نے ناراض ہوکر ڈونالڈ ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا، انہیں روزگار کے مواقع فراہم ہوں۔

اگر امریکی عوام حکومت کی پالیسی کی مخالفت کریں تو اس کو صحت مند اختلاف سمجھ کر قبول کرنے کے بجائے ان کو منہ توڑ جواب دیا جائے۔ اور اگر کوئی جواب دینے کے لیے کوئی فوری موقع نہ ملے تو فورا ٹوئٹر (Twitter) کو استعمال کیا جائے تاکہ کوئی حساب باقی نہ رہے۔

میڈیا کی جھوٹ موٹ کی آزادی کا ڈھنڈورا پیٹنے کے بجائے بے ڈھڑک میڈیا کو جھوٹا کہا جائے اور ان کا پول کھولا جائے۔

بس اتنا سا فرق ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کو منافقت اور ملمع سازی نہیں آتی۔ اور اتنی سی بات پر اتنی ہنگامہ آرائی؟

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */