نرمی، زندگی کا حسن - ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

ایک حدیث میں ہے کہ ام المؤمین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ایک مرتبہ ایک اونٹ پر سوار ہوئیں، وہ بدکنے لگا، حضرت عائشہ اسے جھڑکنے اور سخت سست کہنے لگیں. اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: عائشہ! نرمی اختیار کرو، نرمی جس چیز میں ہوتی ہے اس میں حسن پیدا کر دیتی ہے، اور جس چیز سے نرمی نکل جائے وہ بدنما ہوجاتی ہے. (مسلم: 2593، ابوداؤد: 4808)

اس حدیث میں سماجی زندگی کی ایک اہم حقیقت کی طرف رہنمائی کی گئی ہے. نرمی اور سختی دونوں چیزیں اپنی اپنی جگہ ضروری اور اہم ہیں. بسا اوقات کوئی شخص نرمی کا مظاہرہ کرے تو دوسرے لوگ اس کو کمزوری اور بزدلی سمجھ لیتے ہیں. کبھی کسی معاملے کو سدھارنے کے لیے سختی کرنا لازمی ہوجاتا ہے. اس حدیث میں اس کا انکار نہیں کیا گیا ہے. اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی حیات طیبہ میں ہمیں سختی کے بھی نمونے ملتے ہیں.

اس حدیث میں مزاج اور عادت کی بات کہی گئی ہے کہ آدمی کی پہچان سختی سے نہیں، بلکہ نرمی سے ہونی چاہیے. اسے اپنی فطرت کا خاصّہ نرمی کو بنانا چاہیے، نہ کہ سختی کو. متعدد احادیث میں اس پر زور دیا گیا ہے. ایک حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جو شخص نرمی سے محروم ہو اس میں کوئی خیر نہیں. (مسلم :2592) ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم اپنے اصحاب کے ساتھ کہیں جا رہے تھے، ایک شخص کی اونٹنی اڑ گئی تو وہ اسے ڈانٹ ڈپٹ اور لعنت ملامت کرنے لگا، اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ہمارے ساتھ وہ اونٹنی نہیں رہ سکتی جس پر لعنت ہو. (مسلم :2596)

ہم مسلم سماج کا جائزہ لیں تو بہت سے لوگ اس قیمتی وصف سے محروم دکھائی دیتے ہیں. غصہ ان کی ناک پر رکھا ہوتا ہے. بات بات پر ڈانٹ ڈپٹ، لعن طعن، گالی گلوج ان کی عادت بن جاتی ہے. جانوروں کو پالنے والے بغیر کسی وجہ کے ان پر ڈنڈے برساتے ہیں. دکانوں، کارخانوں، ہوٹلوں، کمپنیوں کے مالکان وہاں کام کرنے والوں، خاص طور پر بچوں سے گالی دے کر ہی بات کرتے ہیں، اور اگر ان سے کوئی غلطی ہوجائے تو ان مالکوں کا غصہ آسمان سے باتیں کرنے لگتا ہے. یہ حدیث بتاتی ہے کہ انھیں نرمی کو اپنا شیوہ بنانا چاہیے.

زندگی کا حسن سختی، درشتی، تلخ کلامی اور غیظ و غضب کا اظہار کرنے سے نہیں، بلکہ نرمی، خوش خلقی، مسکراہٹ، خوش طبعی اور اظہار محبت سے ہے. اللہ تعالی ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے _آمین، یا رب العالمین!

Comments

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

محمد رضی الاسلام ندوی نے ندوۃ العلماء لکھنؤ سے فراغت کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے BUMS اورMD کیا. ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی ہند کے رفیق رہے. سہ ماہی تحقیقات اسلامی کے معاون مدیر اور جماعت اسلامی ہند کی تصنیفی اکیڈمی کے سکریٹری ہیں. قرآنیات اور سماجیات ان کی دل چسپی کے خاص موضوعات ہیں. عرب مصنفین کی متعدد اہم کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.