کیا عمران خان ناکام کرکٹر تھے - محسن حدید

ید بیضا بہت اچھا لکھتے ہیں، معاشرتی مسائل پر ان کی گرفت بھی بہت اچھی ہے، ان کے پاس خیالات کا ایک وسیع ذخیرہ ہے، سب سے بڑی بات کہ ان کا انداز بیان بہت دلکش اور سادہ ہے، لیکن ایک دو دن پہلے موصوف نے کرکٹ پر لکھنے کی ٹھانی، اب پتا نہیں کسی نے انہیں اکسا دیا یا خود ان کا دل مچل اٹھا، بہرحال جو بھی ہوا، انہوں نے عمران خان کو ایک اوسط درجے کا کھلاڑی قرار دے ڈالا. اس کے لیے جس طرح انہوں نے شماریات کا سہارا لیا، وہ اپنے آپ میں ایک دلچسپ چیز ہے، ان کے اعداد و شمار کے حساب کتاب نے یہ بات بہت حد تک واضح کر دی کہ کھیل کو شوق سے دیکھنا اور بات ہے جبکہ کھیل کی سمجھ بالکل ہی اور چیز ہے. بد قسمتی سے مضمون تعصب کا ایک شاہکار ہے، انہوں نے جو مناسب سمجھا لکھ دیا، میرے خیال میں کچھ باتوں کا تذکرہ ہو جانا چاہیے جن سے پتہ چل سکے کہ عمران خان ایک اوسط درجے کا نہیں بلکہ بہت ہی خاص کھلاڑی تھے.

سب سے پہلی غلطی یا لاعلمی کا مظاہرہ انہوں نے ایک آل راؤنڈر کا موازنہ بلے بازوں اور باؤلرز سے علیحدہ علیحدہ کر کے کیا. یہ جوڑ کسی صورت مناسب تھا ہی نہیں. عمران خان ایک آل راؤنڈر تھے، اور انھیں اسی بنیاد پر تولا جائےگا. کھیل میں 80 کے عشرے میں بگ فور کا شہرہ تھا، یہ بگ فور سر آئن بوتھم، سر رچرڈز ہیڈلی، کپل دیو اور عمران خان پر مشتمل تھے. کھیل پر دوبارہ (یا پہلے) کبھی ایسا وقت نہیں آیا جب چار مکمل آل راؤنڈر لمبے عرصے تک اکٹھے کھیلے ہوں. یہ چاروں اتنے باکمال تھے کہ صرف اپنی بیٹنگ یا باؤلنگ کی بنیاد پر بھی کسی ٹیم کے لیے سلیکٹ ہو سکتے تھے. ان چاروں میں سے بھی عمران خان امتیازی حیثیت رکھتے تھے. 1980ء سے 1988ء کے درمیان (جب ان چاروں کے عروج تھا) اگر ان چاروں کے سٹیٹس کا موازنہ کیا جائے تو عمران بیٹنگ اور باؤلنگ میں سرفہرست تھے. اس دوران انہوں نے 48 ٹیسٹ کھیلے جن میں 2028 رنز 39.76 کی ایوریج سے بنائے، اس دوران ان کے کسی معاصر کی بیٹنگ ایوریج 34 سے زیادہ نہیں تھی، جبکہ اس عرصے میں انہوں نے 236 وکٹیں بھی حاصل کیں، ان کی ایوریج 17 کی رہی، جبکہ ان کے نزدیک ترین معاصر رچرڈز ہیڈلی کی ایوریج اس عرصے میں 19 کی رہی. باقیوں کی کارکردگی اس سے بھی نیچے تھی.

یہ بھی پڑھیں:   حضرت عیسی کا تاریخ میں ذکر - کاشف حفیظ صدیقی

آل ٹائم بھی اگر دیکھا جائے تو سر گیری سوبرز ایک مکمل بلے باز تھے، باؤلنگ مناسب تھی، لیکن ان کی پہلی شناخت بہرحال بلے باز کی ہے، (بیٹنگ ایوریج 57)، انہوں نے 93 میچز میں 235 وکٹیں حاصل کیں جو فی میچ تقریبا 2.5 بنتی ہیں (عمران فی میچ 4.1 وکٹ) جبکہ ان کی ایوریج 34 سے بھی اوپر کی تھی جو کہ کافی زیادہ ہے، بہرحال وہ ایک شاندار بیٹنگ آل راؤنڈر تھے، لیکن وہ کبھی بھی افریقہ سے نہیں کھیل سکے، پاکستان، انڈیا اور نیوزی لینڈ اس وقت چھوٹی ٹیمیں تھیں، سو اس کوالیفیکیشن میں انہیں رکھنا شاید مناسب نہیں. ان کے بعد سب سے بہترین بیٹنگ ایوریج 38 عمران خان کی ہے جبکہ باؤلنگ میں اعشاریاتی پوائنٹ سے رچرڈز ہیڈلی (22.29 ) سے عمران (22) آگے ہیں. کیلس اس فہرست میں یوں جگہ نہیں بنا سکتے کہ انہیں ایک بیٹسمین جو اچھی باؤلنگ کرلیتا ہو، تو کہا جاسکتا ہے، ٹیسٹ آل راؤنڈر وہ ہرگز نہیں تھے، 166 ٹیسٹ میں انہوں نے 292 وکٹیں ( فی میچ 1.7 وکٹ)حاصل کی ہیں، یہ ایک عظیم آل راؤنڈر ہونے کی راہ میں اہم رکاوٹ ہے. یاد رہے کہ آخری 4-5 سالوں میں عمران نے باؤلنگ بہت کم کی ہے، 1 جنوری 1987ء سے لے کر 6 جنوری 1992ء اپنے کیرئیر کے اختتام تک جب وہ بطور بلے باز کھیلے تو ان کی بیٹنگ ایوریج 59.7 کی تھی، جو کہ اس وقت کے سب بیٹسمینوں (اس عرصے میں کم از کم 1500 رنز بنانے والے جن میں گراہم گوچ میانداد اور مارک ٹیلر جیسے نام شامل ہیں) کو شامل کرکے صرف مارٹن کرو 60.7 کے بعد واضح فرق سے سب سے زیادہ تھی.

پاکستان نے آسٹریلیا میں اپنا پہلا ٹیسٹ میچ جنوری 1977ء میں جیتا تھا، اس میچ کے ہیرو تھے عمران خان، جنھوں نے 12 وکٹیں حاصل کی تھیں. آج بھی یہ کسی پاکستانی کی آسٹریلیا کی سرزمین پر سب سے بہترین باؤلنگ پرفارمنس ہے. پاکستان آسٹریلوی سرزمین پر اب تک صرف 4 ٹیسٹ میچز جیت سکا ہے (تین کا حصہ عمران رہے جن میں ان کی پرفارمنس مثالی تھی). 1981ء میں جب پاکستان کو آسٹریلیا کے خلاف تیسری فتح نصیب ہوئی، اس کے ہیرو بھی عمران خان تھے، وہ اس سیریز کے مین آف دی سیریز بھی تھے. 1983ء میں عمران کو کپتانی ملی تو پہلی ہی سیریز میں انڈیا کو 3-0 سے شکست دی. اس سیریز میں عمران نے پاکستان کی مردہ پچز پر ایسی فاسٹ باؤلنگ کا مظاہرہ کیا کہ دنیا دنگ رہ گئی. 40 وکٹیں عمران کے حصے میں آئیں جو کہ کسی ایک سیریز کا آج بھی پاکستانی ریکارڈ ہے. عمران نے نئے گیند سے سوئنگ اور سیم باؤلنگ کا جو مظاہرہ کیا اس کی مثال ملنا بہت مشکل ہے. 1986ء میں پاکستان نے انڈیا کو انڈیا میں پہلی مرتبہ سیریز ہرائی تو اس کے کپتان اور مین آف دی سیریز بھی عمران خان تھے. یہ پااکستان کی انڈیا میں واحد سیریز فتح ہے.

یہ بھی پڑھیں:   نیا 100 دن، پرانا 9 دن - فیاض راجہ

1987ء میں آخر وہ شاندار لمحہ آن پہنچا تھا جب پاکستان نے انگلینڈ کو انگلینڈ میں پہلی بار ٹیسٹ سیریز میں شکست دی. یہ عزت بھی عمران خان کے حصے میں آئی، اس سیریز میں ایک ہی میچ جو پاکستان نے جیتا، اس کے مین آف دی میچ بھی عمران خان تھے، مین آف دی سیریز بھی عمران خان تھے، سیریز کے ٹاپ وکٹ ٹیکر بھی عمران خان تھے.

مضمون طویل ہوگیا، میرے خیال سے یہ چند اعداد و شمار ہی عمران کی عظمت کے لیے کافی ہیں. ویسے تو کئی کتابیں بھی ان کی عظمت اور پاکستان بلکہ کرکٹ کے کھیل کے لیے ان کی خدمات کا احاطہ کرنے کے لیے ناکافی ہیں. اگر ضرورت پڑی تو مزید کئی باتیں بھی بیان کی جاسکتی ہیں لیکن میرے خیال سے بات سمجھانے کے لیے اتنا ہی کافی ہے. نیوٹرل ایمپائرز پر جس طرح انھوں نے دنیا کو مجبور کر دیا، کھیل پر ان کا یہ اکیلا احسان ہی سب پر بھاری ہے. یہ کھیل میں ان کی اوقات بھی بتاتا ہے کہ ایک ایسا ملک جس کے کرکٹ بورڈ کو بھی کوئی لفٹ نہیں کرواتا، وہاں کپتان نے انفرادی کوشش سے آئی سی سی کو اپنی بات پر قائل کیا.

Comments

محسن حدید

محسن حدید

محسن حدید میڈیکل پروفیشنل ہیں، لاہور میں میڈیکل لیب چلاتے ہیں۔ کھیلوں سے انتہا درجے کی دلچسپی ہے۔ روزنامہ دنیا اور دلیل کے لیے کھیل پر مستقل لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.