دنیا نیوز میں میری ایک کولیگ تھیں - ساجد ناموس

حفصہ فیاض

میری ایک کولیگ تھیں حفصہ فیاض، رپورٹنگ سیکشن میں، گرمی سردی، موسم کیسا بھی ہو فیلڈ میں جانے سے کبھی انکار نہیں کیا اور نہ ہی کبھی خاتون ہونے کا ”ایج“ مانگا، جو اسائنمنٹ ملی یا پیکیج لگا، وہ کر گزرتیں، لیکن ابتدائی دنوں میں شاید ٹی وی کا اتنا تجربہ نہیں تھا تو پیکیج اسکرپٹ کے معاملے پر رہ جاتیں، جس کی وجہ سے انہیں کافی کچھ سننے کو ملتا۔

دن گزر رہے تھے اور وہ اپنی جگہ بنا چکی تھیں، لیکن تھیں تو جونیئر رپورٹر، اس لیے ہر بیٹ کی اسائنمنٹ ان کے ذمے لگ جاتی لیکن پیشانی پر بل لائے بغیر انھوں نے کام کیا، غرض تھی تو صرف کام سے اور وہ کرتیں، دفتر آئیں، ڈے پلان دیکھا اور اپنی اسائنمنٹ کی تیاری شروع کر دی، معمولات میں ایسا کچھ نہ تھا کہ نوٹس میں آتا، پھر ایک سال کے بعد ان کے رویے میں حیرت انگیز تبدیلی آئی، سب کے سامنے برملا کہا کہ میں نے اب ”رپورٹنگ“ نہیں کرنی، اب میں اینکر بنوں گی۔ آخر اسی وجہ سے وہ چھوڑ کر چلی گئیں.

ایک دن دفتر میں بیٹھے کسی نے ہماری اس سابقہ کولیگ کا تذکرہ کیا تو جیسا کہ ہمارا ”قومی مزاج“ ہے، جانے کے بعد سب ہی تعریف کرتے ہیں (اس وقت جبکہ ان کی جگہ پر کم تر صلاحیت والے سامنے آئے) تو بیٹھے افراد نے تعریفوں کے پل باندھ دیے کہ بہت محنتی تھیں، بہت ذہین تھیں وغیرہ وغیرہ، اسی نشست میں ایک صاحب نے انکشاف کیا کہ وہ رفاہی کام بہت کرتی تھیں اور آفس کے کم تنخواہ یافتہ عملے کی مدد بارہا انھوں نے کی ہے، ان کی تنخواہ بھی مختلف نادار لوگوں کو جاتی تھی. مجھ سمیت کافی سارے دوستوں کو حیرانی ہوئی کہ ہمیں تو یہ لگتا تھا کہ وہ خود ضرورت مند تھیں، اور اسی لیے اتنی محنت کرتی، اور اس وقت کے باسز کی ڈانٹ ڈپٹ سنتی رہیں. مجھے لگا کہ بتانے والوں نے مبالغہ آرائی سے کام لیا ہے، اب جبکہ وہ جا چکی تھیں تو ایسی مزید کئی خوبیاں سامنے آئیں تو بہت حیرانی ہوئی، پھر جب حقیقت حال سامنے آئی تو اس بات کی تصدیق ہوئی کہ وہ واقعتا پسے ہوئے طبقے کی بھرپور مدد کرتی تھیں، صرف آفس میں ہی نہیں بلکہ شہر کے مختلف سرکاری اسپتالوں میں نادار مریضوں کے علاج معالجہ کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے خود ڈاکٹرز اور ایم ایس سے ملتیں، بغیر جان پہچان اور بغیر کسی لالچ کے۔

خیر بات ختم ہوگئی، پھر پتہ چلا کہ جیسے ہی انھوں نے چینل چھوڑا تو اسے دوسرے چینل سے ڈبل تنخواہ پر رپورٹنگ کی آفر ہوئی لیکن کیونکہ وہ طے کر چکی تھیں کہ میں نے رپورٹنگ نہیں کرنی، بس اینکر ہی بننا ہے، اس لیے انکار کر دیا. اور اب معلوم ہوا ہے کہ چھ ماہ کے قلیل عرصے میں مسلسل محنت کے بعد وہ باقاعدہ اینکر بن کر سامنے آ رہی ہیں، دنیا گروپ کے ”لاہور نیوز ایچ ڈی“ میں آج ان کا پہلا پروگرام آن ائیر ہوگا، لاہور نیوز میں بطور روڈ شو ہوسٹ کرتی اب نظر آئیں گی، حفصہ فیاض۔

اب تک حیرانی ہے کہ نوکری پیشہ بندہ تو اپنے معاملے میں ناک سےآگے کچھ نہیں دیکھ پاتا، لیکن اس لڑکی نے اپنے عزم اور ارادے کے ساتھ ہمت اور کوشش کر کے اپنے ہدف کو حاصل کیا، اب جب بھی حفصہ فیاض سامنے آتی ہیں تو فورا سے پہلے خیال آتا ہے کہ نیکی اور بالخصوص وہ جو انسانیت کے کام آئے، تو اللہ یقینا مدد کرتا ہے، اب یہ آپ پر ہے کہ آپ کا ہدف اپنی ذات ہے یا اجتماعیت۔

کامیابی کے لیے ”نیکی اور عزم“ کا ملاپ یقینا کامیابی لاتا ہے، ایسی کامیابی جس میں مشکلات کم اور آسانی زیادہ ہوتی ہے اور خود بخود منزل ملتی ہے ۔
میرا مشاہدہ تو یہی ہے، آپ کویقین نہیں تو آزما کر دیکھ لیں۔

Comments

ساجد ناموس

ساجد ناموس

ساجد ناموس دشتِ صحافت کے سیاح ہیں۔ دنیا نیوز سے بطور اسائنمنٹ ایڈیٹر وابستہ ہیں۔ جامعہ پنجاب کے شعبہ ابلاغ عامہ کے گریجویٹ سیاسی میدان کی خاک بھی چھانتے رہے۔ کاٹ دار جملے اور نوک دار الفاظ تحریر کا خاصہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */