پدماوتی کے ”نگہبان“ - ریحان خان

معروف فلم ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی ان دنوں خبروں میں ہیں۔ تاریخی حقائق پر مبنی فلم ”پدماوتی“ کی شوٹنگ کے دوران جے پور میں فلم کے سیٹ پر کٹر نظریات رکھنے والی تنظیم ”ہندو کرنی سینا“ نے توڑ پھوڑ مچانے بعد سجنے لیلا بھنسالی پر تھپڑوں کی برسات کردی۔ تنظیم کے کارکنان نے فلم کے عملے کو بھی دھمکیاں دیں۔ ہندو کرنی سینا اس بات پر مشتعل تھی کہ اپنی فلم میں سنجے لیلا بھنسالی رانی پدماوتی کے تعلقات کو مسلم بادشاہ علاؤالدین خلجی سے کیوں ظاہر کر رہے ہیں۔ حالانکہ پدماوتی اور خلجی کے تعلقات ایک تسلیم شدہ تاریخی حقیقت ہیں۔ اس سے قبل بھی ایک اور فلم ہدایت کار اسوتوش گواریکر کو اپنی فلم ”جودھا اکبر“ کی شوٹنگ کے دوران اس قسم کے واقعات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ حالانہ پدماوتی اور خلجی کی طرح ہی جودھا اور اکبر کا رشتہ بھی ایک تسلیم شدہ تاریخی حقیقت ہے۔ جسے عوام کے اذہان سے حذف کرنا انتہائی مشکل ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ معروف فلم ادکار اور مودی بھکت انوپم کھیر نے سنجے لیلا بھنسالی پر ہوئے حملے پر افسوس ظاہر کیا ہے اور اس کی مذمت بھی کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی انوپم ان افراد سے ناراض بھی ہیں جو سنجے لیلا بھنسالی پر ہوئے حملے کو فرقہ پرستی کے زمرے میں شمار کرتے ہیں۔ انوپم کے لئے یہ حملہ ایک چلتے کی چیز ہے جسے شاید وہ عزت و وقار کی جنگ سمجھتے ہیں۔

کیا پردہ سیمیں پر پدماوتی اور جودھا کے رشتے خلجی و اکبر سے پیش کرنے پر چراغ پا ہو جانا فرقہ پرستی نہیں ہے؟ کیا وہ لوگ جو مر کھپ گئے، جن کی ہڈیاں سرمہ بن گئیں، ان کے نام پر کسی زندہ و جاوید انسان پر تھپڑوں اور گھونسوں کی برسات محض اس لیے کردینا کہ وہ اپنی فلم میں ایک ہندو رانی کا رشتہ جو تاریخی طور پر حقیقت ہے پیش کرنا چاہتا ہے، فرقہ پرستی نہیں ہے؟ کیا ہندو کرنی سینا کی بنیاد ایک ذات اور فرقہ کے نام پر نہیں رکھی گئی ہے؟ بالکل رکھی گئی ہے، ہندو کرنی سینا ایک ذات کے نام پر بنائی گئی تنظیم ہے جو یہ دعوی کرتی ہے کہ وہ ذات پات کے خاتمے کیلئے کام کرتی ہے۔

ہندو کرنی سینا کی یہ حرکت ایک بزدلانہ کاروائی سے ذیادہ اہمیت نہیں رکھتی جو جبر و استبداد کے بل بوتے عوام الناس کے ذہنوں سے تاریخی حقیقت محو کرنا چاہتی ہے۔ معروف تاریخ داں محترمہ رومیلا تھاپر بھی یہ بات تسلیم کرتی ہیں کہ دائیں بازو کی انتہا پسند جماعتیں اپنی من مانی تاریخ عوام پر تھوپنا چاہتی ہیں۔ لیکن تاریخ بہت تلخ اور ستم ظریف ہوتی ہے۔ اور اس تلخ حقیقت کو کون جھٹلا سکتا ہے کہ راجپوتوں نے اپنی عورتوں کا استعمال خطے کی سیاسی بساط مہروں کی مانند کیا ہے۔ تاکہ ان کی ریاستوں میں امن و امان برقرار رہے، ان کی جاگیریں اور املاک محفوظ رہیں۔ اور یہ سیاسی معاہدے کی شکل کی شادیاں راجپوتوں نے صرف مغلوں سے نہیں بلکہ دوسری ریاستوں کے غیر مسلم راجاؤں کے ساتھ بھی کی ہیں۔ اپنی بیٹیاں بیاہ کر اپنی حکومت کو استحکام دیا ہے۔ لیکن آج کا راجپوت لہو صرف خلجی اور اکبر کے نام سن کر ہی جوش مارتا ہے۔ جودھا کے ساتھ اکبر کا نام سن کر ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔ قتیل شفائی کہتے ہیں۔
جب بھی آتا ہے ترا نام مرے نام کے ساتھ
جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں

ان تاریخی حقائق پر مبنی فلمیں سچ میں جھوٹ کی آمیزش بنام فکشن کے ساتھ پہلے بھی بنتی رہی ہیں اور عوام نے انہیں قبول بھی کیا ہے۔ جودھا اکبر پر تنازعات اٹھے تھے لیکن اس وقت مرکز میں کانگریس کی حکومت تھی اس لئے اسوتوش گواریگر پر حملہ نہیں ہوئے۔ لیکن اب سیاں بھئے کوتوال کی مانند مرکز میں نریندر مودی سرکار ہے جس سے شرپسندوں، شدت پسندوں اور کٹر پنتھیوں کے حوصلے اتنے بلند ہوئے کہ وہ سنجے لیلا بھنسالی کو تھپڑ مارنے لگے۔ اس فرقہ پرستی پر مبنی واقعہ کو انوپم کھیر چلتے کی چیز قرار دے رہے ہیں۔ انوپم کھیر جیسے افراد کی وجہ سے ہی "سیکولر بالی ووڈ" بھی دائیں اور بائیں قسم کے دو گروہ میں تقسیم ہوتا جارہا ہے۔ گزشتہ دنوں عدم روادری پر کرن راؤ کا عامر خان کو ہندوستان چھوڑ دینے کے مشورے پر جہاں سارا بالی ووڈ عامر کے ساتھ کھڑا تھا وہیں اکیلے انوپم تھے جو عامر کی مخالفت کررہے تھے۔ عامر نے کچھ غلط بھی نہیں کہا تھا۔ پھر اپنی فلموں میں پاکستانی ادکاروں کو شامل کرنے پر کرن جوہر اور شاہ رخ خان تنقید کا نشانہ بنے۔ اپنی حق گوئی کی بناء پر فرقہ پرستوں کی آنکھوں میں کھٹکنے والے آنجہانی اوم پوری بھی تنقیدوں کا ہدف بنتے رہے۔ انوپم کھیر کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ان کی بحیثیت انوپم کھیر شناخت فلم دنیا سے وابستہ ہے۔ ہر معاملے پر وہ اپنا مضحکہ خیز موقف پیش کرکے وہ ریل لائف کامیڈین سے ریئل لائف کامیڈین بنتے جارہے ہیں۔ مودی آج ہیں کل نہیں ہونگے۔ بالی ووڈ آج بھی ہے اور کل بھی ہوگی اور اسی بالی ووڈ سے انوپم کا بقیہ ماندہ مستقبل وابستہ ہے۔