زندگی میں رابطہ اور ضابطہ کیوں ضروری ہے؟ غلام نبی مدنی

آپ چند دوستوں کے ہمراہ گاڑی میں سوار ہوتے ہیں، کنڈیکٹر آپ سے کرایہ مانگتا ہے۔ آپ سب دوستوں کی طرف سے کرایہ ادا کر دیتے ہیں۔ بعد میں آپ دوستوں سے ان کے حصے کا کرایہ لینے سے شرماتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف دل بار بار آپ کو جھنجھوڑتا ہے کہ اتنی شوخی دکھانے کی کیا ضرورت تھی، اب خرچ کیے گئے پیسے واپس کیوں نہیں لیتے۔سوچیے! اس وقت آدمی کس طرح کے خیالات اور وساوس میں کھویا رہتاہے؟

روزمرہ زندگی میں ہم میں سے ہرکسی کو اس طرح کے واقعات سے گزرنا پڑتا ہے، کبھی ایک ساتھ سفر کرنا، کبھی دوستوں کے ساتھ مل کرہوٹلنگ کرنا، کبھی شاپنگ کے لیے اکٹھے نکلنا، تقریباً اکثر لوگوں کو ان حالات سے واسطہ پڑتا رہتا ہے۔ دیکھاجائے تو پیسہ کسی کا دوست نہیں ہوتا، امیر ہو یاغریب ہر کسی کو جیب سے نکلے ہوئے پیسے کا احساس ہوتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کسی کا دل حاتم طائی جیسا ہوتا ہے تو کوئی اشعب طامع جیساحریص ہوتاہے۔ بہرحال ہر انسان کو پیسے کے خرچ کا احساس ضرور ہوتا ہے۔ انسان اپنی ذات کے علاوہ دوسروں پر خرچ کیے گئے مال پر ضرور سوچتا ہے۔ یہ سوچ انسان کے تعلق کے بنا پر مختلف ہوتی ہے۔ اگر اس نے خوش دلی سے دوستوں پر پیسہ خرچ کیا ہو تو وہ کبھی خرچ کیے ہوئے مال کو خاطر میں نہیں لاتا، اور اگر مجبوری یا شوخی میں حاتم طائی کی قبر پر لات مارے تو ضرور دوستوں کے بارے میں طرح طرح کے خیالات کا شکار ہوتا ہے۔ اس لیے کہ زندگی کو پرسکون بنانے اور خوامخواہ بدگمانی کے گناہ سے بچنے کے لیے ضابطے کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔ رابطے سے مجبور ہو کر خود کو پریشان نہیں کرنا چاہیے۔ ضابطہ اگر کہتا ہے اکٹھے سفر کرنے والے تمام دوست برابر کرایہ دیں، یا ایک ساتھ مل کر کھانا کھانے والے برابر پیمنٹ کریں، تو ضرور اس ضابطہ پر عمل کرنا چاہیے، رابطہ میں رہ کر دوسروں کی خوشامد کی خاطر خود کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے، خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو کا قرآنی فلسفہ یہی حکم دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   دینی مدارس اور روزگار کا مسئلہ - محمد عرفان ندیم

یہی عادت دوسروں کی مدد اور اپنی ضروریات کے وقت اپنانی چاہیے۔ کئی بار دیکھا گیا کہ انسان دوسروں کی مدد کی خاطر خود کو مشقت میں ڈال لیتا ہے۔ اپنے پاس کھانے یا ضروریات کے پیسے نہیں ہوتے، لیکن شرما شرمی میں اور دوسرے کے سامنے عزت رکھنے کے لیے قرض خواہ کو انکار نہیں کرتا اور اسے قرض دے دیتا ہے۔ بعد میں اپنے لیے دوسروں سے قرضہ مانگنا پڑتا ہے۔ خود داری اور عزت واقعی محترم شے ہے۔ لیکن اس کے لیے خود کو خوامخواہ میں پریشان کرنا عقلمندی ہے، نہ دانش مندی۔ ہمارے معاشرے میں عام طور پر شادیوں کے مواقع پر لوگوں کو خوامخواہ پریشان ہوتا دیکھا گیا ہے۔ شادی بیاہ میں بےجا اور فضول اخراجات کی خاطر لاکھوں روپے قرضے اٹھائے جاتے ہیں، اپنی جائیدادوں کو فروخت کیا جاتا ہے، سود پر قرضے تک لیے جاتے ہیں۔ لیکن اتنا کچھ کرنے کے باوجود بہت سے لوگ شادی میں اعتراض کرتے پائے جاتے ہیں، اجی! کھانا اچھا نہیں تھا۔ شادی میں فلاں چیز نہیں تھی۔ جہیز میں بیٹی کو فلاں چیز نہیں دی گئی۔ جن کے لیے مشقت اٹھائی ان کے منہ سے یہ سن کر انسان کے ہوش اڑ جاتے ہیں۔ اس لیے اسلام کا فلسفہ یہی ہے کہ فضول خرچی نہ کرو، دکھاوے کے لیے کوئی کام نہ کرو، ہر کام کے وقت نیت اچھی رکھو۔

آج ہمارے ہاں شادی بیاہ اور دیگر معاملات اس لیے مشکل ہوگئے کہ ہم نے اسلام کوصرف نماز، روزے تک محدود کر لیا۔ زندگی کے عام معاملات میں اسلام کو بالکل ترک کر دیا۔ حالانکہ اسلام عبادات سے زیادہ معاملات پر زور دیتا ہے۔ معاملات بھی عبادات کی ایک قسم ہیں۔ معاملات میں تجارتی معاملات انتہائی اہم ہیں، جس پر نہ صرف انسان کی زندگی کا دارومدار ہے، بلکہ عبادات کی قبولیت میں تجارتی معاملات کو اہم دخل ہے۔ علماء کرام نے دعاؤں کی قبولیت میں رزق ِحلال کو شرط بتایا ہے لیکن آج مسلمانوں نے تجارت کو یا تو اتنی اہمیت نہیں دی یا دی ہے تو حلال و حرام کے فرق کو مٹا کر رکھ دیا ہے۔ دنیا کے بڑے تاجروں میں یہودی سرفہرست ہیں۔ یہی چند لاکھ یہودی دنیا کی سیاست اور معیشت پر غالب ہیں۔ مکہ اور مدینہ جہاں سے رسول اللہ علیہ و سلم نے یہودیوں کو نکال دیا تھا، آج وہاں ان کے بڑے بڑے ہوٹلز اور تجارتی مراکز ہیں۔ جو براہ راست یا تو ان کی ملکیت ہیں یا پھر بالواسطہ ان کے ساتھ منسلک ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہودیوں کا تجارت کو ایمان سے زیادہ درجہ دینا اور اس میں جان سے بڑھ کر محنت کرنا ہے۔ ہمارے ہاں اولاً تجارت کو اہمیت نہیں دی جاتی، اگر دی جاتی ہے تو ایک دوسرے کو دھوکہ دینے، ملاوٹ کرنے یا حسد ایسی بیماریوں کے ذریعے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ نتیجتاً مسلمان اس پائے کے تاجر نہیں بن پاتے، جس سے بین الاقوامی معیشت پر اثرانداز ہوسکیں یا وہاں اپنا نام کما سکیں۔ اس لیے سب سے پہلے ہمیں اپنے معاملات کو درست کرنا ہوگا۔ اخلاقی طور پر خود کو سنوارنا ہوگا۔ رابطے اور ضابطے کے تحت ایک دوسرے کے ساتھ معاملات طے کرنے ہوں گے۔ ضرورت مندوں کی مدد بھی کرنا ہوگی، لیکن ساتھ میں اپنا خیال بھی رکھنا ہوگا۔ محض اپنی عزت یاناک رکھنے کی غرض سے خود کو بےجا پریشان کرنے سے بچانا ہوگا۔ اس سے نہ صرف زندگی پرسکون ہوجائے گی، بلکہ معاشرے میں باہمی احترام کی روش بھی عام ہوگی۔ اس سلسلے میں علماء کرام کو منبر و محراب سے معاملات پر وعظ و نصیحت کو عام کرنا ہوگا۔ حلال تجارت کے لیے لوگوں کو تیار کرنا ہوگا۔ اخلاقی اور معاشرتی اقدار سنوارنے کے لیے لوگوں میں بھرپور محنت کرنا ہوگی ۔سچی بات یہ ہے کہ علماء کرام ہی لوگوں کو اچھے تاجر اور غالب مسلمان بنا سکتے ہیں۔

Comments

غلام نبی مدنی

غلام نبی مدنی

غلام نبی مدنی مدینہ منورہ میں مقیم ہیں، ایم اے اسلامیات اور ماس کمیونیکیشن میں گریجوایٹ ہیں۔ 2011 سے قومی اخبارات میں معاشرتی، قومی اور بین الاقوامی ایشوز پر کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کے لیے خصوصی بلاگ اور رپورٹ بھی لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.