بی جے پی کا مفت انٹرنیٹ! ریحان خان

کچھ ماہ قبل ملک میں بینکوں کے باہر لمبی لمبی قطاریں لگی ہوئی تھیں۔ ان قطاروں میں کچھ وہ لوگ کھڑے تھے جو اس سے قبل ریلائنس کی جیو سم کے لئے قطار میں لگنے کا تجربہ رکھتے تھے۔ جیو سم کے لئے لائن میں لگنا ان کی ضرورت تھی اور بنکوں کی لائن میں لگنے میں ضرورت کے ساتھ 'افتاد' کا عنصر بھی شامل تھا۔ نوٹ بندی کی افتاد کو عوام نے جھیلا تھا اور جیو کی ضرورت کو تسلیم کیا تھا۔

پھر اتر پردیش کا سیاسی ماحول گرم ہوا۔ تمام پارٹیوں کے بعد بی جے پی نے بھی اپنا انتخابی منشور جاری کردیا۔ بی جے پی کے مینی فیسٹو میں کوئی نئی بات نہیں پیش کی گئی سوائے اس کے کہ امت شاہ نے نوجوانوں کو مفت ایک جی بی انٹرنیٹ ڈیٹا دینے کا وعدہ کیا ہے۔ لیکن انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ ڈیٹا کب سے کب تک دیا جائیگا۔ اور سیاسی ماہرین کے مانیں تو دیا بھی جائیگا یا نہیں اس کا علم کسی کو نہیں۔ کیونکہ یہ وعدہ اسی بی جے پی کا ہے جو 1992 کے بعد سے تقریباً ہر انتخابی منشور میں تعمیرِ رام مندر کا وعدہ کرتے ہوئے برادران وطن کو رجھانے کی کوشش کرتی رہی ہے لیکن دن بدن یہ وعدہ بھی برادران وطن کے لئے اپنی دلفریبی کھوتا جارہا ہے۔ جو پختہ فکر ووٹرس ہیںمن ہ تو اس وعدے زیر اثر اب ووٹنگ نہیں کرینگے۔ لیکن ملک کے اور یوپی کے رائے دہندگان کی ایک بڑی تعداد نوجوانوں پر مشتمل ہے۔

رام مندر اور مفت انٹرنیٹ ڈیٹا کا وعدہ ان نوجوانوں کو راغب کرسکتا ہے۔ ویسے بھی ملک کا نوجوان مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے لاشعوری طور پر مایوس ہوچکا ہے۔ اگر انہیں ماہانہ مفت ایک جی بی انٹرنیٹ بھی حکومت سے مل جائے تو وہ اسے غنیمت سمجھیں گے۔ لیکن اس وعدے کو پایہ تکمیل تک کس طرح پہنچایا جائیگا امت شاہ نے اس کا ذکر نہیں کیا۔ ملک میں کم و بیش درجن بھر موبائل کمپنیاں ہیں اور انک کروڑوں یوزرس ہیں۔ جو حکومت نقلی کرنسی پر کنٹرول نہیں رکھ سکتی وہ ان کمپنیوں کے کروڑوں یوزرس پر کس طرح اپنا وعدہ وفا کریگی۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر، مصالحت نہیں عمران خان دھماکہ کریں - محمد عبداللہ گل

جیو کے امبانی اور نریندر مودی کی قربتیں جگ ظاہر ہیں۔ لیکن جس طرح امبانی کے جیو کے لیے لوگ قطاروں میں بخوشی کھڑے ہوئے تھے، وہ نریندر مودی کی نوٹ بندی کے لیے بحالت مجبوری لمبی قطاروں کا حصّہ بنیں گے۔ اس بات کا ادراک نریندر مودی اور امت شاہ کو ہے اس لئے وہ چاہتے ہیں کہ یوپی اسمبلی الیکشن میں ووٹنگ کی لئے لگ رہی قطاروں میں بی جے پی کی فتح کے لئے ملک کا نوجوان بخوشی قطار میں اسی طرح کھڑا ہو جس طرح جیو سم کے لئے کھڑا ہوا تھا۔ لیکن وہ تصویر کا یہ رخ فراموش کردیتے ہیں کہ امبانی سے ملک کی عوام کو توقعات وابستہ نہیں تھیں۔ عوام نے اسے ووٹ دے کر اس کے موجودہ مقام تک نہیں پہنچایا تھا۔ امبانی آج جس مقام پر ہے اسے اس نے اپنی صلاحیتوں کی بناء پر بغیر کسی عوامی سپورٹ کے حاصل کیا ہے۔ جبکہ نریندر مودی احمدآباد کی سڑکوں پر چائے بیچنے والے دامودر کے بیٹے سے ملک کی وزاعت عظمی کی مسند تک پہنچنے کیلئے ہر قدم پر عوامی تعاؤن کے محتاج رہے ہیں۔ عوام نے انہیں گجرات کی وزارت اعلی سونپی، کانگریس کے کرتوتوں سے بیزار عوام کو نریندر مودی بہتر متبادل نظر آئے تو انہیں وزارتِ عظمی بھی سونپ دی گئی۔ ترقی کے ان مدارج پر عوام کی توقعات ان سے وابستہ ہیں جسے صرف اتوار کے روز "من کی بات" کرکے پورا نہیں کیا جا سکتا اور نا ہی ایک جی بی انٹرنیٹ ڈیٹا فری دے کر اپنی ذمّہ داریاں نبھائی جا سکتی ہیں۔

(اداریہ جنگ جدید، نئی دہلی)