جو ڈر گیا وہ مر گیا - احسن سرفراز

ان دنوں میں واٹر فلٹریشن پلانٹس کی مارکیٹنگ کے شعبے سے وابستہ تھا. عملی زندگی کا آغاز تھا، اپنی کمائی سے بھی نیا نیا آشنا ہوا تھا، تب ہم دوستوں نے مہینے میں ایک آدھ بار رات کا کھانا باہر کھانے اور ساتھ میں کوئی فلم سینما میں دیکھنے کی روایت پال لی تھی۔ اسی روایت کو نبھانے کے لیے ”جو ڈر گیا وہ مر گیا“ نامی پاکستانی فلم دیکھ کر ہم چار دوست دو موٹر سائیکلوں پر سوار رات تقریباً 12 یا 1 کے قریب ایچی سن کالج کی پشت پر واقع ٹھنڈی سڑک کے ساتھ ہی ریلوے کالونی سے گذر رہے تھے کہ اچانک ایک منظر دیکھا کہ ایک کرولا گاڑی اور ایک رکشہ سائیڈ بہ سائیڈ یوں جارہے ہیں جیسے فلموں میں دو متحارب گاڑیاں ٹکراتی ہوئی جاتی ہیں۔ اچانک رکشے والا بریک لگاتا ہے اور رکشے سے ایک دوشیزہ کوئی 17 یا 18 کے لگ بھگ سفید فراک نما لباس میں ملبوس اتر کر چیختی ہوئی بھاگتی ہے کہ مجھے بچا لیں، مجھے بچا لیں۔

اس سارے منظر اور لڑکی کے لباس کو دیکھ کر پہلے تو ہمیں یوں لگا کہ شاید کسی فلم کی شوٹنگ ہو رہی ہے لیکن جب دائیں بائیں نظر دوڑائی تو سڑک دور دور تک سنسان نظر آئی اور کوئی ذی روح نظر نہ آیا۔ ہم نے اپنی موٹر سائیکلیں فوراً روک لیں، لڑکی ہانپتی کانپتی ہمارے پاس رک گئی، اتنی دیر میں رکشے والا بھی رکشہ موڑ کر ہمارے پاس لے آیا جبکہ کار آگے نکل گئی۔ لڑکی بہت گھبرائی ہوئی تھی اور اس کا سفید رنگ ڈر کے مارے زرد پڑ چکا تھا. خوف کے مارے ہکلاتی ہوئی وہ بولی کہ بھائی میں محفل تھیٹر میں کام کرتی ہوں، اور شو کے بعد اکثر کپڑے بدل کر ہی گھر آتی ہوں، لیکن آج ذرا جلدی میں تھیٹر والا لباس پہنے ہی آگئی تو یہ غنڈے میرے پیچھے لگ گئے، اور یہاں سنسان جگہ دیکھ کر زبردستی میرا رکشہ روکنا چاہتے تھے. رکشے والے نے بھی لڑکی کی بات کی تصدیق کی اور بتایا کہ میں ہر روز باجی کو لے کر آتا ہوں۔ ابھی ہم یہ داستان سن ہی رہے تھے کہ اچانک وہی گاڑی سامنے سے آتی ہوئی نظر آئی. ڈرائیونگ سیٹ پر ایک شخص براجمان تھا، جبکہ ساتھ والی سیٹ پر ایک دوسرا آدمی بیٹھا تھا، ڈرائیور نے اچانک اپنا ہاتھ گاڑی کی کھڑکی سے عمودی رخ میں باہر نکالا تو اس کے ہاتھ میں سیاہ رنگ کا ایک ریوالور چمک رہا تھا اور اس نے دھائیں دھائیں دھائیں تین ہوائی فائر داغ دیے. گاڑی نے چرچراتے ٹائروں کے ساتھ ہماری موٹر سائیکلوں کے بالکل قریب بریک لگائی اور دوسری سیٹ پربیٹھا ہوا ایک 40 یا 45 سال کا نیم گنجا آدمی ہاتھ میں اس وقت کامشہور زمانہ موٹرولا الٹرا سلیک موبائل سیٹ لیے اور سونے کا بریسلٹ پہنے ہماری طرف بڑھا اور بجائے ہم سے مخاطب ہونے کے رکشے والے کے منہ پر ایک تھپڑ جڑ دیا کہ تم ہماری گاڑی کو سائیڈیں مار رہے تھے۔ لڑکی کا خوف کے مارے برا حال تھا اور وہ ہماری آڑ لے کر چھپنے کی کوشش کر رہی تھی. اب عجیب صورتحال تھی، ایک فرد سٹارٹ گاڑی میں ریوالور ہاتھ میں لیے موجود تھا جبکہ دوسرا بات کو گھماتے ہوئے ہماری استقامت کا امتحان لے رہا تھا۔

میں نے صورتحال کو بھانپتے ہوئے کہ اگر انھوں نے ہم سے الجھنا ہوتا تو یہ براہ راست ہم سے مخاطب ہوتے لیکن یہ صرف ہمیں ڈرا کر بھگاناچاہتے تھے اور اب ہماری استقامت دیکھ کر بات کو ٹال رہے ہیں. میں آگے بڑھا اور اس نیم گنجے سے مخاطب ہو کر کہا کہ بھائی جان! آپ تو شریف آدمی ہیں یہ رکشے والے ہوتے ہی ان پڑھ ہیں، آپ جائیں ہم اس کی چھترول خود کر دیں گے۔ اب میں تو ان کو محض یہ پیغام دینا چاہتا تھا کہ ہم بھی تم سے الجھنا نہیں چاہتے، یہ بات یہیں ختم کرو اور اپنا رستہ ناپو لیکن لڑکی میری بات سن کر ڈر کے مارے اچانک بھاگ کھڑی ہوئی، میں فوراً چلایا اور اپنے ایک دوست کو کہا کہ لڑکی کو بائیک پر بٹھاؤ اور نکلو. وہ دوست فوراً موٹر سائیکل سٹارٹ کر کے لڑکی کے پیچھے لپکا اور اسے کہا کہ بہن آپ گھبرائیں مت، ہم آپ کے ساتھ ہیں اور فوراً میری موٹر سائیکل پر بیٹھیں، لڑکی نے آخری چارہ دیکھتے ہوئے اس کی بات مان لی۔ ہم دوستوں نے فوراً دوسری موٹر سائیکل سٹارٹ کی اور اس پر بیٹھ کر لڑکی والی موٹر سائیکل کی طرف لپکے، ہماری موٹر سائیکلیں ہوا سے باتیں کر رہی تھیں اور ہم نے پیچھے مڑ کر دیکھا تک نہیں کہ اگر ایسا کیا تو شاید پتھر کے نہ ہو جائیں۔ کافی آگے جاکر ہم نے بائیکس روکیں اور مڑ کر دیکھا تو سڑک دور دور تک صاف دکھائی دی، جبکہ غنڈوں کی گاڑی شاید ہماری مخالف سمت میں اپنی راہ لے چکی تھی۔ ہم نے سکھ کا سانس لیتے ہوئے اللہ کا شکر ادا کیا اور لڑکی سے اس کی رہائش کا پتہ پوچھ کر جو کہ وہیں ریلوے کے ایک چھوٹے سے کوارٹر پر مشتمل تھی، پہنچا دیا۔

لڑکی نے انتہائی ممنونیت کے عالم میں ہمارا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اللہ نے آپ لوگوں کو میرے لیے فرشتہ بنا کر بھیجا، اگر آپ لوگ نہ ہوتے تو پتہ نہیں یہ غنڈے میرے ساتھ کیا کچھ کر جاتے۔ لڑکی نے مزید بتایا کہ اس کا باپ فوت ہوچکا ہے اور باقی بہن بھائی چھوٹے ہیں اور باپ کے بعد گھر کے گزر بسر کے لیے مجبوراً ڈراموں میں کام کرنا پڑتا ہے۔ ہم نے لڑکی کو تسلی دی اور کہا کہ وہ ہماری بہنوں جیسی ہے اور جو کچھ ہوا اس میں ہم لوگوں کا کوئی کمال نہیں بلکہ محض اللہ کا فضل ہے۔

آج بھی جب یہ واقعہ یاد آتا ہے تو ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی سی دوڑ جاتی ہے، ساتھ ہی ساتھ جب بھی میں کسی لڑکی کو عملی زندگی میں تھوڑے جدید حلیے میں کام کرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ ہم لوگ فوراً سے پہلے کسی کے ظاہری حلیے پر نظر ڈال کر اس کے متعلق غلط رائے قائم کر لیتے ہیں اور ہوس کے پجاری اسے آسان شکار جان کر فوراً بھوکے بھیڑیے بن جاتے ہیں۔ کیا ہم نے کبھی ان سرخی غازہ لگے چہروں کے پیچھے چھپے کرب کو پہچانا، ان کی ان مجبوریوں سے آگاہی چاہی جس کی وجہ سے وہ گھر کا محفوظ ماحول چھوڑ کر یوں شمع محفل بننے پر مجبور ہوئیں؟

قرآن پاک میں ارشاد باری تعالی ہے کہ ”ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا، پھر اسے ہم نے الٹا پھیر کر سب نیچوں سے نیچ کر دیا، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے کہ ان کے لیے کبھی نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔“ (سورہ التین، آیت 4 تا 6)

اللہ ہم سب کو اشرف المخلوقات کے اپنے درجے کو پہچانتے ہوئے بہترین انسان بننے کی توفیق عطا فرمائے اور دکھی انسانیت کے دکھ بڑھانے کے بجائے اسے بانٹنے والا بنائے۔ آمین

Comments

احسن سرفراز

احسن سرفراز

احسن سرفراز لاہور کے رہائشی ہیں. سیاست اور دیگر سماجی موضوعات دلچسپی کا باعث ہیں. ان کے خیال میں وہ سب کی طرح اپنے رب کی بہترین تخلیق ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ رب کی تخلیق کا بھرم قائم رہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com