مذاق کرنا منع ہے - حنا تحسین طالب

ضروری تو نہیں ہے کہ ہر معاملے میں محض دو اطراف ہوں، فریقین میں سے کوئی ایک بالکل صحیح اور دوسرا مکمل طور پر غلط ہو. کچھ معاملات میں، خود کو حق پر سمجھنے کے باوجود نظرثانی کی اور اصلاح کی ضرورت رہتی ہے.

میں کسی کا مذاق اڑانے کو غلط سمجھتی ہوں، کیونکہ یہ دین کی رو سے غلط ہے، اب خواہ کسی کی بات کتنی ہی حقیقی اور فائدہ مند کیوں نہ ہو مگر اس طرز عمل کے ساتھ، وہ ”بذات خود“ حق پر نہیں ہوتا. اور اس کا یہ طرز عمل، ایک معتدل مزاج شخص کے دل میں حق و درست بات کے بارے میں بھی شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے کہ داعی حق کسی کا تمسخر نہیں اڑا سکتا، کسی کی تحقیر نہیں کرسکتا، خصوصا جب وہ کسی کو گمراہ سمجھتا ہو، تب تو اس کے دل میں اسے راہ راست پر لانے کی ایسی تڑپ جاگ اٹھتی ہے، گویا کہ وہ اس کے غم میں خود کو ہلاک کرلے گا.

دین سراسر خیر خواہی کا نام ہے تو کیسے ممکن ہے کہ ہم دین اسلام کو دین حق مانیں، اس پر فخر کریں مگر عملی طور پر اس کے اہم اخلاقی اصولوں کو فراموش کر دیں. خیر امت کا لقب محض ایک پیدائشی اعزاز نہیں ہے، کہ ہم کچھ کیے بنا ہی نسلی تفاخر میں مبتلا رہیں. اس کی کچھ شرائط ہیں..
1- وہ امت جو لوگوں کے فائدے کے لیے نکالی گئی
2- امر بالمعرف کرنے والی
3- برائی سے روکنے والی
4- اور اللہ پر ایمان رکھنے والی
گویا اس لقب کو پانے کے لیے یہ اعمال ناگزیر ہیں.

بات کا مقصد یہ ہے کہ ایک مسلم ہر ایک کا خیرخواہ ہوتا ہے، ہر ایک کو بلاتفریق، اس کی ذات سے فائدہ پہنچتا ہے، اور ایک خیرخواہ کبھی اصلاح کے لیے مذاق کا طریقہ اختیار کر ہی نہیں سکتا، اس عمل کی تو سورہ الحجرات میں واضح ممانعت فرمائی گئی کہ کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے. اس کے علاوہ احادیث میں بھی اس کی ممانعت آئی کہ کوئی کسی کا مذاق نہ اڑائے، کیونکہ یہ طرزعمل ظاہر کرتا ہے کہ دل میں مدعو کے لیے محبت و عزت نہیں ہے.

کثرت مذاق تو قریبی دوستوں میں بھی لڑائی کا سبب بن جاتا ہے، کیونکہ تمسخر، دل میں کینے کا سبب بنتا ہے اور پھر نفرت و دشمنی کی شکل اختیار کرلیتا ہے، اور ایک سچا مصلح اس کا متحمل نہیں ہو سکتا.

اپنے اندر کے چور کو پہچانیں، کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے رہیں اور شیطان ہمارے اس عمل پر خوبصورت ملمع سازی کرکے ہمیں مرنے تک اسی خوش فہمی میں مبتلا رکھے اور ہم اللہ کے حضور اس حال میں پیش ہوں کہ ہمارا نام اللہ کی طرف بلانے والوں کے بجائے، اس کے راستے سے روکنے والوں کے دفتر میں درج ہو.

Comments

حنا تحسین طالب

حنا تحسین طالب

حنا تحسین طالب کا تعلق کراچی سے ہے۔ درس و تدریس کے شعبے سے وابسته ہیں۔ بنیادی طور پر سپیکر ہیں اور اسی کو خاص صلاحیت سمجھتی ہیں۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.