امریکہ کبھی سیکولرلبرل ریاست ہوا کرتا تھا - ڈاکٹر غیث المعرفہ

امریکہ بدل چکا ہے، کچھ لوگ تبدیلی کی اس داستان کو ٹرمپ کی تقریبِ حلف برداری سے شروع کریں گے اور کچھ اس صدارتی الیکشن کے پولنگ ڈے سے تجزیوں میں شامل کریں گے۔ لیکن کثیرانسانی خیالات میں تبدیلی ایک شب کا قصہ نہیں۔ پولنگ ڈے تو اس کے اظہار کا دن تھا اور ٹرمپ کا کرسیِ صدارت پر بیٹھنا پہلا قدم۔ جہاں تک بات ٹرمپ کی ہے اس پر بہت کچھ لکھا بھی جا چکا، لکھا جا بھی رہا اور قدم قدم پر لکھا جاتا بھی رہے گا۔ سردست آخر یہ تبدیلی ہے کیا؟ مختصراً امریکہ کی اکثریت نے سیکولرازم کے درس کو پاؤں کی ٹھوکر مارتے ہوئے ایک ایسے شخص کا چناؤ کیا جو نسلی امتیازات، عدم برداشت اور عدم رواداری پر یقین رکھتا ہے، یہ محض اکثریت کی بھول چوک سے رونما ہونے والا واقعہ نہیں، نہ کسی غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ بلکہ یہ فیصلہ لمبے صدارتی عمل سے گزر کر سامنے آیا ہے۔

امریکی اکثریت کی طرف سے نسلی امتیازات، عدم برداشت اور عدم رواداری کے حق میں ووٹ ڈالنے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن نتیجہ ایک ہی ہے کہ سیکولر ریاست اور لبرل نظام جو اپنا مقدمہ ہی نسلی امتیازات کے خاتمے، برابری، برداشت اور رواداری پر کھڑا کرتے ہیں، وہ اپنی جدید تاریخ میں غیرمتنازعہ غلبے کے باوجود اس قابل نہیں ہو سکا کہ ملک کی بڑی تعداد کے اندر یہ صفات پیدا کر دے۔ یہ سوال غور طلب ہے کہ آخر ایک سیکولر لبرل ریاست اپنی عوام سے ایسے فاسد مادے کیوں ختم نہیں کر سکے یا ناکام رہے ہیں۔ یہ سوال یہیں نہیں رکتا بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر پوچھتا ہے کہ آخر ایک سیکولر لبرل ریاست جو مذہبی آزادی کے تحفظ کی ضمانت دیتی ہے آج اس کے تحفظ میں کیوں ناکام ہو رہی ہے؟

ان سوالات کے مفصل جوابات کے لیے درجنوں صفحات لکھے جا سکتے ہیں اور دو طرفہ زاویہِ نگاہ سے انہیں پرکھا جا سکتا ہے، لیکن مختصراً جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں

سیکولر لبرل ریاست یا افراد:
صدارتی انتخابات کے نتائج اور تقریب حلف برداری کے بعدمسلسل نفرت، عدم برداشت، عدم رواداری، نسلی امتیازات اور جبر و خوف کا ماحول پیدا ہو جانا، ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ جس ریاست کی برتری کی مثالیں دی جاتی تھیں وہ کسی نظام پر کھڑی تھی یا افراد کے سہارے چل رہی تھی۔ ٹرمپ کی آمد کے ساتھ زمین پر ابھرنے والے حالات و واقعات یہ عندیہ دیتے ہیں نظام کے بجائے افراد ہی ایسی قوت تھے جو ریاست کو سہارا دئیے ہوئے تھے، جیسے ہی یہ مخصوص خیالات رکھنے والا گروہ ناکام ہوا، نظام کی بیساکھیاں ریاست کا بوجھ سنبھالنے سے انکار کر رہی ہیں۔یا بے بس نظر آ رہی ہیں۔ عدالتی حکم اہمیت کا حامل ہے لیکن آگے چل کر ہمیں دیکھنا ہو گا کہ وہ نظام کو کیسے بچا پاتا ہے۔اور سماج میں پیدا ہونے والے بگاڑ کو کیسے درست کر پاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   امن کے متلاشی - انیلہ افضال

سیکولرازم کی مذہبی آزادی : قانونی اور سیاسی نعرہ؟
حقیقت ہے کہ سیکولر قوانین اور لبرلرازم کی آزادیوں کی حیثیت قانونی اور سیاسی ہے، سماجی نہیں۔ مذہبی آزادی بارے بھی اس کا مطالبہ سماج سے نہیں قانون سے ہوتا ہے کہ وہ مختلف مذہبی گروہوں کو آزادی نہ صرف فراہم کرے بلکہ تحفظ بھی دے۔ہمارے لیے اگرچہ ٹرمپ کی آمد اہم ہے لیکن کہیں اس سے زیادہ اہم سماج کا اکثریتی رویہ ہے جس نے ایسے شخص کو منتخب کیا ہے۔یہ اس بات کی تصدیق ہے کہ سیکولرازم کی دی گئی مذہبی آزادی محض قانونی اور سیاسی نعرے کے سوا کچھ نہیں جو معاشرتی رویہ کو سیکولرائز کرنے میں ناکام رہی ہے۔

لبرل ازم فلسفہ: غیر موثر نظریہ
یہ امر واقعہ ہے کہ سیکولر اور لبرل ادارے امریکہ کی اکثریت کو سنبھالنے میں ناکام ہوئے ہیں وہ انہیں تباہی پر ٹھپا لگانے سے نہیں روک پائے۔ میڈیا جو لبرل ازم کی فرنٹ آرمی ہے بُری طرح ناکام ہوئی ہے۔ یہ لبرل ازم کے بنیادی فلسفے کا لازمی نتیجہ ہے.

انفرایت پسندی لبرل ازم کی سب سے بڑی اکائی ہے جو کہتی ہے کہ انسان اپنا کام کرنے میں خود پسند ہے (خود غرض کا لفظ زیادہ موزوں تھا لیکن احتراماً اسے نہیں لکھا گیا) اور وہ صرف خود اپنے بارے میں بہتر جان کاری رکھتا ہے۔ انفرادیت پسندی یہ بھی کہتی ہے کہ ایک انسان کو اپنے فیصلے کرنے کے لیے اکیلا چھوڑ دینا چاہیے اس سے نہ صرف وہ بہتر فیصلہ کر سکتا ہے بلکہ اس کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے اس میں کسی بھی قسم کی دخل اندازی اس کی صلاحیت کو کمزور کرتی ہے اس نظریے کی بنیاد میں یہ بات موجود ہے کہ انسان صاحب عقل ہے وہ اپنے لیے اچھا سوچ سکتا ہے، سوچ سکتا ہے کہ اسے کس چیز کی ضرورت نہیں اور کونسی چیز اس کے لیے سودمند نہیں ٹھہر سکتی آج انسان کی ان صلاحیتوں نے خود لبرل ازم کو ڈس لیا ہے امریکیوں کی اکثریت نے فیصلہ سازی میں خود سیکولر لبرل اداروں اور ترجمانوں کے اثرات کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے ٹرمپ کے حق میں ووٹ دئیے۔

یہ بھی پڑھیں:   مودی ٹرمپ کا جشن "فتح کشمیر" اور ہماری "خوابوں کی دنیا" - محمد عاصم حفیظ

ہمیں دیکھنا ہو گا کہ مستقبل میں سیکولر اور لبرل نظریات ان مسائل پر کیسے قابو پاتے ہیں یا یہ رجحان عالمگیر رخ اختیار کر کے ان پیشین گوئیوں کو پورا کر دے گا جن میں اس صدی کو "اینڈ آف سیکولرازم" کہا جا رہا تھا۔ حالیہ ایگزیکٹو آرڈرز سے ایسے محسوس ہو رہا ہے جیسے ٹرمپ کو اپنے ووٹرز سے کیے گئے وعدے پورا کرنے کی بہت جلدی ہے۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جو اس نے کہا وہی کرنے جا رہا ہے لیکن اس کے پاس چار سال ہیں وہ اطمینان اور سکون سے اُن وعدوں کو پورا کر سکتا ہے شاید اسے احساس ہے کہ وہ کئی وجوہات سے اپنی مدتِ صدارت مکمل نہیں پائے گا یا پھر دو سال بعد کانگریس میں تبدیلی واقع ہو جائے گی جس کے بعد مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔دو سال بعد جائے یا چار سال بعد ٹرمپ کے جانے کے بعد بھی ان سوالات کی اہمیت کم نہیں ہو پائے گی کیونکہ ان کا تعلق ٹرمپ سے نہیں امریکی اکثریتی سماج اور دو جدید نظریات کے مستقبل سے ہے۔