کیا پریشانی اللہ کا امتحان ہوتی ہے؟ مجیب الحق حقی

اس نے کہا کہ جناب سب خیر ہے، بس دعا کریں کہ اللہ اپنے امتحان سے محفوظ رکھے۔
میں نے اس سے پوچھا کہ اللہ کا امتحان کیا ہوتا ہے؟
وہ بولا جناب سادہ سی بات ہے کہ کوئی بھی پریشانی اللہ کا امتحان ہوتی ہے۔
میں نے اس سے کہا کہ بس مشکلات اور پریشانیاں ہی اللہ کا امتحان ہے؟
اس نے کہا یہی میری سمجھ میں آتا ہے، اگر کچھ اور ہے تو آپ بتائیں۔
میں نے اس پر کہا کہ صبح سوکر اُٹھنے سے لے کر رات سونے تک ہمارا امتحان ہو رہا ہوتا ہے۔

اس نے حیران ہوکر پوچھا، وہ کیسے؟
میں نے کہا کہ حقوق العباد ہر وقت جاری رہنے والا امتحان ہے۔ اللہ کا یہ ایسا امتحان ہے جو دو طرفہ ہوتا ہے۔ دو افراد کا کسی معاملے میں عمل اور ردّ عمل ہی ان دونوں کا امتحان ہوتا ہے۔ ہمارے رشتے، معاملات اور تعلقات ہی تو ہمارا امتحان ہیں۔ ہر جاگتا انسان حالت امتحان میں ہوتا ہے لیکن عام طور پر ہمیں اس کا احساس نہیں ہوتا۔ سب سے پہلی امتحان گاہ گھر ہے، مختلف معاملات میں گھر والوں سے ہمارا حسن ِسلوک یا بدسلوکی اس امتحان میں ہم کو پاس یا فیل کرتی ہے۔ مثلاً بیوی اگر بیمار ہے تو اس کا بروقت علاج نہیں کرایا تو اس کی حق تلفی کی، یعنی بیوی، بچّوں، ماں باپ کی کفالت اور دیکھ بھال جو ہم پر لازم ہیں، ان کی ادائیگی میں تساہل یا غفلت ہمیں اس امتحان میں فیل کرتی ہے۔ ناشتے کھانے میں دیر پر بیوی پر غصہ کرنا، ہمّت سے زیادہ کام کرانا، بچوں کو بلاوجہ مارنا، غرض کسی بھی باہمی صورتحال میں مقابل انسان کو ہماری ذات سے پہنچنے والی ہر تکلیف یا آرام، اس امتحان میں ہمارے گریڈ کا تعیّن کرتا ہے۔ اگر احسن طریقے سے ہر حق ادا کیا اور معاملات میں نرمی، عفو و درگزر سے کام لیا تو اعلیٰ گریڈ کہیں نہیں گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   اپنا آپ اللہ کو سونپ دو - قراۃ العین اشرف

شوہر اور بیوی، والدین اور اولاد، مالک اور ملازم، گاہگ اور دکاندار، پڑوسی اور محلّے دار، استاد اور شاگرد، مسافر اور کنڈکٹر، ڈاکٹر اور مریض، ساس اور بہو، نند اور بھاوج، دیورانی اور جیٹھانی، بھیا اور بھائی جان اور دوسرے بے شمار تعلّق اور معاملات جن سے ہمارا سابقہ پڑتا ہے دراصل ہر دو فریق کا امتحان ہوتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں یا حق تلفی کرتے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر معاملات میں ایثار، قربانی اور درگزر اور معافی سے کتنا کام لیتے ہیں۔ ملازم کی حرام خوری، رشوت اور تساہلی یا محنت، ایمانداری اس کا امتحانی نتیجہ مرتّب کرتے ہیں۔

اس نے کہا جناب بات تو صحیح لگتی ہے لیکن کبھی ایسا سوچا ہی نہیں۔
میں نے اسے بتایا کہ بھائی مجھے بھی کبھی خیال نہیں آ یاتھا، وہ تو ایک بزرگ نے سمجھایا تو سوچا کہ بات آگے بڑھا دوں۔
اس نے کہا جناب ہے تو مشکل کام لیکن میں بھی اس کا خیال رکھنے کی کوشش کروں گا۔
میں نے کہا بے شک بہت مشکل ہے ناممکن نہیں، بس ایک ذمّہ دار بندہ بننا پڑتا ہے جس کو اپنے فرائض کا ادراک اور احساس ہو۔ انجانے میں ہم نہ جانے کتنے امتحانات میں فیل ہورہے ہوتے ہیں جس کا احساس نہیں ہوتا۔
اگر اس امتحان کا احساس اور مناسب اثر ہوجائے تو ساس بہو، نند بھاوج کے گھریلو جھگڑے بہت کم ہوجائیں۔ آفس میں پالیٹکس کم ہو جائے، معاشرے میں اُخوّت و محبت اور سدھار آجائے۔
میں نے یہی بات کچھ اور لوگوں سے پوچھی تو سب کا یہی خیال تھا کہ پریشانی اور مصیبت ہی اللہ کا امتحان ہوتی ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟

Comments

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقّی پی آئی اے کے ریٹائرڈ آفیسر ہیں۔ اسلام اور جدید نظریات کے تقابل پر نظر ڈالتی کتاب Understanding The Divine Whispers کے مصنّف ہیں۔ اس کتاب کی اردو تشریح " خدائی سرگوشیاں اوجدید نظریاتی اشکال " کے نام سے زیر تدوین ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.